شادی۔۔۔نمود و نمائش اور اسراف

10

چند دن پہلے ایک خبر میری نگاہ سے گزری۔ خبر یہ ہے کہ ”سیالکوٹ میں بیرون ملک سے آئے ایک نوجوان کی شادی پر 23 لاکھ روپے نچھاور کئے گئے۔ اس موقع پر گرم سوٹ اور موبائل بھی برسائے گئے“۔ خبر پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شادی کی دیگر تقریبات پر بھی روپیہ پانی کی طرح بہایا گیا ہو گا۔ یہ کوئی انوکھی خبر نہیں ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے ملتی جلتی خبریں اور اطلاعات روائتی اور سوشل میڈیا کے توسط سے ہم تک پہنچتی رہتی ہیں۔ چند ماہ پہلے میڈیا پر ایک شادی کا بہت چرچا تھا۔ اس شادی پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔ کھانے پینے، سجاوٹ وغیرہ پر پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا۔ ناچ گانے کی محفلیں سجائی گئیں۔ ان خبروں کے درمیان چند ایسی خبریں بھی سامنے آتی ہیں کہ فلاں جوڑے نے انتہائی سادگی سے شادی کا فریضہ سرانجام دیا۔ نکاح کی تقریب پر چند ہزار روپے خرچ ہوئے۔ ولیمہ کا کھانا یتیموں، مسکینوں میں تقسیم کیا گیا۔ جب بھی ایسی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو اس پہلو پر بحث ہونے لگتی ہے کہ شادی دھوم دھام سے ہونی چاہیے یا سادگی سے۔ اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
بلاشبہ ہر ایک کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خوشی اپنے انداز میں منائے۔ جو جس قدر صاحب استطاعت ہے، وہ شادی کے موقع پر اس حساب سے خرچ کرسکتا ہے۔لیکن سمجھنے کی بات ہے کہ ضروری اخراجات اور اسراف میں فرق ہوتا ہے۔شادی اور نکاح نہایت اہم معاملات حیات ہیں۔ سماجی اور مذہبی لحاظ سے ان کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ نکاح کی اس سے بڑھ کر اہمیت کیا ہو گی کہ اسلام میں نکاح نصف ایمان کہلاتا ہے۔ شادی سنت رسول ﷺ ہے۔ دیگر مذاہب اور معاشروں میں بھی شادی کی اہمیت مسلمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس اہم رشتے یا تقاضے کی شروعات کرتے ہوئے دکھاوے اور اسراف کی کیا ضرورت ہے؟ نکاح جیسا اہم فریضہ اگر سادگی سے سرانجام پائے تو اس میں کیا حرج ہے؟ اسلام بھی ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے۔ تلقین کرتا ہے کہ اعتدال اور میانہ روی ا ختیار کی جائے۔ اسلام میں اسراف کی ممانعت ہے۔ فضول خرچی کو شیطانی صفت قرار دیا گیا ہے۔ لہذا بطور مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور انہیں فروغ دیں۔
سماجی طور پر بھی ریا کاری اور اسراف نہایت نامناسب عادات ہیں۔ ملک کے معاشی حالات ہمارے سامنے ہیں۔ مہنگائی نے اچھے بھلوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ آئے روز یہ اعداد و شمار ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کروڑوں شہری ایسے ہیں، جنہیں پیٹ بھر روٹی میسر نہیں۔ ہر کچھ عرصہ بعد یہ خبریں بھی سنتے ہیں کہ مزید لاکھوں شہری خط غربت سے نیچے دھکیلے گئے ہیں۔ہمارے سماج میں جہیز جیسا انتہائی منفی رواج بھی موجود ہے۔ ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ہزاروں،؛لاکھوں والدین غربت کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ہر دوسرے خاندان میں کوئی نہ کوئی بچی بھاری بھرکم جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ماں باپ کے گھر بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف ایسے بھی ہیں جو شادی کی تقریبات پرکروڑوں روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ دکھاوے اور ریاکاری کی یہ عادت روز بروز جڑ پکڑ رہی ہے۔ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بہت سے گھرانوں کو شادی کی تقریبات دھوم دھام سے کرنے کے لئے بھاری بھرکم قرض لینا پڑتا ہے۔ اس کے بعد آدھی عمر اس قرض کو اتارنے میں گزر جاتی ہے۔ شادی تو چلیں ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ چند برسوں سے دیکھا گیا ہے کہ انتقال کی رسوم پر بھی لاکھوں روپے کے اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لئے یا دکھاوا کرنے کے لئے رنگ برنگے کھانے تیار ہوتے ہیں۔ ٹینٹ، کرسیاں وغیرہ لگوائی جاتی ہیں۔ اب تو انتقال کی رسوم گھروں کے بجائے ہالز میں ہونے لگی ہیں۔ خوشی کا موقع ہو یا غم کا، ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ایک مقابلے کی فضا بنتی جا رہی ہے۔
کیا ہی اچھا ہو اگر ہم زندگی کے مختلف معاملات میں سادگی کو اپنائیں۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تب بھی اسراف اور ریاکاری سے گریز کریں۔ہم سب اپنی زندگیوں میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے ارد گرد دیکھنے اور دوسروں کا دکھ درد محسوس کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ اگر ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو یقینا ہمیں کئی ایسے خاندان یا افراد دکھائی دیں گے جو اپنی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ان میں سے بہت سے ہماری مدد کے محتاج ہونگے۔ کاش ہم اپنی اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی زندگی میں آسانی لانے کی کوشش کریں۔ مختلف رسوم کے نام پر دولت لٹانے کے بجائے اللہ کی خوشنودی کے لئے اس کے بندوں کی روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کریں۔ اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تب بھی لازم ہے کہ کم از کم دکھاوے اور ریاکاری کے لئے روپیہ پیسہ لٹانے سے اجتناب کریں۔

تبصرے بند ہیں.