مریم نواز، شاہد خاقان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

59

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر  عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کے الزام میں مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔فیصلہ آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کےچیف جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلہ محفوظ کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف جو باتیں 24 نومبر کومسلم لیگ( ن) کی پریس کانفرنس میں ہوئی ہیں توہین عدالت  کے زمرے میں آتی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جوخودمتاثرہ ہے وہ بھی ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتا ہے۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ ریٹائرڈ آدمی کی توہین نہیں ہوتی بھلے وہ ریٹائر ہونے والا چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انصار عباسی والاشوکازنوٹس کیس بھی آپ کے پاس ہے، تاہم  چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وہ الگ کیس ہے، اس کے ساتھ نہ ملائیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ تنقید سےمتعلق ججزاوپن مائنڈ ہوتے ہیں اور جج بڑی اونچی پوزیشن پرہوتے ہیں،تنقید کو ویلکم کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ 24 نومبر کو مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پریس کانفرنس  کے دوران  لیک آڈیو کو ثاقب نثار کے خلاف چارج شیٹ قرار دیتے ہوئے پوری تقریر سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ سزا دینے والے جملے ثاقب نثار کی کس تقریر کے ہیں اورن لیگ کی وکلا ٹیم اس تقریر کو دیکھ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب جنرل فیض جیسا شخص ادارے کی آڑ میں چھپتا ہے تو ادارے کو بدنام کرتا ہے، ایسے ہی جب ثاقب نثار جیسا شخص کچھ کرتا ہے تو ادارے کی بدنامی کا سبب بنتا ہے۔عدلیہ سے گزارش ہے کہ  ثاقب نثار کےگناہوں کا بوجھ نہ اٹھائے کیوں کہ ثاقب نثارجیسے لوگوں نےعدلیہ کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز نے اگر کوئی الزام لگایا ہے جس میں آپ نے اعتراف کیا ہے تو کیا وہ ویڈیو بھی جھوٹی ہے۔ شوکت عزیز کی گواہی کے بعد ارشد ملک جنہوں نے نواز شریف کو سزا سنائی تھی اس وقت جو ویڈیو ریلیز کی گئی تھی وہ عوام کے سامنے ہے۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کو سچ بولنے کی پاداش میں نکال دیا گیا اور جسٹس کھوسہ صاحب نے اس وقت کہا تھا کہ فیصلہ عدلیہ کے چہرے پر کالا دھبہ ہے،آپ نے اس جج کو نکال دیا لیکن وہ فیصلہ اب بھی موجود ہے۔

 

تبصرے بند ہیں.