ایچ۔ ای۔ سی ترامیم ……سب کو اعتماد میں لیں!

8

ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ایک مرتبہ پھر خبروں اور رتبصروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ کوئی مثبت خبریں نہیں ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت کمیشن کے اختیارات محدود کرنے کا قصد کئے بیٹھی ہے۔ اس ضمن میں ایچ۔ای۔ سی آرڈیننس میں کچھ ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ سرکاری اور نجی شعبہ تعلیم کیلئے یہ اطلاعات نہایت اضطراب کا باعث ہیں۔ وفاقی اور صوبائی کمیشنوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ حکومت نے اس معاملے میں چپ سادھ رکھی ہے۔ ابھی تک حکومتی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ حکومت کی خاموشی اس اضطراب میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ چند دن پہلے ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (APSUP) کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو ایک خط ارسال کیا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا ہے کہ ایچ۔ ای۔سی کے قانون میں مجوزہ ترمیم کے حوالے سے جامعات کے سربراہان اورا ساتذہ میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے وزیر اعظم سے استدعا کی ہے کہ کمیشن کی خود مختاری محدود کرنے سے متعلق قانون سازی کو روکا جائے اور شراکت داروں (stakeholders) سے مشاورت کے بغیر کوئی قانون منظور نہ کیا جائے۔
متعلقہ اسٹیک ہولڈروں سے مشاورت کا مطالبہ نہایت قابل جوا ز ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ فیصلے جو وسیع تر مشاورت کے بعد تشکیل پاتے ہیں، وہ زیادہ نفع بخش ثابت ہوتے ہیں۔ماضی قریب میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ 2015 میں، مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں الیکٹرانک میڈیا کے لئے ایک ضابطہ اخلاق وضع ہوا تھا۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر عرفان صدیقی صاحب کی سربراہی میں قائم حکومتی کمیٹی نے متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کیساتھ مشاورت کو یقینی بنایا تھا۔ کامل اتفاق رائے کے ساتھ یہ ضابطہ اخلاق وضع ہوا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر اسے نافذ کر دیا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ یہ ایکشن پلان بھی اتفاق رائے کیساتھ تشکیل پایا تھا۔ سمجھ سے بالا ہے کہ وفاقی حکومت مجوزہ ترمیم کے حوالے سے متعلقہ شراکت داروں کیساتھ مشاورت کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟۔ عدم مشاورت کی وجہ سے مجوزہ میم تنازعات میں گھری محسوس ہوتی ہے۔
میری ناقص رائے ہے کہ حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قانون میں تبدیلی کے حوالے سے جو تجاویز دی ہیں۔ ان میں سے کچھ نکات ایسے ہیں، جو قابل جواز معلوم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت کمیشن کے مالیاتی معاملات آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے طے کردہ قواعد و ضوابط کے تحت منظم کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح حکومت چاہتی ہے کہ کمیشن میں افسر، ایڈوائزر، کنسلٹنٹ یا ملازمین کی تعیناتی کیلئے قواعد وضع کئے جائیں،جو متعلقہ وزارت یا ڈویژن سے منظور شدہ ہوں گے۔ بادی النظر میں ان نکات میں کوئی حرج دکھائی نہیں دیتا۔تاہم کچھ نکات ایسے ہیں، جو کمیشن کے اختیارات محدود یا سلب کرنے کے مترادف معلوم ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر مجوزہ ترمیم کے بعد چیئرمین ایچ۔ای۔ سی کی حیثیت وفاقی وزیر کے بجائے، ایک سرکاری ملازم کے برابر ہو جائے گی۔ سمجھ سے بالا ہے کہ حکومت کمیشن کے سربراہ سے وفاقی وزیر کا درجہ کیوں واپس لینا چاہتی ہے؟ گزشتہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت میں بھی وزراء کی ایک بڑی تعدادہے۔ وفاقی کابینہ کے اراکین کی تعداد 70 سے زیادہ ہے۔ بہت معاونین خصوصی ایسے ہیں جن کے پاس قلمدان تک نہیں ہے۔ ہر حکومت میں کم وبیش یہی صورتحال ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر چیئرمین ایچ۔ ای۔سی کو وفاقی وزیر کا درجہ اور اختیارات حاصل ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سربراہی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اس اہم عہدے پر متمکن شخص کو با اختیار ہونا چاہیے۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی اہمیت کا اندازہ لگائیے کہ یہ ادارہ براہ راست وزیر اعظم پاکستان کے تحت بروئے کار آتا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے بعد کمیشن کا چیئرمین تمام تر اختیار ات کا حامل ہوتا ہے۔ مجوزہ ترمیم کے بعد وزیر اعظم پاکستان، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے معاملات دیکھنے کا اختیار وزیر تعلیم کو تفویض کر سکے گا۔ یعنی اگر ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو وہ اختیارات جو کمیشن کے چیئرمین کے سپرد ہوتے ہیں، وہ وزیر تعلیم کے پاس چلے جائیں گے۔ یعنی کمیشن کا چیئرمین جو براہ راست وزیر اعظم کو جوابدہ ہوتا ہے وہ وزیر تعلیم اور وزارت تعلیم کو جواب دہ ہو گا۔ خدشہ ہے کہ اس سے کمیشن کے معاملات میں سیاسی مداخلت کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
ترمیم کے ذریعے کمیشن کو اعلیٰ تعلیم کی واحد ریگولیٹری باڈی کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسطرح صوبائی ہائیر ایجوکیشن کمیشنوں، پاکستان میڈیکل کمیشن، پاکستا ن انجینئرنگ کونسل، پاکستان بار کونسل جیسے اہم اداروں کے اختیارات سلب ہوجائیں گے۔بالکل اسی طرح کمیشن کے اراکین کی تعداد دس سے کم کر کے چھ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیشن میں صوبائی حکومتوں کے چار نمائندے موجود ہوتے ہیں۔ان نمائندوں سے متعلق نکتہ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ساینٹیفک اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے سیکرٹری بھی کمیشن کے ممبر ہوتے ہیں۔اب تجویز ہوا ہے کہ یہ سیکرٹری بھی کمیشن کے ممبر نہیں ہوں گے۔یقینا حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کمیشن اراکین کی تعداد کم کر دے۔ لیکن اس کمی کی آڑمیں اگر چاروں صوبوں کو نمائندگی سے محروم کیا جاتا ہے تو اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ یہ بھی تجویز ہوا ہے کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی کا اختیار کمیشن کے بجائے حکومت کے پاس ہو۔ یہ معاملہ بھی کمیشن کے اختیارات کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔چونکہ سیاسی حکومتوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اس ترمیم کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر تعیناتی سیاسی بنیادوں پر ہونے لگی گی۔موجودہ قانون میں کمیشن چیئرمین کی مدت ملازمت کو تحفظ حاصل ہے۔تجویز ہوا ہے کہ ناقص کارکردگی اور مس کنڈکٹ کی بنیاد پر چیئرمین کو کسی بھی وقت برخاست کیا جا سکتا ہے۔ مجوزہ ترمیم کے بعد کمیشن میں نجی شعبہ تعلیم کی نمائندگی پر بھی زد پڑے گی۔
یہ وہ نکات ہیں جن پر باقاعدہ مشاورت ہونی چاہیے۔ہو سکتا ہے کہ حکومت نیت نیتی سے مجوزہ ترمیم کے ذریعے کمیشن کی اصلاح چاہتی ہو۔ اگر ایسا ہے تب بھی متعلقہ شراکت داروں کو نامطلوب عناصر کی طرح مشاورتی عمل سے باہر رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی ہوتی ہے تو اسٹینڈنگ کمیٹیاں کوشش کرتی ہیں کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کا نقطہ نظر سنا جاتا ہے۔ تاکہ تنازعات سے بچا جا سکے۔ بہت چھا ہو اگر حکومت جامعات کے مالکان، سربراہان، ماہرین تعلیم اور دیگر شراکت داروں کو اعتماد میں لے اوران کا نقطہ نظر سنے۔ اس مشق سے حکومت کا بہت اچھا تاثر ابھرے گا۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وفاقی اورصوبائی کمیشنوں اور جامعات کے ساتھ حکومتی تعلقات میں تلخی پیدا ہو سکتی ہے اور فاصلے بڑھ سکتے ہیں، جس کا خمیازہ شعبہ تعلیم کو بھگتنا پڑے گا۔

تبصرے بند ہیں.