سارہ قتل کیس کے مرکزی ملزم کی والدہ کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

3

اسلام آباد: سارہ انعام قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا اور ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق ملزمہ ثمینہ شاہ کو پولیس نے سینئر سول جج محمد عامر عزیر کی عدالت میں پیش کیا جس دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کو گزشتہ روز ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ ملزمہ سے لاکٹ برآمد کرنا ہے لہٰذا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے جبکہ وکیل ملزمہ ارسل امجد ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ ثمینہ شاہ پہلے دن سے ہی پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ 
وکیل نے بتایا کہ ثمینہ شاہ نے خود اپنے بیٹے کو گرفتار کروایا، میری موکلہ پر 109 کی دفعہ لگائی ہے اس متعلق پولیس بتا دے کس جگہ مشورہ ہوا، ملزمہ کے وکیل نے استدعا کی کہ ثمینہ شاہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔
جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اس مقدمہ کا چالان جمع کروا دیا ہے؟ تو تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ چالان بن چکا ہے آج جمع کروا دیا جائے گا۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ 14 روز کا وقت گزر چکا ابھی تک آپ نے چالان جمع نہیں کروایا۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ 
واضح رہے کہ 23 ستمبر 2022 کو صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی کنیڈین نژاد پاکستانی اہلیہ سارہ انعام کا قتل کر دیا تھا۔ ملزم شاہ نواز امیر نے فارم ہاؤس نمبر 46 میں اپنی 37 سالہ بیوی سارہ کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا۔

تبصرے بند ہیں.