ٹریبونلز، اصلاح احوال ناگزیر

66

1995 سے پہلے محکمہ کے اعلیٰ آفیسر یعنی کلکٹر کسٹم یا کمشنر انکم ٹیکس کے فیصلے کے خلاف اپیل ممبر لیگل سی بی آر / ایف بی آر کے پاس ہوا کرتی تھی۔ حکومت نے نیک نیتی سے کسٹم و دیگر مالیاتی اداروں میں ٹیکنیکل مقدمات کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے 1995 سے کسٹم ٹربیونلز اور آئی آر ٹربیونلز بنائے۔ جس میں ایک جوڈیشل ممبر اور ایک ٹیکنیکل ممبر لیا جاتا ہے بنچ لارجر بھی ہو سکتا ہے یہ ایک تفصیل طلب معاملہ ہے۔ ممبران عموماً دو تین سال کے لیے آتے ہیں۔ اول تو قومی خزانے کا کھلواڑ محکمہ جات میں کر دیا جاتا ہے مگر آج بھی الحمدللہ اچھی خاصی تعداد میں دیانت دار اور محب وطن افسران موجود ہیں جن کی وجہ سے قومی خزانہ کی حفاظت کسی حد تک جاری ہے۔ ظاہر ہے جب کوئی مقدمہ بنتا ہے تو اس کے قائم کرنے والے کو مقدمہ قائم نہ کرنے کے لیے ترغیب دی جاتی ہے مگر وہ خود یا ان پر کوئی دیانتدار آفیسر انچارج ہو تو ترغیب خاک میں مل جاتی ہے اور قومی خزانہ بچانے کے لیے ضابطہ کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ بالآخر معاملہ فیصلہ کے لیے متعلقہ آفیسر کے پاس بھیج دیا جاتا ہے جو محکمہ اور متعلقہ فریق جس کے ذمہ قومی خزانہ کے واجبات ہوں کو تفصیل سے سنتا ہے، قانونی تقاضے پورے کر کے تفصیلاً فیصلہ لکھتا ہے۔ جس کی اپیل 1995 کے بعد قائم کردہ اپیلٹ ٹربیونلز میں ہوتی ہے اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلے سے ناخوش فریق محکمہ / فرد یا کمپنی ہائی کورٹ میں ریفرنس دائر کرتی ہے ریفرنس میں صرف قانونی نقطہ پر بات ہوا کرتی ہے۔ ہائی کورٹ فیصلے میں تبدیلی کر سکتی ہے، بدل سکتی ہے خلاف کر سکتی ہے من و عن برقرار رکھ سکتی ہے مگر قانون کی منشا ہائی کورٹ کا کوئی نہ کوئی فیصلہ دینا ہے جبکہ ریمانڈ کر دینا اکثر ایک پریکٹس بن چکی ہے، جس کی وجہ سے مقدمات کی تعداد میں کمی نہیں ہوتی۔ میرے ذاتی
مشاہدے میں ہے کہ عدالتی سلسلہ جات میں سرکاری خزانے کا فیصلہ آ جائے تو پھر خزانہ اکثر محروم رہتا ہے۔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ محکمے بعض اوقات زیادتی کرتے ہیں مگر مقدمہ بنانے میں انتہائی احتیاط کی جاتی ہے۔ 90 فیصد مقدمات 100 فیصد درست ہوتے ہیں اور بد نصیبی سے پیروی درست نہ ہونے کی وجہ سے یا پھر ”چمک“ کی وجہ سے محکمہ جات کے 90 فیصد مقدمات محکمہ کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ کسٹم ایکٹ سیکشن 194 جس میں ٹربیونلز قائم کیے گئے ہیں اس سے پہلے کلکٹر کے خلاف اپیل ممبر جوڈیشل اور ان کے فیصلے کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں دائر ہوا کرتی تھی۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن مقدمات میں وکیل کے بجائے محکمہ کا نمائندہ ہو اور 17 ویں سکیل سے کم پیش ہو اس کو تو بعض ممبران اپنے رویے سے ہی اس کا موقف بھلا دیتے ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ سابق وزیراعظم بھی قرضے لیتے رہے جب سے ملک بنا کل لیے گئے قرضہ کا بقول شوکت ترین 76 فیصد سابقہ حکومت نے ساڑھے تین سال میں ہی لیا اور اب موجودہ حکومت بھی قرضے کو کاروبار سلطنت بنانے پر مجبور ہے۔ جبکہ حکومت کا بلکہ قومی خزانہ سے متعلقہ ہزاروں کیس زیر سماعت ہیں آج حالت یہ ہے کہ آپ جس سے مرضی پتہ کریں کسی ٹربیونل میں چلے جائیں آپ کو چپڑاسی سے لے کر متعلقہ لوگ بتا دیں گے کہ فیصلہ کیا آئے گا۔ محکمہ کے حق میں ہو گا یا خلاف۔ یاد رہے کہ محکمہ کا نمائندہ ”چمک“ نہیں دکھا سکتا محکمہ کا وکیل ”چمک“ دکھانے سے محروم ہے وہ دلائل دے سکتا ہے جبکہ دوسری طرف وکیل کے شاید علم میں بھی نہ ہو مگر پرائیویٹ پارٹی جس کے ذمہ کروڑوں روپے ہیں اس کے ہاتھ اور بعض ممبر ٹربیونلز کے منہ کھلے ہیں اب تو بعض جگہ اور بعض واقعات میں فیصلے باہر سے لکھ کر آئے USB میں فیصلہ آنے تک کی باتیں ہیں، جس پر بعض ”محب وطن“ ممبرز دستخط کر دیتے ہیںبعض مقدمات میں فیصلے سابقہ تاریخوں میں لکھے جا رہے ہیں قومی خزانے کی لوٹ سیل الگ بات مگر یہ ٹربیونلز بھی تو عدالت ہی تصور ہوتے ہیں بلکہ عدالت ہیں ان کی ساکھ شہرت عدلیہ کی شہرت اور ساکھ تصور ہوتی ہے جو چلتے لمحے میں عدلیہ پر بوجھ اور بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اس وقت چیئرمین ٹربیونل جناب عارف خان صاحب شریف انسان ہیں مگر بعض کرپٹ، بددیانت ممبران ان کی شرافت کو کمزوری سمجھتے ہیں مختصر یہ کہ کسٹم اپیلٹ ٹربیونل آئی آر اپیلٹ ٹربیونلز و دیگر ایسے فورمز کا بُرا حال ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم کی فوری توجہ قومی خزانے کے اربوں روپے بچا سکتی ہے 4 ٹریلین روپے کے قریب قومی خزانہ سے متعلقہ مقدمات زیرسماعت ہیں 60 ہزار کے قریب مقدمات تو ٹربیونلز میں ہی ہیں۔ ہم دنیا سے قرض مانگنے والی قوم بن چکے۔ ملک دیوالیہ سے بچانے کے لیے آئی ایم ایف کی چوکھٹ پر بیٹھے ہیں مگر اپنے گھر کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ میری رائے میں عدالت عالیہ یا عدالت عظمیٰ کے ایک مستقل جسٹس صاحب کو ان ٹربیونلز کی نگرانی کرنا چاہئے۔ جتنے فیصلے محکمہ جات کے خلاف ہوں ان کا جائزہ لینا چاہئے اور جھوٹے مقدمات قائم کرنے والے سرکاری اہلکاران سے بھی محکمانہ طور پر وضاحت طلب ہونی چاہئے۔ خدارا! ماتحت عدلیہ اور خصوصی فورمز کی کارروائی، فیصلہ جات حتیٰ کہ ممبران کے اثاثہ جات پر کڑی نظر رکھی جائے بعض ممبران کے تو اردلی یا بعض ٹربیونلز کے اہلکار سیٹھ ہو گئے، کسٹم ٹربیونلز ختم ہونے چاہئیں اور اگر نہیں تو پھر چیف جسٹس صاحب کے حکم سے اعلیٰ عدلیہ کے جج کی نگرانی لازم ہے۔ قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ کی نشاندہی بھی کر دی اور حل بھی بتا دیا۔ بے ضابطگیوں کو منظر عام پر لانے کا مقصد ارباب اختیار کو احساس دلانا ہے کہ وہ اپنے طور پر معاملات اچھی طرح چھان بین کر کے اصلاح احوال اور بہتری کے لیے مثبت اقدامات اٹھائے۔

تبصرے بند ہیں.