دائرہ اختیار

111

برطانوی دور میں مفتوحہ ممالک میں کمشنری نظام متعارف کرایا گیا،تب زیر قبضہ ممالک کے عوام کو غلام بنانا مقصود تھا بعدازاں اس نظام میں بہتری لاکر عوام کو سہولیات دینے کا ذریعہ بنادیا گیا،ڈپٹی کمشنر دراصل ضلع کا حاکم ہوتاہے،اس کے بنیادی کام ضلع میں امن وامان اور انتظامی معاملات کا قیام ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اسے ضلع کے عوام کو سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی تفویض کی گئی۔اس عہدے کو زیادہ سے زیادہ عوامی اور فلاحی بنانے کیلئے کسی دور میں اسے ضلعی جج کے اختیارات بھی سونپے گئے تھے،مگر مشرف دور میں کمشنری نظام ختم کر کے ضلع کا حاکم ڈی سی او کو بنا دیا گیا اور اس کے ضلعی جج کے اختیارات ختم کر دیئے گئے ،اس وقت سے تمام عدالتی اختیارات کا منبع ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہی ہے۔تب سے بیوروکریسی کے مختلف گروپوں میں اختیارات کی کشمکش شروع ہو گئی،اگر چہ شہبازشریف نے کمشنری نظام بحال کر دیا مگر اختیارات کے حوالے سے بیوروکریسی میں اب بھی تناؤ ہے،جس کی ایک بد ترین مثال گزشتہ دنوں دیکھنے میںآئی جب ایک کیس میں کنزیومر کورٹ نے ڈپٹی کمشنراور اسسٹنٹ کمشنر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر کے طلب کر لیا اور وہ بھی ایک ایسے کیس میں جو کنزیومر جج کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتا۔
کنزیومر عدالت منڈی بہاؤ الدین کے پاس ایک سرکاری ملازم کی درخواست آئی کہ اس کو الاٹ سرکاری مکان پرساتھی ملازم نے قبضہ کر لیا ہے،جج صاحب نے اس کیس کو سماعت کیلئے منظور کر لیا،ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، دروغ بر گردن راوی ڈپٹی کمشنر نے جج صاحب کو فون کر کے کہا کہ یہ کیس آپ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اس لئے ہمارے ملازمین کو رہا کر دیا جائے، راوی کے مطابق ہی ڈپٹی کمشنر کا لہجہ تحکمانہ تھا جج صاحب نے اسے اپنی توہین گردانا اور توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دئیے،جج صاحب نے اختیارات سے تجاوز کیا تو ان سے بڑی بھی ایک عدالت تھی جہاں یہ ثابت کر کے معاملہ رفع دفع کیا جا سکتا تھا،مگر ڈپٹی کمشنر آفس کی طرف سے اقدام کیخلاف اپیل کرنے کے بجائے اپنا رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی،یوں اگر جج نے اختیارسے تجاوزکیا تو ڈپٹی کمشنر نے بھی اختیار سے تجاوز کیا،حالیہ واقعہ سے ماتحت عدلیہ اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان ایک کشیدگی کی کیفیت ہے،یہ کشیدگی اشتعال میں تبدیل ہو سکتی ہے،جس سے نچلی سطح پر حکومتی معاملات کو منظم اور منضبط انداز میں چلانا ممکن نہیں رہے گا۔
ضلع میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ بہت اہم ہوتا ہے،اگر چہ عدلیہ کابھی اپنا مقام و مرتبہ اوراہمیت ہے،ریاستی معاملات خوش اسلوبی سے چلانے کیلئے ان دونوں اداروں میں ہم آہنگی،مضبوط روابط انتہائی ضروری ہے،انتظامیہ اورعدلیہ ہی دراصل ضلعی سطح ہر حکومتی گاڑی کے دوپہیے ہوتے ہیں،اگران دونوں کی سمت ایک نہ ہو تو ریاستی اور حکومتی معاملات کو چلانا ممکن نہیں رہتا،ڈپٹی کمشنر کوآئین کے مطابق ریاستی،حکومتی،عوامی معاملات کو چلانا ہوتا ہے،صرف حکمرانوں کو راضی کرنا ہی ان کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ عوام کو بھی خوش رکھنا ان کے فرائض میں شامل ہے،محصولات کی ریکوری کے حوالے سے بھی ان کا اہم کردار ہوتا ہے،ان اہم امور کی انجام دہی کیلئے اگر انتظامیہ کو عدلیہ کا تعاون حاصل نہ ہو تو نظام نہیں چلتا،عدلیہ کا کام محتسب کا ہے انتظامیہ کے عوامی مفاد کیخلاف اورآئین کے منافی اقدامات کو روکنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے،یوں دونوں ادارے اپنی اپنی جگہ بااختیار اورآزاد ہیں کوئی کسی کا ما تحت نہیں لیکن کوئی کسی پر سبقت بھی نہیں رکھتا،دونوں ریاستی ادارے اورآئین نے دونوں کے حقوق و فرائض کاتعین کر رکھا ہے،اگر دونوں اسی دائرہ میں رہیں تو کسی کشمکش کا امکان نہ نہیں رہتا۔ یہاں مگرانتظامیہ اورعدلیہ کے مابین یہ فرق ضرور ملحوظ رہے کہ انصاف کیلئے سائلین خود چل کر عدالت آتے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو فیلڈ میں نکل کر عوام کو حقوق اورانصاف دلانا ہوتا ہے،بعض اوقات ضلعی ملازمین کو خاصی نا خوشگوار صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے،تشدد بھی ہوتا ہے مگر اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ کے ملازمین کبھی کبھی اپنی جان خطرے میں ڈال کر فرائض منصبی انجام دیتے ہیں،اورایسے حالات میں ملازمین کوتحفظ دینا بھی ضلعی انتظامیہ کا ہی فرض ہوتا ہے،ان حالات میں اگر ادارے باہم دگر دست و گریبان ہو جائیں تو فیلڈ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کا کو ن پرسان حال ہو گااورکون ان کو تحفظ دے گا؟کنزیومر کورٹ کے جج اور ڈپٹی کمشنر میں حالیہ کشا کش نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے،عوام پوچھ سکتے ہیں کہ ہمیں تحفظ انصاف حقوق دلانے کے ذمہ دار ادارے ایک دوجے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں تو عوام کو تحفظ انصاف اور حقوق کون دلائے گا؟
ایک ایسے وقت میں جب اپوزیشن ملک کی اعلیٰ عدلیہ کیخلاف نفرت انگیز پراپیگنڈہ کر رہی ہو ایسے میں ضلعی انتظامیہ اور ماتحت عدلیہ میں تصادم عوام کا نظام پراعتماد ڈانواں ڈول کرنے کیلئے کافی سے زیادہ جواز رکھتا ہے،اعلیٰ سطح پر ہونے والی سازشی جنگ میں حکومت جانے یا عدلیہ اوراپوزیشن مگر نچلی سطح پر ہونے والی اختیارات کی یہ جنگ حکومت کیلئے بھی زہر قاتل ہے،اصل حکومت ضلعی انتظامیہ ہی ہے اگراسے مفلوج کر دیا گیا تو حکومت کیسے اپنے منشور کوعملی جامہ پہنائے گی اورعوام کو کیونکر ڈیلیور کر سکے گی،آئندہ الیکشن میں کیاکارنامے لیکر انتخابی مہم میں جائے گی،لہٰذا فوری طور پر ذمہ داروں کواس معاملہ میں مداخلت کرنی چاہئے اس سے پہلے کہ ہرایشو پر سیاست چمکانے والے اس ایشو پر سرکاری ملازمین اور وکلاء کو احتجاج اور ہڑتا ل پراکسائیں ذمہ داران مداخلت کریں اور ریاست کے دو اہم اداروں کو مڈھ بھیڑ سے بچائیں ورنہ اگر معاملہ بگڑ گیا تو ضلعی انتظامیہ کا بھرم زمین بوس ہو جائیگااور پھر حکومت کیا کر سکے گی اگرانتظامیہ پر عوام کااعتمادنہ رہا تو حکمران کن پر حکمرانی کریں گے۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ کن باتوں پہ دست و گریباں ہے ،عوامی معاملات پر توجہ دینے کو کوئی تیار نہیں،ہماری ماحولیاتی آلودگی کا گراف ہر روز بڑھ رہا ہے ،سموگ نے جینا دو بھر کر دیا ہے،بچوں کا سکول جانا کم کر دیا گیا ہے ، ہمارے لاہور ،سوہنے شہر لاہور کو اب یہاں تک پہنچا دیا گیا ہے کہ گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے۔پنجاب کی ایک سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری ارم بخاری ان دنوں کوئٹہ تعینات ہیںجہاں فضائیں صاف ہیں،وہ لاہور کی آلودگی کے بجائے بلوچستان کے پر فضا اور شفاف ماحول کو انجوائے کر رہی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے انہیں وہاں پنجاب کی ایڈیشنل چیف سیکرٹری شپ سے زیادہ کام کا مزہ آ رہا ہے اور اب لاہور کے اکثر اعلیٰ افسر بھی سموگ اور فضائی آلودگی سے تنگ آ کر بلوچستان جانے کا سوچ رہے ہیں جہاں اچھی آب و ہوا کے ساتھ ساتھ نیشنل انسٹیٹیو ٹ آف مینجمنٹ کا ادبی ماحول بھی ملے گا۔حرف آخر کے طور پر کوئٹہ کی فضاؤں سے میڈم ارم بخاری کے ٹوئیٹ میں فیض احمد فیض کا شعر
نہ رہا جنون رخ وفا یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے

تبصرے بند ہیں.