اسلاموفوبیا اور ہماری یونیورسٹیاں

120

 

مغرب میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پر تشدد واقعات پر پورے عالم اسلام میں تشویش پائی جاتی ہے اور اس فوبیا نے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر کچھ نہ کچھ کام ضرور ہو رہاہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت میں تیزی سے اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ خود مغرب کے دانشور سے ایک انڈسٹری کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اسے اپنی جمہوریت اور معاشروںکے لیے زہر قاتل سمجھ رہے ہیں۔ مغربی تہذیت جس نظام پر کھڑی ہے اگر اس میں اسلاموفوبیا کا عنصر شامل ہو گیا تو یورپ میں ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔کینیڈا اور امریکہ سے لے کر یہ وبا نیوزی لینڈ کے ممالک کے شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ نیوزی لینڈ اور کینیڈا نے حکومتی سطح پر جس طرح اس جن کو قابو کرنے کی کوشش کی ہے وہ لائق تحسین ہے لیکن کیا یہ بھی حقیقت نہیں ہے کہ کینیڈا کے ہی ایک وزیراعظم نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی اقدامات اٹھائے وہاں کے مختلف صوبوں میں اب بھی مسلمانوں کے خلاف ایک منصوبے کے تحت نفرت کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ اس حقیقت کو بھی کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ ان معاشروں میں میڈیا میں موجودعناصر مسلمانوں کو وحشی اور دہشت گرد ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دکھائی نہ دیے جانے والے عمل کے ذریعے ذہن سازی کی جارہی ہے اصل چیز اس مائنڈ سیٹ کو ختم کرنے کی ہے ۔ مغربی ممالک اسلامی ممالک کے مدرسوں میں پلنے والی سوچ پر تفقید کرتے ہیں لیکن کیا کبھی انہوں نے ان ـمدارس پر بھی توجہ دی ہے جو ان کے معاشروں میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ جب آپ نفرت کوپروان چڑھانے کے لیے موزوں حالات اور فضامہیاکریں گے تو پھر وہ ضرور پھل پھول دے گی اور اسکی فصل بھی آپ کو کاٹنا پڑے گی۔
اسلاموفوبیا مغرب کی پریشانی ہے لیکن یہ مسلمانوں کا بھی ایک بڑامسئلہ ہے۔ نفرت کا یہ پرچار کسی ایک اسلامی ملک کے خلاف نہیں ہو رہا بلکہ مسلمانو ں کو ایک قوم کی حیثیت سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عربی اور عجمی کی تفریق کو ختم کر کے متشدد عیسائی فرقے مسلمانوں کے خلاف ذہن سازی میں مصروف ہیں اور لگ یو ں رہا ہے کہ وہ ابھی صلیبی جنگوں کے فیز سے باہر نہیں نکلے۔ ہم اگر نہ سمجھیں تو آنکھیں بندکر کے چپ رہیں تو کیا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں بھی اس مسئلہ کی سنگینی پر سوچ بچار کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ دنوں میںاسی حوالے سے اوکاڑہ یونیورسٹی نے ایک مقامی ہوٹل میں ایک سیمینار منعقد کیا جس میں پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز حضرات اور ممتاز صحافیوں اور دانشوروں نے خلاف کیا۔مجیب الرحمن شامی، سجاد میر اور سلمان غنی نے موزوں کی مناسب سے فکر انگیز گفتگو کی اور یونیوسٹیوں کے اس عمل کو سراہا کہ وہ آنکھیں اور کان کھول کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر زکریا ذاکر ایک متحریک شخصیت کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ پبلک ریلیشنز کے فن سے بھی بحوبی واقف ہیں یہی وجہ ہے کہ پنجاب بھر میں پھیلی ہوئی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ز اس کانفرنس میں موجود تھے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نئی نسل کو تیار کرنا ہے اورعہد حاضرکے مسائل اور ضروریات کو سمجھتے ہوئے ایک اسی نسل تیار کرنا ہے جو چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔خودڈاکٹر زکریا ذاکر نے اس فوبیا کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی اور مقررین سے کہا ہے کہ وہ اس اہم مسئلہ کو حل کرنے میں اپنا بھرپورکردارادا کریں۔ اسلامو فوبیا کے جواب میں ہمارا بیانیہ تحقیق پر مبنی ہے اور نہ ہی سائنٹیفک بلکہ ہم محض الزام تراشی کر رہے ہیں جس سے مسئلہ مزید الجھتا جا رہا ہے۔اس کا مقابلہ صرف اسی صورت کیا جا سکتا ہے جب ہم اپنی نئی نسل کے ذریعے اسلا م کا اصل چہرہ دنیا کو دکھائیں گے۔ انہوںنے کہا ہے کہ ہم نے اس مکالمہ کا آغاز کیا ہے اب دوسری یونیورسٹیاں بھی اس حوالے سے آگے آ کر اس مسئلہ کی تمام جزئیات پر تحقیق کے عمل کو آگے بڑھائیں گی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس سیمینار میں ہر ایک مقرر اپنے تجربات بیان کر رہا تھا لیکن ساتھ ہی اس دکھ کا اظہار بھی کر رہا تھا کہ ہم نے اس مسئلہ کو مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغرب میں جب وہ زیر تعلیم تھے اور بعد ازاں جب جاب کرنے کے لیے اپلائی کرتے تو انہیں تعصب کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ ہے یورپ کی اصل حقیقت ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم نے دنیا کو اسلام کا ماڈل ہی پیش نہیں کیا۔ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں پر اسلام پوری طرح نافذ کیا گیا ہو ۔ طالبان نے اپنے دور میں اسے نافذکرنے کی کوشش کی تھی مگر انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ انہو ںنے کہا کہ اگر ہم دنیا کو اسلام کی آفاقی حقیقت سمجھا سکیں تو شاید دنیا ہمارے بارے میں بہتر رائے رکھے۔جھنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر نے اپنے خطاب میں اپنے تجربات کو شیئر کیا اور کہا کہ اگر پڑھے لکھے لوگ باہر کی دنیا میں جائیں گے تو وہ اسلام کے حوالے سے صحیح طور پر بتا سکیں گے۔افسوس یہ ہے کہ باہر وہ لوگ اسلام کا تصور پیش کر رہے ہیں جنہیں عصری علوم اور اسلام کے رواداری کے نظریات کا علم ہی نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر اسلاموفوبیا کو کم کرنا ہے تو اپنے طالب علموں اور اساتذہ کو دنیا کی بہترین یونیوسٹیوں میں بھیجنا ہو گا اور وہ وہاں جا کر اپنے کردار سے لوگوں کو بتا سکیں گے کہ اسلام نفرت کا نہیں محبت کا مذہب ہے۔علامہ اقبال یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضیا القیوم نے بھی اسلامو فوبیا کے حوالے سے تعلیم اور تحقیق پر زور دے کر کہا ہے کہ ان کی یونیورسٹی تین سنٹر قائم کر رہی ہے جہاں پر ڈگری دینے کے بجائے اسلام اور جدید علوم پر تحقیق کے لیے تمام تر وسائل مہیا کیے جائیں گے تاکہ دنیا کو اسلام کے حوالے سے جو معلومات درکار ہیں انہیں مل سکیں۔ انہوں نے کہا یونیورسٹیاں مل کر اس طرح کے پروگراموں کو آگے بڑھا سکتی ہیں جس سے دنیا میں امن محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جا سکے گا۔
سچی بات یہ ہے کہ اس طرح کے سیمینار سوچ کے نئے در وا کرتے ہیں اور نت نئے خیالات سے تحقیق کا عمل آگے بڑھتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسلامو فوبیا یورپ کا مسئلہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ مسلمانو ںکا مسئلہ بھی ہے۔ ان لوگوں کے آگے بند باندھنے کی ضرورت ہے جو اسلام کا غلط تصور مغربی معاشروں میں پروان چڑھا رہے ہیں۔ اس پروپیگنڈے کو صحیح معلومات کے ذریعے ہی ختم کیا سکتا ہے۔ اس سیمینار میں جو سفارشات رکھی گئی ہیں اس پر پالیسی پیپر بنا کر تمام اہم اداروںکو ارسال کیا جانا چاہیے تاکہ محض زبانی جمع خرچ کے بجائے اس پر عملدرآمد شروع ہو سکے اور اس کے لیے درکار وسائل کا سرکاری سطح پر بندوبست ہو سکے۔ زکریا ذاکر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہو ں نے اس مسئلہ کو ملک کے ان لوگوں کے سامنے رکھا ہے جنہوں نے قوم کو سوچ اور فکر رکھنے والے افراد مہیا کرنے ہیں۔ یہ کام صرف یونیورسٹیوں کا نہیں ہے  میڈیا کو بھی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر اس کام کو آگے بڑھانا ہو گا۔

تبصرے بند ہیں.