پگھلتے گلیشیئر اورجگنو کی منتظر پینگوئین

122

تحریر: زینب وحید

علامہ محمد اقبال کی نظم "ہمدردی” میں ایک معصوم سی بُلبل اپنے گھونسلے کا راستہ بھول کر بھٹک گئی تھی۔ دن تو خیر گزر گیا مگراندھیرا ہوتے ہی وہ بہت پریشان ہوگئی۔  تھک ہار کر ایک  شجر کی ٹہنی پر گم سم اُداس جا بیٹھی کہ اتنے میں ایک جگنو اُس کی مدد کو آیا اور اپنی حفاظت میں اُسے منزل پرپہنچا دیا۔

بالکل اسی طرح براعظم انٹارکٹکا میں ایک نازک پینگوئین بچہ بھی اُداس ہے۔ گلیشیئرکے ٹوٹنے کے بعد وہ سب سے الگ اور تنہا ہوگیا ہے اور اب گلیشئیر کا یہ ٹکڑا اُسے کہیں دور لے گیا ہے جہاں سے وہ امید بھری نظروں سے ماں کو ڈھونڈ رہا ہے، مگر اُس کی ماں کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ یہ کوئی مصنوعی کہانی نہیں اور نہ ہی میں نیشنل جیو گرافک کی  ڈاکومنٹری کا منظر بیان کررہی ہوں۔ اس تلخ حقیقت کا ثبوت نیشنل سنواینڈ آئس ڈیٹا سینٹر کی وہ وارننگ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ براعظم انٹار کٹکا کی سمندری برف میں سرما کے دوران جو کمی ہوئی ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ عام طور پر ہر سال فروری کے اختتام پر جب براعظم انٹارکٹکا میں گرمیاں آتی ہیں، سمندری برف میں کمی آجاتی ہے۔ مگرسردیاں شروع ہوتے ہی برف کی تہہ پھرجم جاتی ہے۔ اس سال حیرت انگیز طور پرصورتحال مختلف اور خطرناک رہی۔

این ایس آئی ڈی ایس 45 سال سے سمندری برف کا ریکارڈ مرتب کر رہی ہے، اوراس سال کی رپورٹ تشویش ناک ہے۔ جولائی کے وسط تک انٹار کٹکا کی سمندری برف میں 26 لاکھ مربع کلومیٹر کمی ریکارڈ کی گئی، جو 1981 سے 2010 تک کی اوسط سے بہت کم ہے۔ یہ رقبہ پاکستان سے 3 گنا بڑا یا ارجنٹینا کے برابر سمجھا جا سکتا ہے۔  کچھ سائنسدانوں کے مطابق لاکھوں سال میں اس صورت حال کا امکان ایک ہی بار ہوتا ہے مگراس سال ایسا ہونا سمجھ سے باہر ہے۔ اب سائنسدان یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ایسا ہوا کیوں؟

انٹارکٹکا میں حالیہ دہائیوں کے دوران سمندری برف کی سطح میں ریکارڈ اضافے اور کمی، دونوں رجحان دیکھنے میں آئے۔ اب سائنسدانوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ ایسا عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ہو رہا ہے یا کسی اور وجہ سے؟ لیکن 2016 سے سائنسدان برف کی سطح میں کمی کے رجحان کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ کلائمٹ سائنٹسس براعظم انٹارکٹکا کی برف غائب ہونے کا ذمہ دار ماحولیاتی تبدیلی کو قرار دے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں گزشتہ 2 برسوں کے دوران ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی اور رواں سال  تو یہ رجحان بالکل ہی تبدیل ہوچکا ہے۔

سائنسنی تحقیق کے مطابق انٹار کٹیکا کے گرد تیز بھنور اور مغربی ہوائیں سمندری برف کی کمی کی بڑی وجہ ہیں۔ اور یہ ہوائیں کرہ ارض پر درجہ حرارت بڑھانے والی آلودگی سے منسلک ہیں۔  فروری 2023 میں موسم گرما کے دوران انٹار کٹیکا کی سمندری برف میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی تھی جو طویل المیعاد تبدیلیوں کا عندیہ  ہے۔

اگرچہ سمندری برف میں اس کمی سے دنیا بھر کے سمندروں کی سطح میں براہ راست اضافے کا امکان تو نہیں، لیکن بلا واسطہ اثرات مرتب ہونا بھی خارج از امکان نہیں۔ برف کی تہہ غائب ہونے پر لہریں اور گرم سمندری پانی انٹار کٹکا میں برف پگھلنے کے عمل کو مزید تیز کر دے گا۔ اسی طرح انٹار کٹیکا کی سمندری برف کرہ ارض کا درجہ حرارت بھی کنٹرول کرتی ہے، تو اگر برف میں کمی ہوئی تو تباہ کن اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین خطرات سے کرہ ارض جس قدر شدت سے متاثر ہو ر ہا ہے اور جو حالات و واقعات رونما ہو رہے ہیں، وہ سیاست دانوں کی سمجھ سے بھی بالاتر ہیں۔ وہ فی الوقت  اس عمل کو سمجھنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں کہ آیا حالیہ برسوں میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کے پس پردہ کیا عوامل ہیں؟

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ صرف 200 سال پہلے عالمی درجہ حرارت منفی 0.8 ڈگری تھا جو اب بڑھ  کر 1.2 ڈگری پر آن پہنچا ہے۔ دنیا تیزی سے 1.5 ڈگری کے خطرے کے نشان کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے بعد موسمیاتی آفات کی شدت اور کثرت کی کوئی حد نہیں ہوگی۔

 عالمی موسمیاتی ادارہ ڈبلیو ایم او پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ جولائی میں گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے  اور یہ ایک لاکھ 20 ہزار سال میں سب سے گرم ترین مہینہ تھا۔  اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس بھی دنیا پر واضح کر چکے ہیں کہ "گلوبل وارمنگ” کا دورختم اور "گلوبل بوائلنگ” کا عہد شروع ہو چکا ہے۔  صرف گزشتہ 12 سے 18 ہفتوں کا ہی جائزی لیں تو ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں قدرتی آفات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ 2023 کے مارچ اور اپریل کے دوران دنیا کے کئی ممالک میں گرمی کی شدید لہر رہی۔ ماہ جون میں سمندری طوفانوں نے دنیا کو پریشان کئے رکھا اور جون، جولائی میں سیلاب نے شہروں کا رخ کر لیا۔ صحت عامہ کے ایک عالمی جریدے کی نئی تحقیق کے مطابق عالمی حدت سے جنوبی ایشیا میں طبعی اور دیگر وجوہات کی بناء پر ہونے والی اموات معمول سے ایک لاکھ دس ہزارزائد ہوئی ہیں۔

8 ممالک پر مشتمل ڈیڑھ ارب کی آبادی والے جنوبی ایشیاء کے 75 کروڑ افراد اب تک کسی نہ کسی ماحولیاتی   آفت سے متاثر ہوچکے ہیں۔ خطے میں بے ربط ترقی جس طرح زراعت اور جنگلات اجاڑ رہی ہے، اس سے بھوک خطے کی اکثریت کا بنیادی مسئلہ بننے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

2021 میں شائع ہونے والی یونیورسٹی آف لیڈز کی اس تحقیق نے سائنسدانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی کہ ہمالیہ کے گلیشیئرز سے پگھلنے والی برف گذشتہ صدیوں کی اوسط شرح سے کم از کم 10 گنا زیادہ ہے۔ سائنسدان ماحولیاتی تباہی کی وجہ انسانوں کی سرگرمیوں کوہی سمجھتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ کوہ ہمالیہ نے ، جو پاکستان، نیپال اور بھارت جیسے ممالک کا احاطہ کرتا ہے، کئی سو سال میں اپنی 40 فیصد برف گنوادی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی سے بارشیں، خشک سالی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک میں تیزی سے عام ہو گیا ہے ۔ بین الاقوامی مرکز برائے ماحولیاتی  تبدیلی اور ترقی کے ڈائریکٹر سلیم الحق نے کہا کہ خطہ خاص طور پر جغرافیہ، آبادی اور غربت کے امتزاج کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ (سلیم الحق بہترین کلائمٹ سائنٹسٹ تھے، لیکن گذشتہ ماہ وہ انتقال کر گئے ہیں جس پر دنیا بھر کی کلائمٹ چینج کمیونٹی نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے)۔ اںہوں نے کہا تھا کہ ’’بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بارش کے بدلتے پیٹرن ، خشک سالی، سیلاب اور طوفانوں جیسے اثرات جنوبی ایشیاء کے زرعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔  2020 میں سرگرم کارکن گروپ ایکشن ایڈ نے خبردار کر دیا تھا کہ موسم کی شدت کے باعث 2050 تک خطے میں 63 ملین افراد نقل مکانی کرسکتے ہیں۔

براعظم انٹارکٹکا کے علاوہ دنیا کے دیگر خطوں پر آباد انسانوں اور حکومتوں نے کلائمٹ چینج کے اثرات روکنے کےلئے فوری اقدامات نہ کئے تو کئی معصوم پینگوئن راستہ بھٹکتے رہیں گے اور  زندگی کھو دیں گے۔ اس لئے ان پینگوئنز کا پیغام ہے

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

تبصرے بند ہیں.