امریکی کانگریس پر حملے میں ملوث ٹرمپ کے حمایتی کو قید کی سزا

49

واشنگٹن: امریکی کانگریس پر حملے میں ملوث شخص کو تین سال پانچ ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فیڈرل جج نے جیکب چانسلی کو کانگریس پر حملہ کرنے اور توڑ پھوڑ کے جرم میں ساڑھے تین سال پانچ ماہ قید کی سزا سنائی۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد ٹرمپ کے انتہا پسند حامیوں نے چھ جنوری کو امریکی کانگریس پر دھاوا بول دیا تھا جس میں سینگھوں والی ٹوپی پہنے جیکب چانسلی پیش پیش تھا۔

پراسیکیوٹر نے جیکب چانسلی کو 51 ماہ قید کی سزا دینے کی استدعا کی تھی۔ کار سرکار میں مداخلت ثابت ہونے پر جیکب چانسلی کو 41 ماہ کی سزا سنائی۔ جیکب نے کانگریس پر حملے کو غلطی تسلیم کرتے ہوئے ندامت کا اظہار کیا تھا۔

قبل ازیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر پر کیپٹل ہل پر حملہ کی تحقیقاتی کانگریس کمیٹی کے سامنے گواہی دینے سے انکار پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ 67 سالہ اسٹیو بینن پر پیشی کو نظر انداز اور کمیٹی کو دستاویزات فراہم نہ کرنے کے دو الزامات عائد کیے گئے تھے اور ہر الزام کی سزا ایک ماہ سے ایک سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

کمیٹی نے 67 سالہ بینن کو 23 ستمبر کو طلب کیا تھا وہ ان درجنوں لوگوں میں سے پہلے تھے جنہیں کانگریس کو بند کرنے کے لیے پرتشدد حملے کی گواہی دینے کے لیے بلایا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ایک سابق مکسڈ مارشل آرٹسٹ کو حملے کے دوران ایک پولیس افسر کو مکا مارنے پر 41 مہینوں کی سزا سنائی گئی تھی۔ خیال ریے کیپٹل حملہ میں متعدد افراد اور ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ 6 جنوری کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی عمارت پر ہونے والے حملے میں نہ صرف امریکی جمہوریت کی تضحیک کی گئی بلکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد ہلاک بھی ہوئے۔ حملے کے بعد کیپٹل ہل کی عمارت کو مقفل کر دیا گیا تھا اور نائب صدر مائیک پینس اور قانون سازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے بعد پولیس مظاہرین کے سامنے آ کھڑی ہوئی، نیشنل گارڈ کے دستے تعینات کر دیئے گئے تھے اور شام کے فوراً بعد ہی شہر بھر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی پر 50 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔

تبصرے بند ہیں.