حکومت کی طرف سے ریلیف کے نام پر عوام کو تکلیف دی گئی، بلاول بھٹو زرداری

67

لاڑکانہ:  پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ریلیف کے نام پر عوام کو تکلیف دی گئی اور اس کو عوام کب تک برداشت کریں گے

 

اپنے ایک بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ عوام کو عالمی امداد سے ملنے والا فنڈز نہیں ملا اور عوام کب تک برداشت کریں گے جبکہ گلگت سے کراچی تک عوام کا نعرہ ہے کہ پیٹ پر ڈاکا نامنظور ہے۔ 

 

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان جہاں جاتے ہیں بھیک مانگتے ہیں اور جو پیسہ مسلم اُمہ کے ممالک یا آئی ایم ایف سے آئے اس کے بارے میں کسی کو نہیں پتہ وہ کہاں خرچ ہوتا ہے جبکہ بدقسمتی سے پاکستان کو بھکاری بنانے والے عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ آئی ایم ایف جانے کے بجائے خودکشی کر لیں گے، 50 لاکھ گھر بنانے کا دعوی کرکے اقتدار میں آنے والے عمران خان نے کراچی سے کشمیر تک تجاوزات کے نام پر عام آدمی کے گھر گرانے کی کوشش کی۔

 

بلاول کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام تکلیف میں ہیں اور جیالے عوام کو تکلیف میں دیکھ کر چین سے نہیں بیٹھ سکتے اور جب میں بجٹ کی مخالفت کر رہا تھا تو عمران خان نے کہا تھا کہ معاشی ترقی کا دور شروع ہو چکا لیکن وہ معاشی ترقی کہاں ہے جبکہ پی ٹی آئی کو نہ معیشت کا پتہ ہے اور نہ ہی سیاست اور خارجہ معاملات کا کوئی علم ہے۔

 

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ 2 کروڑ خاندانوں کے لیے 120 ارب روپے کا پیکج لا رہے ہیں، انہیں آٹا، دالوں اور گھی پر 30 فیصد سبسڈی دیں گے۔ 40 لاکھ خاندانوں کو بلا سود قرض دینے کا پروگرام لا رہے ہیں جب کہ کسانوں کو 5 لاکھ روپے تک کا بلاسود قرض ملے گا۔

 

عمران خان نے کہا کہ جن صوبوں میں ہماری حکومت ہے وہاں صحت کارڈ لا رہے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ مل چکے ہیں، کشمیر، اسلام آباد اور پنجاب میں بھی سب خاندانوں کو صحت کارڈ دیں گے جس سے وہ 7 سے 10 لاکھ روپے کا علاج کسی بھی اسپتال سے کرا سکیں گے۔

 

وزیراعظم عمران خان نے صنعت کاروں اور فیکٹری مالکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیٹھ اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں دو بڑے خاندان جنہوں نے عوام کا پیسہ لوٹا ہے وہ آدھا واپس کر دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں تمام اشیاء کی قیمتیں آدھی کر دوں گا۔

 

خیال رہے کہ وزیر اعظم نے غریب ظبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سے حکومت کو عوام اور اپوزیشن کی جانب سے مہنگائی پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔

 

 

تبصرے بند ہیں.