جنرل باجوہ کا سچ

191

ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کی باتوں میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ اس سے قطع نظر پتھر پر لکیر کی طرح سے یہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ ججوں اور جرنیلوں کا احتساب نہ ہونے کے باعث پاکستان مکمل طور پر جنجال پورہ بنا ہوا ہے۔ ایک خوش فہمی سی رہتی ہے کہ شاید اقتدار کے حقیقی مراکز میں نئے آنے والے پچھلے والوں سے بہتر ہوں مگر ایسا ہو نہیں پاتا۔ بڑی مشکل اور تگ و دو کے بعد ریٹائر کیے جانے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ہی دیکھ لیں فارغ ہونے کے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر پہنچ گئے اور ملک کے لیے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان دونوں چیفس نے مل کر ملک کے ساتھ جو کچھ کیا وہ اس قدر ہولناک ہے کہ آگے بھی اندھیرا ہی اندھیرا نظر آ رہا ہے لیکن ان کی ”استقامت“ کا اندازہ لگائیں ذرہ برابر شرمندگی بھی نہیں۔ ویسے شرمندہ تو جنرل یحییٰ اور جسٹس منیر بھی کبھی نہیں ہوئے تھے سو اس حرکت کو اس رولنگ کلاس کی روٹین ہی کہا جانا چاہیے۔ جنرل باجوہ نے اپنی امیج بلڈنگ کے لیے میڈیا کے مخصوص حلقوں کو انٹرویو اور کچھ خبریں دینے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس سے انہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا مگر عوام کو ضرور پتہ چل رہا ہے چند ہفتے پہلے تک ان کی اور ملک کی قسمت جس کے ہاتھ میں تھی اس کا لیول کیا تھا؟ اپنے لیے لکھوائے گئے ایک توصیفی کالم میں جنرل باجوہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی مستقبل کی سیاسی اور عسکری قیادت کو چین، بھارت، افغانستان، امریکہ، یو اے ای، سعودی عرب اور روس سے ڈیل کرنے کے لیے میرے مشوروں کی ضرورت پڑے گی کیونکہ میں ان ممالک کی قیادتوں سے ذاتی تعلقات بھی بنا چکا ہوں۔ یہ دعویٰ سرے سے کھوکھلا ہے کیونکہ جنرل باجوہ نے ان ممالک کے ساتھ ڈیل کرتے ہوئے جو کچھ کیا اس کا نتیجہ آج معاشی بدحالی اور سفارتی تنہائی کی شکل میں سب کے سامنے ہے۔ رہ گئی ان ممالک کی حکمران شخصیات سے ذاتی روابط کی بات تو یہ جنرل باجوہ کے نہیں بلکہ ہر اس جنرل کے ہوتے ہیں جو آرمی چیف کی حیثیت سے جی ایچ کیو میں بیٹھ کر ملک چلاتا ہے۔ سو اس حوالے سے جنرل باجوہ کا معاملہ رات گئی بات گئی زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔ اسی کالم میں جنرل باجوہ نے اپنی مالی ایمانداری ثابت کرنے کی کوشش کی مگر یہ بھی رنگ جما نہیں پائے گی کیونکہ ایسے دعوے اپنے عہدے سے فارغ ہونے والے تمام افراد ہی کرتے ہیں۔ جب ان کا احتساب ہی ممکن نہیں تو پھر دیانتداری کے دعوؤں کی ضرورت ہی کیا؟ اگر باقی سب کی طرح ججوں اور جرنیلوں کا مالی حوالے سے احتساب نیب کے سپرد کر دیا جائے تو پھر ممکن ہے کہ خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے کسی اور ہی صف میں کھڑے ہوں۔ جنرل(ر) باجوہ نے لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید سے تعلقات کو اب بھی نہایت دوستانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں مل کر عوامی ویلفیئر کا کوئی پراجیکٹ بنا رہے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ جب ان دونوں صاحبان نے ملک کے مختار کل ہوتے ہوئے عوامی فلاح کے لیے کچھ کرنے کے بجائے بائیس کروڑ عوام کی تکلیفوں میں اضافہ ہی کیا تو اب ہر طرف سے فراغت کے بعد کون سا تیر چلا لیں گے۔ بہر حال اس سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ جنرل فیض حمید بطور کور کمانڈر پشاور اور بہاولپور سیاست اور دیگر امور میں جو مداخلت کر رہے تھے وہ سب جنرل باجوہ کی مرضی بلکہ معاونت سے ہو رہا تھا۔ جنرل باجوہ نے عثمان بزدار اور شہزاد اکبر کو عمران خان کی ناکامی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ اب تو چودھری پرویز الٰہی بھی گواہی دے چکے ہیں کہ عثمان بزدار کے پیچھے جنرل فیض تھے اور نیب کو بھی وہی کنٹرول کر رہے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس تمام عمل میں جنرل باجوہ کی رضامندی شامل تھی ورنہ بزدار اور شہزاد اکبر کا اسی وقت مکو ٹھپنا چٹکیوں کا کام تھا۔ جنرل باجوہ نے یہ کہہ کر تو حد ہی کر دی کہ ایکسٹیشن لینا ان کی بڑی غلطی تھی اب تو بچہ بچہ جان چکا ہے کہ انہوں نے 2022 میں بھی آخری لمحے تک ایک اور توسیع لینے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔ مارشل لا لگانے کی دھمکی بھی دی یہ تو سیاسی قیادت تھی جو بھانپ چکی تھی کہ
باجوہ کو مزید توسیع دینا خود ادارے کے اندر بھی بے چینی پیدا کرے گا اور حالات کا جبر جنرل(ر) باجوہ کو اس مقام پر لے آیا ہے کہ اب آرمی چیف بھی حکومت کا خاتمہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ سو جنرل(ر) باجوہ کو دوسری بار ایکسٹینشن دینے سے انکار کر دیا گیا۔ گردن تک مسائل کے گرداب میں دھنسی کمزور حکومت میں نجانے اتنی طاقت کہاں سے آ گئی کہ اس نے نئے چیف کے تقرر کے لیے بھی جنرل(ر) باجوہ کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کر دیا۔ جنرل باجوہ نے اپنی ذات پر تنقید کرنے والوں کو وارننگ دی کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اس کا پانچ فیصد بھی بیان کر دوں تو مخالفوں کو منہ چھپانے کیلئے بھی جگہ نہیں ملے گی لیکن میں کسی کو جواب دینا نہیں چاہتا۔ اس طرح جنرل صاحب نے خود ہی تسلیم کر لیا کہ یہ دھمکی محض ہوائی ہے اب ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ اس فرمائشی کالم میں نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے جنرل(ر) باجوہ نے یہ کہہ کر بہت عجیب بات کی کہ کہیں نئے آرمی چیف کے خلاف بھی ٹرولنگ نہ شروع ہو جائے ایسا ہوا تو ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔ سب سے بنیادی سوال تو یہ ہے کہ ٹرولنگ کی اہمیت کیا ہے اور ماضی قریب میں اس کے مواقع کس نے فراہم کیے ہیں۔ آئی ایس پی آر اور پی ٹی آئی کے اشتراک سے تیار کردہ سوشل میڈیا نے ملک بھی جو گند مچایا اسے ہر باشعور بڑی تباہی قرار دے رہا ہے۔ یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اب معاشرے میں جتنی تقسیم پیدا کر دی گئی ہے اتنی تو جنرل ضیا کے دور میں بھی نہیں تھی۔ رہ گئی امپیکٹ کی بات تو عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس میڈیا سیل کی مہم پر جائیں جو بلاشبہ دیکھنے میں بہت زور دار تھی مگر حاصل کیا ہوا عمران خان تو آج بھی سڑکوں پر ہی ہیں۔ اس سیل کی مہم کے مطابق تو آرمی چیف جنرل فیض حمید کو بننا تھا اور کوئی ان کے قریب قریب بھی نہ تھا مگر آج وہ بھی اپنے گھر میں بیٹھے ہیں۔ سیاست میں آنے کا سوچتے ضرور ہیں مگر اگلے لمحے گھبرا کر یو ٹرن لے لیتے ہیں کہ نجانے آگے کیا ہونے والا ہے۔ پی ٹی آئی ٹرولنگ بریگیڈ پر جائیں تو اگر کسی کو آرمی چیف نہیں بننا تھا وہ تو جنرل عاصم منیر تھے۔ مگر آج وہ سپہ سالار ہیں جبکہ عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی صرف ایک ملاقات کے لیے منتیں ترلے کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر کہیں قانون کا ڈنڈا تھوڑا سا حرکت میں آیا اس سوشل میڈیا سیل کا کہیں نام نشان بھی نہیں ملے۔ یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے فوری بعد پرویز الٰہی کو عمران خان کے در دولت پر حاضری دینے کا حکم دیا۔ عدالتوں سے عجیب و غریب فیصلے کرا کے پنجاب حکومت ن لیگ سے چھین لی۔ صوبائی حکومت میں ٹرولنگ بریگیڈ کے سربراہ کو وزیر کا عہدہ دلوایا گالیاں اور گند سرکاری خرچے پر زیادہ تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا۔ اب یہ ثابت ہو چکا کہ جنرل باجوہ یہ سب کچھ صرف اور صرف اپنے ذاتی عزائم کے لیے کر رہے تھے تاکہ بحران میں مزید شدت آئے اور سب ان کی ذات کی طرف دیکھ کر کردار ادا کرنے کی التجا کریں اور ایکسٹینشن کا راستہ ہموار ہو جائے۔ یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ نئی عسکری قیادت کو اس حقیقت کا علم نہ ہو سو ٹرولنگ کا کہہ کر نئے سپہ سالار کو خائف کرنے کی کوشش کرنا بچگانہ حرکت کے سوا کچھ نہیں۔ جنرل(ر) باجوہ کے اس انٹرویو کا واحد ”کارآمد“ حصہ یہ ہے کہ عدالتوں کا یہ حال کر دیا گیا تھا کہ فیصلے تک آئی ایس آئی اپنے وکلا سے لکھوا کر چیف جسٹس ثاقب نثار اور ہم خیال ججوں کے حوالے کرتی تھی وہ صرف پڑھ کر سناتے تھے۔ عمران خان بنی گالہ کیس میں ہی سو فیصد نااہل ہو چکے تھے، فیصلہ آنے سے پہلے جہانگیر ترین کو ساتھ لے کر جنرل(ر) باجوہ کے پاس گئے تو آرمی چیف نے ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو ٹاسک دیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ نواز شریف کو نااہل کیا جاچکا ہے اس لیے عوام کو توازن کا دھوکہ دینے کے جہانگیر ترین کو نااہل کر کے عمران کو بچا لیا جائے بعد میں ترین کو بھی بچا لیا جائے گا۔ پلان تو یہی تھا مگر بعد میں مرشد بشریٰ بی بی نے آرڈر لگایا ترین کو بحال نہیں کرانا۔ بشریٰ کو جہانگیر ترین سے یہ حقیقی خطرہ تھا کہ جس طرح عمران نے ترین کے کہنے پر ریحام کو طلاق دے دی تھی اسی طرح ان کی شادی کے رنگ میں بھی بھنگ نہ ڈال دے۔ اس سے پہلے ترین اپنے پیسے اور اثر و رسوخ کی بنا پر عمران خان کے لیے مرشد کی حیثیت ہی رکھتے تھے۔ ترین اور انکے قریبی ساتھی عون چودھری وغیرہ عمران خان کی تمام ”کمزوریوں“ سے بھی مکمل طور پر واقف تھے۔ جس طرح ایک جنگل میں دو شیر نہیں رہ سکتے اسی طرح بنی گالہ کے دو مرشد نہیں ہو سکتے تھے۔ عمران خان نے بطور وزیر اعظم چیف جسٹس ثاقب نثار کو فون کر کے نااہلی کی سزا ختم کرنے سے متعلق ترین کی نظر ثانی درخواست مسترد کرا دی۔ بالکل اسی طرح عدالتوں کو کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کر کے سیاسی مخالفین کو غیر قانونی طور پر سزائیں بھی دلوائی گئیں۔ ان کی بیٹیوں اور بہنوں کو بھی نہیں بخشا گیا لیکن یہ سب عمران خان اکیلا نہیں کر رہا تھا بلکہ ایک پیج کے مکمل اتفاق رائے اور پلاننگ کے تحت ہو رہا تھا۔ اس انٹرویو میں ایک موقع پر جنرل (ر) باجوہ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عمران خان کی جانب سے اپنے خلاف ایسے ردعمل کی امید نہیں تھی۔ پتہ نہیں اس دعوے میں سچ کتنا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کے ناقدین کو ان سے یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ پہلے وہ عمران خان کو حکومت دے کر ملک کا کباڑا کرائیں گے۔ پھر عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد اسے بے لگام اپوزیشن کے طور پر ”نیا جنم“ دے کر نئے سرے سے مکمل سپورٹ کر کے ملک کی بچی کھچی معیشت، سیاست سفارت اور اخلاقیات پر کارپٹ بمباری کرا دیں گے۔ امیج بلڈنگ کے لیے لکھوائے گئے اس کالم سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ جنرل (ر) باجوہ کو عمران کے ہاتھوں عوام کی بربادی سے کہیں زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ ان کا لاڈلا اقتدار دلوانے اور بچانے پر انہیں پیر ماننے کے بجائے صرف پنکی پیرنی کا مرید بنا ہوا ہے اور اسکے اشاروں پر روبوٹ کی طرح چل رہا ہے۔ بہرحال باجوہ صاحب اور پنکی صاحبہ کی یہ رقابت قوم کو اتنی مہنگی پڑے گی کوئی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

تبصرے بند ہیں.