عیدِ ایثار

18

جس نے عید الاضحی کا نام عیدِ قربان رکھا ہے، خوب رکھا ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے ہوئے جس نے اسے عیدِ ایثار کا نام دیا، اس نے بھی کمال کیا۔ قربانی ایثار ہی تو ہے۔ اصطلاحی معنوں سے قطع نظر، ہر ایثار میں قربانی پنہاں ہے۔ مقام آدمیت سے مقامِ انسانیت کی طرف سفر کرتے ہوئے انصاف، عدل اور احسان کے بعد ایثار کا مرحلہ آتا ہے۔ انصاف یہ کہ وسائل کی تقسیم مساویانہ ہو، برابر کی ہو، کوئی فریق زیادہ نہ لے جائے، کسی کے پاس کم نہ رہ جائے۔انسانی معاشرے کا قیام انصاف پر قائم ہے۔ انصاف کا مطلب یہ ہے کہ انسانی شعور مجموعی طور پر طاقت کی دلیل سے بلند ہو کر دلیل کی طاقت کا قائل ہو چکا ہے۔ جہاں طاقت ہی دلیل ہو، اسے جنگل کا قانون کہتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ کسی معاشرے کا قانون مبنی بر عدل ہے یا نہیں، انسانی معاشرہ جب خود کو کسی قانون کے تابع کر لیتا ہے تو اس معاشرے کو مبنی بر انصاف معاشرہ ہی کہیں گے۔ جہاں عدالتیں قانون کے تحت فیصلے کرتی ہیں اور ان کی نظر میں طاقتور اور کمزور ایک ہی کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں تو ایسی ریاستیں منصفانہ نظام پر قائم ہوتی ہیں اور یہی ریاستیں دراصل فلاحی کہلاتی ہیں۔
انصاف عدل کا پہلا مرحلہ ہے۔ انصاف پامال ہو اور عدل قائم ہونے کے خواب دیکھیں جائیں، یہ ممکن نہیں۔ انصاف عدل کا دیباچہ ہے۔ جس طرح ہم خود کو بے ضرر کیے بغیر منفعت بخش نہیں بن سکتے، اس طرح ہم انصاف قائم کیے بغیر عدل نہیں کر سکتے۔ عدل کے معنی ہیں، ہر شے کو اْس کے اصل مقام پر رکھنا۔ اعتدال بھی عدل سے ہے۔ افراط وتفریط عدل کے منافی ہے۔ رشتوں میں عدل، خرچ اخراجات میں عدل اور اپنے وقت اور وجود کے استعمال میں عدل انسان کو عادل کا درجہ دیتے ہیں۔ انصاف کسی کو ظالم بننے سے روکتا ہے، کسی کو مظلوم اور محروم ہونے سے بچاتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں ’’ فلاحی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں نہ کوئی مظلوم ہو، نہ کوئی محروم‘‘۔
سب کے لیے ایک روٹی انصاف ہے، لیکن گوجرانوالہ کے ایک پہلوان کے لیے ایک روٹی کا فیصلہ اس پر ظلم ڈھانے کے برابر ہے۔ ہر شخص میں استعداد کی جو حدود و قیود ہیں، ان کو ملحوظ رکھنا عدل کا حصہ ہے۔ قرآن میں بھی یتیموں کی وراثت کے بارے میں ہے کہ ان کی وراثت کا مال انہیں اس وقت دیا جائے جب وہ بلوغت اور شعور کو پہنچ جائیں۔ بیٹے اور بیٹی کی وراثت میں ایک اور دو کی نسبت کا ہونا شاید انصاف کے علمبرداروں کو عجیب لگے لیکن عدل کا شعور والوں کے لیے یہی فیصلہ عین عدل ہے۔ مرد کی ذمہ داری نان و نفقہ ہے، اسے زیادہ ملنا چاہیے۔ گھر چلانے کے لیے مالی وسائل مہیا کرنا عورت پر فرض نہیں، اس لیے اسے آدھا ہی کافی سے زیادہ ہے۔ یہ عدل ہے۔ عدل انصاف سے بلند تر حکمت ہے۔ عدل کا مطلب یہ کہ ہر شخص کے اس کی صلاحیتوں کے مطابق سلوک کیا جائے۔ سب کے لیے یکساں تنخواہ شاید انصاف ہو لیکن کسی کمپنی کے منیجر کے لیے لیے
مزدور کے برابر تنخواہ تجویز کرنا عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ایک فیکٹری چلانے کی ذمہ داری جس شخص کو سونپی جائے اس کا معاوضہ اس شخص سے بہرطور زیادہ ہونا چاہیے جس کے ذمے فقط اپنے حصے کا آٹھ گھنٹے کا کام ہے۔
ایک زمانہ تھا جب سوشل میڈیا ابھی عام نہ تھا، اس وقت یہ فقیر اپنے مرشد کے ملفوظات ای میل ایڈریسوں پر روزانہ ارسال کیا کرتا تھا، جو بھی شخص ملنے آتا اس کا ای میل ایڈریس محفوظ کر لیا جاتا اور ایک قولِ واصفؒ اس کے انباکس میں روزانہ ارسال کر دیا جاتا۔ میرے ایک دوست نما مریض کہ میٹرو کیش اینڈ کیری میں ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے۔ وہ ایک دن تشریف لائے اور کہنے لگے کہ آپ نے حضرتِ واصف علی واصفؒ کا ایک قول ارسال کیا تھا ’’معاوضہ دینے والے کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے‘‘ ہم اپنی میٹنگ میں گھنٹوں اس پر بحث کرتے رہے۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ مزدور کا معاوضہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن یہ ایک عجب سبق ملا ہے کہ معاوضہ دینے والا اپنی حیثیت کے مطابق معاوضہ دے۔ یہاں انصاف اور عدل کے درمیان ایک لطیف فرق سامنے آتا ہے۔ انصاف یہ ہے کہ مزدور کی مزدوری کم سے کم مزدوری سے کم نہ ہو، مثلاً اگر حکومتی اداروں نے کم از کم مزدوری سات سو روپے روزانہ مقرر کی ہے تو اسے پانچ سو پر راضی نہ کیا جائے، لیکن عدل کے تقاضے پامال ہو جائیں گے اگر ایک سفید پوش کے مکان کی تعمیر میں مزدوری کرنے والا مزدور کسی ایک ارب پتی کے محلات کی تعمیر میں بلوایا جاتا ہے اور وہاں بھی اسے وہی مزدوری ملتی ہے۔ یہاں مزدوری دینے والا اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھے گا۔ ایک صنعت کار پر فرض ہے کہ وہ اپنے ہاں کام کرنے والے مزدووں کو اپنی اوقات کے مطابق مزدوری دے۔ یہاں مزدور کا حق ہے کہ اسے کھانا اور رہائش بھی ملے، اسے بچوں کے لیے تعلیمی معاونت اور طبی اعانت بھی اسے میسر ہو۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسے پرائیویٹ ہسپتال دیکھے ہیں جہاں کام کرنے والا کوئی ملازم ڈرائیور اگر بیمار پڑ جائے تو اسی ہسپتال میں اسے علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں، کیونکہ وہ ’’افورڈ‘‘ نہیں کر سکتا، ہسپتال کی انتظامیہ اسے کسی سرکاری ہسپتال میں خوار ہونے کے لیے ’’ریفر‘‘ کر دیتی ہے۔ بہرطور عدل اور انصاف کے درمیان یہ فرق ہے جسے ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور بیان کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ اس بات کا احتمال رہتا ہے کہ ایک کمزور دل اور کمزور نفس کہیں انصاف کے نام پر عدل سے دور نہ ہو جائے۔ انصاف عدالتوں میں ملتا ہے، عدل گھر سے ملنا چاہیے۔ قرآن کہتا ہے، عدل تقویٰ کے قریب ہے۔ جب ہم عدل پر قائم نہیں رہتے تو ہمیں انصاف کے لیے عدالتوں میں دھکے کھانا پڑتے ہیں۔ عدالت نے لکھے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے آس پاس لوگوں کے ساتھ عدل نہیں کرتے، تو ہمیں انصاف کے لیے ہانکا جاتا ہے۔ کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے، انسان کا بنایا ہوا قانون اندھا ہو سکتا ہے، اس سمیع و بصیر ذات کا دیا ہوا قانون تو دانا و بینا ہے— کیونکہ وہ عدل کا حکم دیتا ہے۔
احسان ایک انفرادی عمل ہے۔ احسان کا مطلب ہے کسی کو حق کے سوا دینا، اپنا حق چھوڑ دینا، جھگڑے سے بچنے کے لیے، اردگرد انسانوں سے تعلق بحال کرنے کے لیے، اپنے اقربا سے قطع تعلقی سے بچنے کے لیے اپنے حق سے برضا و رغبت مستعفی ہو جانا۔
ایثار احسان سے آگے کی کہانی ہے— ایسی کہانی جو حقائق کی دنیا میں لے جاتی ہے۔ ایثار یہ ہے کہ اپنی ضرورت کو دوسروں کی ضرورت پر قربان کر دیا جائے۔ اگر میرے پاس کوئی چیز زاید ہے تو اسے دینا احسان ہو سکتا ہے، ایثار نہیں۔ ایثار یہ ہے کہ میں اپنی ضرورت کا پیٹ کاٹ کو کسی کا دل خوش کر دوں۔ انصاف، عدل، احسان اور ایثار کو ایک سادہ روٹی کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ روٹی سب کے پاس مساوی ہونی چاہیے، کوئی کسی کا حق چھین کر اسے بھوکا نہ رکھے۔ عدل یہ کہ ہر ایک کے پاس اس کی استعداد اور استعمال کے مطابق روٹی ہو، منصفانہ تقسیم کے شور میں کہیں کسی کے پاس اس کی بھوک سے کم روٹی نہ رہ جائے۔ احسان یہ ہے کہ کسی کا حق نہیں کہ وہ میری روٹیوں پر نظر رکھے لیکن میں اپنی ملکیت میں سے اسے اس کے حق سے زیادہ دے دوں۔ ایثار یہ ہے کہ میرے پاس ایک روٹی ہے اور میں بھوک سے ہوں، کوئی بھولا بھٹکا بھوکا میرے پاس آ گیا ہے، اب میں خود بھوکا رہوں اور اسے سیر کر دوں۔ یہ بڑے لوگوں کا کام ہے، یہ قرب والوں کی کہانی ہے، ان ہی کے شایانِ شان ہے، ہم ایسے کم ظرف اور کم فہم لوگوں کے بس کی بات نہیں، ہم تو وہ لوگ ہیں کہ انصاف بھی احسان سمجھ کر کرتے ہیں، عدل کرنے اور سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، احسان کرتے نہیں بلکہ جتلاتے ہیں اور ایثار کے تذکرے صرف کتابوں میں پڑھتے ہیں، نئے تذکرے رقم نہیں کرتے، تاریخ پڑھتے ہیں، تاریخ کا حصہ نہیں بنتے۔ ہمارا معاشرہ عدل تو کیا انصاف سے بھی دور ہے۔ ہم ایک ظلم کے دَور میں زندہ رہنے پر مجبور ہے، کسی طاقتور کی آشیر باد کے بغیر ہمیں انصاف بھی نہیں ملتا۔ ہمارا معاشرہ ایک قبایلی معاشرے کی طرح ہے جس میں کسی سردار نما شخص کی امان میں آئے بغیر ہمارے لیے امکانات کے در نہیں کھلتے۔ ہم عِلم کے علم بردار ہیں لیکن فی الاصل جہالت ہمارا عقیدہ ہے، تعصب اور انا ہمارا سیاسی فرقہ ہے۔ یوں تو ہم تثلیت کے قائل نہیں لیکن دو جمع دو چار ہمیں تین نظر آتے ہیں۔
پس! قربانی قرب سے ہے، یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ قرب قربانی سے ملتا ہے۔ اہلِ اسلام انصاف سے کام لیں— یاکم از کم انصاف سے تو کام لیں— اہلِ ایمان عدل پر قائم رہیں— اہلِ احسان احسان کے راستے پر چلیں— اور قرب کے متمنی قربانی سے گزریں، ایثار کو شعار بنائیں— تاکہ وہ اور ان کی زندگی آنے والوں زمانوں میں شعائر کی صورت اختیار کر لیں۔

تبصرے بند ہیں.