کورونا کی بھارتی قسم انتہائی تیزی سے پھیلتی ہے، عوام جلد ویکسین لگوائیں: اسد عمر

184

اسلام آباد: انسداد کورونا کے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ مشترکہ حکمت عملی سے بندشیں لگائی جاتی ہیں تاکہ روزگار متاثر نہ ہو، کورونا کی بھارتی قسم انتہائی تیزی سے پھیلتی ہے، عوام جلد ویکسین لگوائیں۔ صوبوں سے مشاورت کرکے وزیراعظم کو سفارشات پیش کریں گے۔

وفاقی وزیر اسد عمر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں کورونا کیسز زیادہ نہیں ہوئے۔ ہم ٹارگٹڈ طریقے سے بندشیں لگاتے ہیں تاکہ لوگوں کو پریشانی کا زیادہ سامنا نہ ہو۔ ایسی صورتحال نہیں دیکھی جو خطے کے دیگر ممالک میں نظر آئی۔

اسد عمر نے کہا کہ کورونا صورتحال میں ایران کے بعد بھارت میں جو ہوا اسے سب نے دیکھا۔ پچھلے چند ہفتے سے بنگلا دیش اور انڈونیشیا میں بہت زیادہ حالات خراب تھے۔ افغانستان میں بھی کورونا کی وبا میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کی ویکسین پاکستان میں منگوا کر لوگوں لگوائی جا چکی ہے۔ سب سے پہلے ایک کروڑ ویکسین لوگوں کو لگائی گئی، اس ویکسین کو لگانے میں 16 دن لگے۔ 6 دن کے اندر 50 لاکھ ویکسی نیشن کی گئی۔

انہوں نے اپیل کی کہ جن لوگوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی وہ جلد سے جلد لگوائیں۔ تمام صوبوں میں ویکسین وافر مقدار میں موجود ہے،عوام ویکسین لازمی لگوائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر امیر ممالک میں مربوط نظام ہونے سے مسائل پیدا ہوئے۔ پاکستان نے جو کامیابی اپنے ہدف کو سیٹ کرنے میں حاصل کی کسی اور نے نہیں کی۔ پاکستان میں وفاق اور تمام اداروں نے مل کر کورونا کیخلاف کام کیا۔ وبا کو روکنے میں صوبوں نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔

اسد عمر نے بتایا کہ کورونا کی بھارتی قسم انتہائی تیزی سے پھیلتی ہے۔ بھارتی وائرس برطانوی وائرس سے 60 فیصد زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ تاہم ایس او پیز پر عملدرآمد کرکے کورونا سے بچاؤ ممکن ہے۔ جب گھر کے ایک فرد کو کورونا ہوتا ہے تو باقی کو بھی ہو جاتا ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے میں روزانہ 2 سے ڈھائی ہزار کیسز آ رہے تھے، چند روز میں یہ تعداد بڑھ کر 5 ہزار سے زائد مثبت کیسز میں آ گئی ہے۔ ہر روز کئی ایسے مریض ہیں جو کورونا کی وبا لے کر ہسپتالوں میں پہنچتے ہیں۔ اس وقت کورونا کی چوتھی لہر ہمارے سامنے ہے جو ہیلتھ سسٹم پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

تبصرے بند ہیں.