امن کے بعد تجارت اولین ترجیح ہے اور سی پیک میں شمولیت چاہتے ہیں، ذبیح اللہ مجاہد

132

کابل: طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم سی پیک میں شمولیت چاہتے ہیں اور اول ترجیح تجارت کا فروغ ہے جبکہ افغانستان کو پشاور سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں سے منسلک کیا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ خ اب افغانستان میں تعمیری کام ہوں، سڑکیں، پل اور لوگوں کے لیے گھر بنیں تاہم ساتھ ہی انہوں ںے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی لڑائی یا حملے کی خواہش رکھتا ہے تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور اس کا مؤقف قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اور ازبکستان سمیت بعض دیگر ممالک نے بھی مثبت مؤقف اپنایا ہے۔

 

طالبان ترجمان نے کہا کہ 6 روز قبل چین اور روس نے بھی ہمای حکومت کے حق میں اقوام متحدہ میں بات کی اور کئی ممالک نے امریکہ اور عالمی برادری کے سامنے ہمارے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ ہم کسی کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں اور بیشتر مقامی علمائے کرام، عمائدین اور مجاہدین ہمارے ساتھ ہیں۔

 

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پنج شیر میں لڑائی ختم ہوچکی ہے اب افغانستان کو تجارت اور اقتصادی امور میں ہمسایہ ممالک کی ضرورت ہے اور ہمسایہ ممالک افغانستان سے متعلق اپنا مثبت کردار جاری رکھیں گے جبکہ افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کے روابط ضروری ہیں۔

 

 

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے زور دے کر کہا کہ اب وقت ہے کہ افغان قوم ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ سی پیک منصوبہ اہم ہے لیکن تھوڑی تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

 

تبصرے بند ہیں.