منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز اشتہاری قرار

30

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور کی سپیشل کورٹ سینٹرل نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز اور ملزم طاہر نقوی کو اشتہاری قرار دیدیا ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق سپیشل کورٹ سینٹرل میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی جس دوران حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی حاضری معافی درخواست جمع کرائی گئی۔
دوران سماعت عدالت نے مقدمے میں سلیمان شہباز اور ملزم طاہر نقوی کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے دونوں ملزمان کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لیں جبکہ شریک ملزم مقصود کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تفصیل بھی مانگ لی ہے۔ دونوں ملزمان عدالت میں طلبی کے باوجود پیش نہیں ہو رہے تھے۔ 
عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست بھی منظور کی اور آئندہ سماعت پر انہیں پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔ 
قبل ازیں عدالت نے شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست کرنے والے وکیل پر اعتراض کرتے ہوئے استفسار کیا کہ وکیل امجد پرویز کہاں ہیں ؟ معاون وکیل نے جواب دیا کہ امجد پرویز آج پیش نہیں ہو رہے۔
جج نے معاون وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ کا وکالت نامہ نہیں، آپ کیسے حاضری معافی کی درخواست کر سکتے ہیں ؟ جس پر معاون وکیل نے بتایا کہ مجھے شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اتھارٹی دی ہے۔ 
جج نے ریمارکس دئیے کہ قانون کے مطابق دیکھتا ہوں حاضری معافی کی درخواست کون دائر کر سکتا ہے تاہم بعد ازاں عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے تفتیشی افسر کے تاخیر سے پیش ہونے پر نوٹس لے لیا۔
جج سپیشل کورٹ سینٹرل نے کہا کہ ٹرائل میں نامزد ملزمان کے وکلا کے وکالت نامے بھی نہیں آئے، ملزمان کی ضمانتیں کیا کنفرم ہوئیں؟ انہوں نے معاملے کو سنجیدہ لینا چھوڑ دیا جس پر ملزمان کے وکلا نے کہا کہ ہم عدالت کا احترام کرتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.