article-2305474-19291096000005DC-62_634x286 copy

نئی دہلیٟ: ھارتی سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے مسلمانوں میں طلاقِ ثلاثہ یعنی ایک نشست میں تین طلاقوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ۔یہ فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 ججز کی اکثریتی رائے کی بنیاد پر جاری کیا گیا یعنی پانچ میں سے تین ججز نے طلاقِ ثلاثہ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جبکہ دو ججز کی رائے اس سے مختلف تھی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک نشست میں تین طلاقوں کا طریقہ مسلم خواتین کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں شادی مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہے اور رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ جسٹس روہنتن نریمان، ادے للیت اور جوزف کیورائین نے طلاقِ ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیا۔ جسٹس جوزف نے ریمارکس دئیے کہ جو چیز ٟمسلمٞ عقیدے کے مطابق درست نہیں ہوسکتی اسے قانونی تحفظ بھی نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلاقِ ثلاثہ کا تصور قرآن میں موجود نہیں لہذا اس پر عملدرآمد کو مذہبی حق کے طور پر بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ جسٹس عبدالنظیر اور چیف جسٹس جے ایس کھیہر نے طلاقِ ثلاثہ کے حق میں اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *