کیا پہلے کبھی ایسا ہوا ہے…؟

55

یہ کہنا شائد غلط نہ ہو کہ وطن عزیز پاکستان اس وقت جس طرح کے بحرانوں کا شکار ہے ، ماضی میں اس کی کم ہی مثال ملتی ہے۔ اس وقت عالم یہ ہے کہ ایک طرف ہمیں شدید معاشی بحران کی وجہ سے معیشت کی بحالی کے لیے سخت اور مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیںتو دوسری طرف سیاسی عدم استحکام میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس کے اثرات بحیثیت قوم ہمارے معاشرتی اور اخلاقی رویوں پر اسطرح مرتب ہو رہے ہیں کہ ہم میں ضد، ہٹ دھرمی، انتقام، جھوٹ اور سچ میں تمیز نہ کرنے اور جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے کے بل بوتے پر سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید بنا کر پیش کرنے کے اندازِ فکر کو ہی تقویت نہیں ملی ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی شدت میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ پھر ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ ریاستی اداروں کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہو جیسے پچھلے چند ماہ میں جب سے کپتان جناب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی ہے انھیں نفرت کی حد تک تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، نہ ہی سیاسی مخالفین کو نیست و نابود کرنے ، سب کچھ جلا کر راکھ کرنے، اسلام آباد پر زبردستی قبضہ کرنے اور لڑائی شروع کرنے کی کھلم کھلا دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہوں۔ سچی بات ہے میری عمر کے لوگوں نے جو پاکستان کی تاریخ کے گزشتہ 6,7عشروں کے بہت سارے واقعات کے یعنی شاید ہیں اور جنہوں نے ملک میں مارشل لاؤں کے نفاذ، سویلین حکومتوں کے خاتمے، انتخابی نتائج کے تحت بننے والی حکومتوں کے قیام اور مخالفین کی طرف سے ان کے خلاف احتجاجی تحاریک شروع کرنے جیسے واقعات کو اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھ رکھا ہے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد جیسے قانونی اور آئینی اقدام کی کامیابی کی صورت میں حکومت کے خاتمے کے بعد جناب عمران خان کی طرف سے مستقل ریاستی اداروں کے خلاف ایسی مذموم اور منفی پروپیگنڈے پر مبنی مہم شروع کی جا سکتی ہے جس کے تحت فوج جیسے ملکی سلامتی، دفاع اور استحکام کے ضامن اور پہچان رکھنے والے ادارے کی اعلیٰ ترین سطح کی قیادت کو میر جعفر اور میر صادق جیسے غداروں کے لقب یا نام دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آئین و قانون اور عدل و انصاف کے تحفظ کی ضمانت نچلی سطح سے اُوپر تک کی سطح کی عدلیہ اور اس سے وابستہ خواتین و حضرات کو بھی دھمکیاں دینے کا سلسلہ اسطرح دراز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ملکی انتظام و انصرام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی سول بیوروکریسی اور ملک میں امن و امان کے قیام کی ذمہ دار پولیس فورس کے افسران کو بھی سر عام انتقام کا نشانہ بنانے کے ڈراوے دیئے جا سکتے ہیں۔ انتہائی دکھ رنج اور فکر مندی کے جذبات کے ساتھ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہی نہیں دیکھنا پڑ رہا ہے بلکہ کانوں سے اس بارے میں بہت کچھ سننا اور ہمت و حوصلے کے ساتھ برداشت بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور کیا ایسا کرنے کا کچھ جواز بھی بنتا ہے؟ اس کا جائزہ ضرور لیا جانا چاہیے۔
مجھے یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ جناب عمران خان ایک زمانے میں میری بھی پسندیدہ شخصیت تھے جب وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سربراہ تھے اور ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے انھوں نے کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا، بعد میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کے قیام کے لیے وہ بھاگ دوڑ کر رہے تھے اور اس کے بعد بھی کئی سال تک میں نے ان کے بارے میں کلمہ خیر کہنے کو ہی ترجیح دی البتہ اگست 2014ء میں وہ اپنے سیاسی بھائی حضرت علامہ طاہر القادری کے کشف و کرامات کے جلو میں اسلام آباد ریڈ زون میں دھرنے کے لیے آن براجمان ہوئے اور آئے روز میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو دھمکیاں دینے ، عملاً اسے مفلوج کرنے اور اس کے خلاف امپائر کی انگلی اُٹھنے کی خوشخبری دینے کی راہ پر گامزن ہوئے اور کم و بیش چار ماہ تک اپنا دھرنا جاری رکھا تو بتدریج جناب عمران خان کے بارے میں پہلا سا نرم گوشہ میرے دل میں برقرار نہ رہا۔ پھر جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں مقتدر حلقوں نے جناب عمران خان کو برسر اقتدار لانے کے لیے جو خفی اور جلی کوششیں اور بھاگ دوڑ کی اس سے جناب عمران خان کے بارے میں منفی جذبات کا اُبھرنا لازمی امر تھا۔ خیر پھر بھی کچھ گوارہ ہو سکتا تھا لیکن حکومت میں آنے کے بعد جناب عمران خان نے جہاں اپنے مخالفین کو آئے روز دھمکیاں دینے، انھیں چور اور ڈاکو کہہ کر پکارنے ، ان سے انتقام لینے ، انھیں ہر طرح کی ہرزہ سرائی اور
الزام تراشیوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہی نہ رکھا بلکہ اس میں مزید شدت بھی لے آئے تو پھر جناب عمران خان کے بارے میں منفی جذبات کا اُبھرنا یقینی بات تھی ۔ خیر اس توضیح کو جملہ معترضہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ میرے جیسے ایک معمولی فرد کی پسند یا نہ پسند کا کپتان جناب عمران خان کی سوچ ، فکر اور مقبولیت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے لیکن حکومت سے نکالے جانے کے بعد جناب عمران خان نے اپنی دھمکی کہ مجھے حکومت سے نکالا گیا یا میں حکومت سے نکلا تو میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا پر عمل در آمد کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ ایسا نہیں ہے جسے نظر انداز کیا جا سکے۔ یہ صریحاً وطن دشمنی کے مترادف ہے اور اس کا ضرور تدارک ہونا چاہیے۔
حالیہ دنوں میں کپتان جناب عمران خان کے کیا ارشادات اور فرمودات سامنے آئے ہیں اور وہ کیسی زبان استعمال کرتے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ان کے قریبی ساتھی کیا کچھ کہتے رہے ہیں یا کہہ رہے ہیں ان کا ایک اجمالی سا حوالہ یہاں پر کچھ ایسا غیر مناسب نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے شیخ رشید احمد کی اتوار کو پنڈی کے لیاقت باغ کے جلسہ عام میں کی جانے والی تقریر کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جناب شیخ رشید کا پہلے اس لیے کہ جنابِ شیخ کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب ان کی مسیں بھی ابھی پوری طرح بھیگی نہیں تھیں اور ان کے سرخ و سپید گالوں پر انگلی بھی لگ جاتی تو سرخ نشان پڑ جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شیخ صاحب سٹوڈنٹس پالٹکس میں قدم رنجا فرما رہے تھے اور یہ ان کا ایک طرح کا ذریعہ معاش بھی تھا ۔ جنابِ شیخ دھمکی دیتے ہیں کہ آج سے لڑائی شروع ہو گئی ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کس کے خلاف لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ جنابِ شیخ نے اپنی تقریر میں لیاقت باغ کے کئی اور جلسوں کا بھی ذکر کیا جن میں وہ گرجتے برستے رہے تاہم وہ ان جلسوں کا ذکر کرنا گول کرگئے جب وہ میاں محمد نواز شریف کی گود میں بیٹھ کر ان کی خوشامدیں اور تعریفیں کیا کرتے تھے اور پیپلز پارٹی اور اس کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف انتہائی غلیظ اور گھٹیا زبان استعمال کیا کرتے تھے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ انھیں اپنی اس غلیظ اور گھٹیا زبان کا خمیازہ لال حویلی کلاشنکوف کیس کی صورت میں بھگتنا پڑا اور جیل کی ہوا کھانا پڑی۔
معذرت خواہ ہوں کہ جنابِ شیخ کا حوالہ کچھ طویل ہو گیا۔ واپس جناب عمران خان کی طرف آتے ہیں لیکن پہلے ان کے چیف آف سٹاف جناب شہباز گل کے اے آر وائی کو دیئے گئے انٹرویویا بیان کاذکر کیا جاتا ہے جس میں وہ فوج کی قیادت کے خلاف درمیانے اور نچلے درجے کے رینکس کے آفیسرز اور جوانوں کو بغاوت پر اُکساتے لگتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں کسی بھی جگہ پر اس طرح کے باغیانہ خیالات کے اظہار کی اجازت نہیں ہے لیکن جناب شہباز گل نے تو ساری حدیں ہی پھلانگ لی تھیں اب جب انھیں اپنے کہے اور کئے کا جواب دینا پڑ رہا ہے تو ان کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ خود جناب عمران خان صاحب بھی فرما چکے ہیں کہ شہباز گل نے جو کچھ کہا تھا وہ غلط تھا ۔ برائے کرم آپ یہ کیوں نہیں تسلیم کرتے کہ شہباز گل جو آپ کا چیف آف سٹاف ہے اس نے جو کچھ کہا وہ آپ کی مرضی منشا اور ہدایت کے مطابق کہا۔ اس وقت پولیس تمام معاملے کی تفتیش کر رہی ہے تو آپ کو بھی فکر پڑ رہی ہے کہ شہباز گل کہیں آپ کا نام نہ لے لے اور آپ کو بھی لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی دھمکیوں میں اضافہ ہو چکاہے اور آپ نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران کو کھلم کھلا دھمکیاں دینے کے ساتھ اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج محترمہ زیبا کو بھی یہ دھمکی دینے سے گریز نہیں کیا ہے کہ زیبا صاحبہ آپ کو شرم آنی چاہیے ہم آپ کے خلاف بھی کارروائی کریں گے۔
جناب عمران خان نے ان دنوں جو بیانات دیئے ہیں وہ ایک سے ایک بڑھ کر قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج کو جناب عمران خان نے جو دھمکی دی ہے اس کا اسلام آباد ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے عمران خان کو توہینِ عدالت کے الزام میں شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور 31اگست کو ذاتی طور پر ہائی کورٹ میں پیش ہونے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ جناب عمران خان ہائی کورٹ میں کیا جواب دیتے ہیں اور ڈاکٹر بابر اعوان جیسے ان کے قانونی مشیر اپنی وکالت کی مہارت کو کام میں لاتے ہوئے ان کے لیے کیا ریلیف حاصل کر سکتے ہیں یہ بعد کی بات ہے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی لارجزبنچ کے سربراہ جسٹس محسن اختر کیانی نے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران جناب عمران خان کے حوالے سے جو ریمارکس دیئے ہیں وہ کچھ زیادہ خوش کن نہیں ہیں اور نوشتہ دیوار سامنے نظر آ رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.