پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا 

262

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے 186 ارکان کی حمایت کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے اور یوں وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر براجمان رہیں گے۔ اپوزیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کی کارروائی کے دوران ’ڈاکو، ڈاکو‘ کے نعرے لگائے اور قرارداد کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھالتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ 
تفصیلات کے مطابق سپیکر سبطین خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے احتجاج اور شور شرابے کے دوران میاں اسلم اقبال اور راجہ بشارت کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے اعتماد کے ووٹ کیلئے قرارداد پیش کی گئی۔ 
وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کئے جانے پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا اور بتایا گیا ہے کہ اس دوران ایوان میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ اپوزیشن نے قرارداد کی کاپیاں پھاڑ کر اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ 
بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کیلئے رائے شماری ہوئی جس کے بعد گنتی کا عمل مکمل کیا گیا اور سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اعلان کیا کہ چوہدری پرویز الٰہی نے 186 ووٹ حاصل کر لئے اور یوں انہیں اعتماد کا ووٹ مل گیا ہے۔ سپیکر نتائج کی کاپی گورنر اور عدالت کو بھیجیں گے۔ 
واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 12 بج کر 5 منٹ تک ملتوی کیا گیا تھا اور وقفے کے بعد ہنگامہ خیز اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ایوان میں ڈرامائی صورتحال دیکھنے کو ملی۔ 11 جنوری کی تاریخ ختم ہوتے ہی پنجاب اسمبلی اجلاس بھی ختم ہو گیا اور 12 جنوری کی تاریخ میں نئے اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا گیا۔ 
نئے ایجنڈے میں وزیراعلیٰ پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا ذکر کیا گیا اور بعد ازاں میاں اسلم اقبال اور راجہ بشارت کی جانب سے ایوان میں اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کی گئی۔ 
ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں حکومتی اتحاد کے 172جبکہ اپوزیشن اتحاد کے 154ارکان موجود ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی بھی اسمبلی پہنچ موجود ہیں۔ 
دوسری جانب صوبائی وزیر میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ ہم وزیراعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کرنے جا رہے ہیں اور ایوان میں ہمارے 187 ارکان موجود ہیں، ایک نوٹس دے کر اعتماد کیلئے رائے شماری کرائیں گے 
واضح رہے کہ کچھ دیر قبل وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور (ق) لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا جس میں ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ 
دوسری جانب ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم کا کہنا ہے کہ کہا جا رہا تھا ہمارے پاس نمبرز پورے نہیں، آج ہم نے اپنے نمبرز پورے ظاہر کر دئیے ہیں، ہم نے سوچا ان کو آج نمبرز پورے کر کے دکھاتے ہیں، حافظ عمار یاسر ایوان میں آ گئے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ آج قرارداد بھی آ سکتی ہے کہ پورا ایوان وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے تاہم متوقع قرارداد اعتماد کے ووٹ کی کارروائی نہیں ہو گی البتہ قرارداد کے ذریعے ارکان کو گنا جا سکتا ہے۔ 
ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم کا مزید کہنا ہے کہ اگر 186 سے زائد ارکان قرارداد میں گن لئے گئے تو وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد تو مل جائے گا جبکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس ایک اور سرپرائز ہے۔ 

تبصرے بند ہیں.