طالبان حکومت کا اعلان اور تحفظات

59

طالبان نے عبوری حکومت میں کئی ایسے چہروں کو اہم حیثیت دی ہے جو پہلے بھی حکومت میں شامل رہ چکے ہیں اِس کا مطلب ہے کہ چند مصلحتوں کے باوجود طالبان بددستور اپنی سوچ کے مقید ہیں ملا ہبت اللہ کو امیر المومنین کا منصب ملا ہے لیکن کچھ ایسی شخصیات کو بھی کلیدی عہدے سونپے گئے ہیں جن پر امریکہ کو تحفظات ہیں جبکہ مذہبی گروہ بندی کے حوالے سے سختی جنرل قاسم سلیمانی کی کاوشوں سے قائم ایران اور طالبان کے قریبی روابط کو غیر ہموار کر سکتی ہے ایک بات واضح ہے کہ طالبان نے فیصلے کرتے ہوئے کسی بیرونی طاقت کی ہدایات یا احکامات کو اہمیت نہیں دی بلکہ تمام فیصلے آزادانہ مرضی سے کیے ہیں جس سے بھارت جیسے ممالک کی طرف سے بنائے اِس تاثر کی کچھ حد تک نفی ہوئی ہے کہ طالبان کسی ایک ملک یا خطے میں بننے والے کئی ممالک پر مشتمل بلاک کے زیرِ اثر ہیںمگر اب بھی حقانی نیٹ ورک کے سراج حقانی کو نئی حکومت میں شامل کرنے اور وادی پنج شیرکے بارے سخت فیصلوں سے امریکہ اور ایران کے تحفظات غیر متوقع نہیں کیونکہ حقانی نیٹ ورک کوہنوز یو این او اور امریکہ نے دہشت گردوں کی لسٹ سے خارج نہیں کیااِس لیے ممکن ہے کابینہ کے کچھ چہروں پر تنقید یا مذمت ہو علاوہ ازیں نئی کابینہ میں کسی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی خاتون کو آئندہ وزارت دینے کاعندیہ دیا گیا ہے جس پر خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں خفگی کا اظہار کر سکتی ہیں عبوری حکومت کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے اعتماد سے مترشح ہے کہ وہ کسی کی سننے کی بجائے صرف اپنی سنانا پسند کریں گے ۔
افغانستان میں نئی حکومت کا اعلان ہونے کے باجود بدامنی کے خدشات کم یا ختم نہیں ہوئے بلکہ معاشی بدحالی کے خطرات بھی منڈلانے لگے ہیں بے یقینی کی فضاسے طالبان پر سیاسی دبائو میں اضافہ ہوگااِس میں شائبہ نہیں کہ ملک کے تمام حصوں پر طالبان کا کنٹرول ہے وادی پنج شیر سے جنم لینے والی بغاوت کا خاتمہ ہو چکا ہے پھر بھی سیاسی مطلع صاف نہیں گرد آلودہے ثبوت مخالفانہ آوازیں اُٹھنا ہیں چاہے شرکا کی تعدادچند درجن یعنی محدود ہی سہی خواتین نے کابل میں احتجاجی مظاہر ہ کیا ہے نیز احمد ولی مسعود نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہم زخمی ضرور ہوئے ہیں ابھی مرے نہیں اور یہ کہ اب بھی ہمارے پاس ہزاروں جنگجو موجود ہیں جو کسی بھی وقت وادی میں واپس آسکتے ہیں چاہے قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود کے چچا احمد ولی مسعود کی شخصیت اب زیادہ اہم نہیں رہی مگروہ احمد شاہ مسعود کے بھائی ہیں جنھوں نے سوویت قبضے اور طالبان کے اقتدار کی مخالفت کی جن کے قتل کا القائدہ پر الزام ہے یہ اِ کا دُکا اُٹھنے والی مخالفانہ آوازیں ظاہر کرتی ہیں کہ طالبان کے لیے چیلنجز کم ضرورہوئے ہیں بالکل ختم نہیں ۔
حامد کرزئی سے لیکر اشرف غنی حکومت الزام لگاتی رہی ہیں کہ افغانستان کے معاملات میں پاکستان مداخلت کا مرتکب ہوتا ہے اِس تاثر کو پختہ کرنے میں بھارت اور امریکہ نے ہمیشہ معاونت کی اب بھی کچھ چہرے اِس تاثر کو تقویت دینے کی کوشش میں ہیں حالانکہ پاکستان ایک سے زائد بار تردید کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں اُس کا کوئی ایک فریق پسندیدہ نہیں بلکہ وہ محفوظ اورخوشحال افغانستان پر یقین رکھتا ہے لیکن کچھ مخصوص گروہ پاکستانی موقف کی نفی کرتے ہیں حالانکہ افغانوں کے ساتھ پاکستانیوں نے بھی جانی و مالی نقصان اُٹھایا ہے اسی لیے پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ افغانستان میں بدامنی کا خاتمہ ہومگر کچھ بیرونی قوتیں افغانستان کوچین کے تعاون سے کاروباری مرکز بنتا نہیں دیکھنا چاہتیں کابل میں ہونے والے مظاہرے اِس بات کی تائید ہیں تاکہ چین کا کردار محدود ہو اور پاک افغان تعلقات بھی غیر متوازن رہیں حالانکہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واشگاف اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی مداخلت کا پروپیگنڈہ غلط ہے ہمارے معاملات میں کسی کا دخل نہیں انھوں نے تو یہ چیلنج بھی کیا ہے کہ کوئی ثابت کر ے،ہم نے اسلام آباد کو فائدہ اور کبھی افغانستان کو نقصان پہنچایا ہے مگر باتیں بنانے والے خاموش نہیں ہو رہے بلکہ بضد ہیں کہ طالبان دراصل پاکستان کی پراکسی ہیں عبوری حکومت کے اعلان سے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کی کابل آمد کو بھی اسی تناظر میں دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ پاکستان نے غیر ملکیوں کے انخلا میں جتنا بھرپور تعاون کیا ہے وہ اُس کی غیر جانبداری کی تصدیق ہے مگرچند مخصوص ممالک کی طرف سے تحفظات کا اظہار ختم نہیں ہو رہا۔
کچھ ممالک کے تحفظات کے اظہار کے باوجود کچھ ممالک کی کوشش ہے کہ جلد از جلد افغانستان میں مستقل امن ہو تاکہ خطے میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہو سکے چین ،پاکستان ،روس اور وسطی ایشیا کی ریاستیں اِس حوالے سے پیش پیش ہیں مگر عبوری حکومت تسلیم کرنے پر محتاط ہیں یہاں تک کہ ترکی بھی خاص جوش وخروش کا مظاہرہ نہیں کر رہاحالانکہ کابل ائرپورٹ کورواں رکھنے کے حوالے سے پیش پیش ہے جو کافی حیران کُن ہے جس سے اِس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ امریکی ناراضگی کا ڈر طالبان کی مدد میں رکاوٹ ہے حقانی نیٹ ورک کو عبوری حکومت میں حصہ ملنے پر تنقید اور ایران کی طرف سے پنج شیر پر قبضے کے بعد سردمہری پر مبنی رویہ اِس امر کا متقاضی ہے کہ طالبان کے پاس غلطیوں کی گنجائش نہیں انھیں فیصلے کرتے ہوئے جو ش کی بجائے ہوشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا وگرنہ عالمی تائید میں کمی آسکتی ہے جس سے افغانوں کی مشکلات کا حل نکالنے کی عالمی امدادی کاوشیں سُست روی کا شکار ہو سکتی ہیں ۔
 طالبان اپنی سوچ بدلنے کا تاثر دیتے ہیں لیکن عملی طورپرتبدیلی عنقا ہے کیونکہ دیگر نسلی گروہوں یا سیاسی قوتوں کو عبوری حکومت کا حصہ نہیں بنایا گیا اِس کی وجہ کیا ہے ؟ کیااِس لیے کہ  وقتی طور پر حکومتی امور کی انجام دہی کی بنا پر وسیع البنیاد حکومت نہیں بنائی گئی اور ممکن ہے تمام دھڑوں پر مشتمل حکومت تشکیل دینے کے لیے ابھی سوچ بچار جاری ہو یا پھر طالبان سوچ سے متفق چہروں کوہی آگے لانے کا تہیہ ہے جو بھی وجہ ہے عبوری حکومت سے دنیا کواچھا تاثرنہیں ملا بظاہر جلد ہی دیگر دھڑوں کو حکومت میں نمائندگی ملنے کا امکان ہے لیکن غیر ملکی افواج کے پشت بانوں کو ساتھ لیکر چلنا طالبان کے لیے آسان نہیں ہو گااِس کا انھیں بھی احساس ہے حامد کرزئی ائر پورٹ کانام کابل ائر پورٹ رکھنے سے سابق حکمرانوں سے طالبان کی تلخی کا تاثر ملتا ہے اگر اتفاقِ رائے سے حکومت کی تشکیل نہیں ہوتی توتحفظات رکھنے والے ممالک امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اچھی بات یہ ہے کہ طالبان نے مسلح گروہوں سے اسلحہ جمع کر نا شروع کر دیا ہے اور منشیات کی تیاری پر پابندی عائد کر دی ہے جس سے نہ صرف طاقتور گروہوں کی آمدن اور لڑائی کی صلاحیت متاثر ہو گی بلکہ بیرونی قوتوں کے تحفظات میں کمی آئے گی مگر جب تک بھارت جیسے جارحانہ عزائم رکھنے والے ممالک مداخلت کے مرتکب ہوتے رہیں گے تب تک متفقہ حکومت کی تشکیل کے باوجود امن کو متاثر کرنے والے امکانات موجود رہیں گے ۔

تبصرے بند ہیں.