ان افراد کو کٹہرے میں لایا جنہیں بلانے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، چیئرمین نیب

86

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اولین ترجیج اور نیب پہلی بار ان افراد کو کٹہرے میں لایا جنہیں بلانے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ 

 

قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ گزشتہ 4 سال کے دوران بدعنوان عناصرسے 539 ارب روپے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور پروصول کئے اور نیب مقدمات سزا کی شرح 66 فیصد ہے،اکتوبر 2017 سے30ستمبر 2021 تک 4 سالوں کے دوران نیب نے539 ارب بدعنوان عناصر سے وصول کئے ہیں، جبکہ قومی احتساب بیورو منی لانڈرنگ، آمدنی سے زائد اثاثے اور میگاکرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہے۔

 

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب نے نیب آرڈیننس 1999 کی شق 16 اے کے تحت معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی جلد سماعت کے لئے درخواستں دینے کافیصلہ کیا ہے، نیب کو اپنے قیام سے اب تک 4 لاکھ 96 ہزار 460 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 4 لاکھ 87ہزار 124 شکایات کو نمٹایا گیا۔

 

نیب کے چیئرمین نے مزید کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے اپنے قومی فرض کو انجام دیتا رہے گا، نیب منی لانڈرنگ، آمدنی سے زائد اثاثے اور میگاکرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہے،179میگاکرپشن کیسزمیں سے66میگاکرپشن مقدمات کومنطقی انجام تک پہنچایا گیا جبکہ 93 میگا کرپشن کیسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

 

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے 4 ہزار 654 انویسٹی گیشن کی منظوری دی جن میں سے 4 ہزار 358 انویسٹی گیشن کو مکمل کیاگیا، نیب نے اپنے قیام سے اب تک بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر819 ارب روپے وصول کیے،اس عرصہ کے دوران مختلف احتساب عدالتوں میں 3 ہزار 754 بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے،اس وقت نیب کے 1277 بدعنوانی کے ریفرنسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت 1335.019 ارب روپے بنتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ نیب نے 16 ہزار 93 شکایات کی جانچ پڑتال کی منظوری دی ہے جبکہ 15 ہزار 378 شکایات کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی،نیب نے 10 ہزار 241 انکوائری کی منظوری دی جن میں سے 9275 کو مکمل کیا گیا۔

 

تبصرے بند ہیں.