ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر اتنی خوشیاں کیوں؟

18

پاکستان میں کرپشن تو اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ اگر کسی روز اس کو کوئی قانونی حیثیت دے دی جائے تو کوئی اچنبے کی بات نہ ہو گی۔ یہاں بات سیاسی حکومتوں، ڈکٹیٹر شپ یا نگران سیٹ اپ کی نہیں نہ ہی سیاستدانوں یا افسر شاہی کی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس کو جتنا موقع ملا اس نے اتنا ہی اس ملک کو لوٹا ہے۔

آج جبکہ ملک میں الیکشن مہم اپنے زوروں پر ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ تمام ہی سیاسی پارٹیاں جو ماضی میں کسی نہ کسی طور حکومت میں رہی ہیں آج بھی کوئی جامع معاشی پروگرام دینے کے بجائے صرف اور صرف الزام تراشی کی بنیاد پر اپنی سیاسی دکانداری چمکا نے میں مصروف ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اس بات کا جواب دینے کے لیے تیار نہیںہے کہ عوام تو بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تو پھر یہ اربوں کھربوں کے غیرملکی قرضے کہاں چلے گئے اور سڑکوں پر چلنے والی یہ کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں، بنگلہ نما بڑے بڑے گھر، مہنگے ترین شاپنگ مالز کی رونقیںاور جا بجا غیر ملکی دوروں کے لیے وسائل کہاں سے آ رہے ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) کی گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے کرپشن کنٹرول کے حوالے سے کچھ ترقی کی ہے اور کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) میں اس کی رینکنگ سات درجے بڑھ گئی ہے۔ یعنی گزشتہ برس بدعنوان ترین ممالک میں 180 ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 140واں تھا جو رواں برس بہتر ہو کر 133 ہو گیا ہے۔
مجھے تو اس صورتحال پر خوشیاں منانے کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی لیکن پھر بھی کچھ لوگ، بالخصوص پاکستان مسلم لیگ (نواز) بطور ایک سیاسی پارٹی تو اس صورتحال پر خوشی سے نہال نظر آتی ہے۔ اگر الیکشن سٹرٹیجی کے حوالہ سے دیکھا جائے تو اس معاملہ پر خوشیاں منانے میں کوئی حرج بھی نہیں، لیکن اگر حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھا جائے تو آج بھی یہ انتہائی شرمندگی کی بات ہے کہ دنیا کے 180ممالک میں سے 132 ہم سے کم کرپٹ اور بدعنوان ہیں۔ ہاں البتہ اس رپورٹ میں ایک بات ایسی ضرور ہے جو دل کو سکون اور روح کو اطمننان بخشتی ہے اور وہ ہے کہ پڑوسی ملک بھارت اس نئی درجہ بندی میں نیچے گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے اس رپورٹ کی روشنی میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو بدعنوان اور کرپٹ کہنے کو اگر درست مان بھی لیا جائے تو کیا اس کہ ساتھ یہ بھی سمجھا جائے کہ 132 ممالک سے زیادہ کرپٹ ہونا بڑے فخر کی بات ہے؟ واضح رہے کہ اسی رپورٹ کے مطابق ڈنمارک اس سال لگاتار چھٹی مرتبہ دنیا کا سب سے کم کرپٹ ملک قرار پایا ہے جبکہ فن لینڈ اور نیوزی لینڈ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ ان کی تو خیر بات ہی چھوڑیں ، پاکستان کو تو شائد صومالیہ، وینزویلا، شام ، جنوبی سوڈان اور یمن کی پوزیشن سے کچھ حوصلہ ملتا ہو۔

بات اگر پاکستان میں کرپشن کی کی جائے تو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (TIP) کے مطابق عدلیہ کو پاکستان کے کرپٹ ترین تین اداروں میں شامل کیا گیا ہے۔

پولیس سب سے زیادہ کرپٹ ہے، اس کے بعد ٹینڈرنگ اور ٹھیکیداری اور عدلیہ ہے۔ تعلیم اور صحت کے محکموں کو کرپٹ ترین اداروں میں چوتھے اور پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ، لینڈ ایڈمنسٹریشن اور کسٹمز، ایکسائز اور انکم ٹیکس کو چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نمبر پر کرپٹ ترین قرار دیا گیا ہے۔

ایک سروے کے مطابق پاکستانی عوام سے جب کرپشن کو کنٹرول کرنے اور بدعنوانی کو روکنے کے اقدامات سے متعلق بات کی گئی توان کہنا تھا کہ حکومت کو فوری طور پر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سیاسی قیادت اور سرکاری افسران کے اثاثے ان کی ویب سائٹ پر ظاہر کیے جائیں، احتساب عدالتیں 30 دنوں کے اندر بدعنوانی کے مقدمات نمٹائیں۔ ان کایقین تھا کہ کرپشن پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اگر آج بھی موثر انداز میں کرپشن کو کنٹرول کر لیا جائے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ کرپشن ہمارے کچھ سیاستدانوں اور سرکاری افسروں کی جیبیں تو ضرور بھردیتی ہے لیکن اس کے نتیجہ میں معاشرے کی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ آ جاتی ہے، عوامی فنڈز کا رخ صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے جیسے ضروری شعبوں سے ہٹ جاتا ہے۔اور جب عوامی بھلائی کے لیے دستیاب وسائل کو غبن، رشوت یا کک بیکس کے ذریعے چھین لیا جائے تو اس کا براہ راست شکار عام شہری ہوتے ہیں جو عوامی خدمات پر انحصار کرتے ہیں۔

اس وقت فنڈز کی کمی کا شکار سکول، خستہ حال صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات، اور تباہ حال انفراسٹرکچر عوام کے لیے تلخ حقیقت بن چکے ہیں کیونکہ بدعنوانی ملک کی اہم ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت کو روک رہی ہے۔اور ہماری سیاسی پارٹیوں نے اس تمام صورتحال کا حل یہ نکالا ہے کہ ایک دوسرے پر جم کر بہتان تراشی کی جائے اور اسی طرز عمل سے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا ئے رکھی جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ دوسروں پر کرپشن کا بہتان لگانے والی سیاسی پارٹیاں خود ہی اس گند میں لتھڑی ہوئی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تیزی سے ترقی کرتا ہوا یہ ملک آج ڈیفالٹ کے دھانے پر نہ کھڑا ہوتا اور یہاں غربت، بے روزگاری، کرپشن اور لاقانونیت اپنے عروج پر نہ ہوتی۔

تبصرے بند ہیں.