استیصال کشمیر

159

آج 5 اگست ہے… دو سال قبل آج کے دن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دوسری مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے اور پہلے سے زیادہ پارلیمانی نشستیں جیتنے کے بعد مقبوضہ ریاست کشمیر کو فوجی طاقت کے بل بوتے پر اور جارحانہ ذہنیت کے تحت پوری طرح اپنے ملک میں ضم کر دیا… اپنے آئین کی دفعہ 370 کو پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظوری حاصل کیے بغیر حرف غلط کی طرح مٹا دیا… آئین کی ذیلی دفعہ 35-A بھی جو غیرکشمیریوں کو ریاست کے اندر جائیداد کی خریدوفروخت کا حق نہیں دیتی نہ انہیں ریاستی سرکاری ملازمتوں کے حصول کی اجازت دیتی ہے اسے بھی ختم کر کے ریاست کو تین انتظامی یونٹس میں تقسیم کر کے اس کی جداگانہ اور متنازع حیثیت کو باقی نہ رہنے دیا… یوں اپنے تئیں کشمیر کے 75 سالہ تنازع کو جسے اصولی اور اخلاقی لحاظ سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے طے کیا جانا تھا باقی نہ رہنے دیا… حکومت پاکستان نے اس تنازع میں باقاعدہ اور تسلیم شدہ فریق کی حیثیت سے سخت احتجاج کیا… بیانات مذمت جاری ہوئے… صدر وزیراعظم اور آرمی چیف نے عالمی سطح پر صدائے احتجاج بلند کی… ملک بھر میں بھارت اور مودی مخالف ریلیاں اور اجتماعات منعقد ہوئے… یوں محسوس ہوتا تھا وزیراعظم عمران خان اور ہماری عسکری قیادت مودی پر اس انتہائی جارحانہ اقدام کو واپس لینے اور متنازع ریاست کی اصل حیثیت کو بحال کرانے کے لئے سخت ترین دبائو ڈالے اور مودی کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیے بغیر دم نہ لے گی… لیکن دو برس گزر چکے ہیں بھارتی وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی… ہمارے حکمران بیانات مذمت اور احتجاجی ریلیوں کے انعقاد کے علاوہ بھارت پر دبائو ڈالنے کے لئے عالمی سطح پر کوئی کامیابی نہیں حاصل کر سکے… سلامتی کونسل کے اندر کوئی قرارداد منظور نہ کرا سکے… یہاں تک کہ اسلامی سربراہی کانفرنس نے بھی جو سال ہا سال سے کشمیری عوام کے حق خودارادی منوانے کے لئے پُرزور الفاظ پر مشتمل قراردادیں منظور کرتی چلی آ رہی تھی کوئی سربراہی یا وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد کرنا گوارا نہ سمجھا… قرارداد کے نام سے کسی قسم کی رسمی کارروائی بھی نہ کی گئی… ہمارے وزیر خارجہ نے مایوسی کے عالم میں ایک بیان سا دیا جس پر دہائیوں سے ہمارے ساتھ برادرانہ و دوستانہ تعلقات رکھنے والی عرب حکومتیں ناراض ہو گئیں… پاکستان کی امداد پر بھی قدغنیں لگا دی گئیں گویا سفارتی محاذ پر ہماری حکومت کو سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا… ہماری بہادر اور وطن کے چپے چپے کی حفاظت کرنے والی فوج اگرچہ کشمیر کی بھارت کے پنجہ استبداد سے آزادی کو اپنا اولین فریضہ قرار دیتی چلی آ رہی ہے اور اس معاملے میں ہمارے جانثار فوجی بڑے پرجوش اور پرعزم بھی ہیں مگر ہماری عسکری قیادت کی جانب سے بھی عالمی حکومتوں کو بار بار یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کرے گا… کشمیر میں کسی قسم کی جنگ مول لینے کا خطرہ اپنے سر نہیں لے گا… اس عالم میں ہم نے دو سال بسر کر لئے ہیں اور آج یوم استیصال کشمیر منا رہے ہیں… ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اور وہی دوچار احتجاجی ریلیاں منعقد کی جائیں گی… اس سے آگے کیا کرنا ہے… کشمیر کو آزاد کرانا تو دور کی بات ہے مودی کو 5 اگست 2019 کے مذموم ترین اقدام کو واپس لینے کی خاطر مجبور کر کے رکھ دینے کے لئے ہماری سفارتی حکمت عملی اور سٹرٹیجک پالیسی کیا ہو گی… اس کے بارے میں اعلیٰ عسکری و سول حکام سمیت کسی کو کچھ علم نہیں جبکہ پاکستانی عوام کو محض مودی کے خلاف بیان مذمت پر ٹرخایا جا رہا ہے… جس کی بھارت کے اس بددماغ سربراہ حکومت کو چنداں پروا نہیں…
مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور مقہور عوام نے اس فیصلے کو کبھی نہیں قبول کیا… وہ نہتے ہیں… پُرامن مزاحمت جاری ہے… لیکن اس سے آگے ان سے زیادہ کچھ ہو نہیں پا رہا… اس لئے کہ پاکستان جو ان کے قضیے میں باقاعدہ فریق ہے اس کے حکمران ان کی خاطر میدان عمل میں کچھ کرنے کے قابل نظر نہیں آتے… اسلحہ کشمیر کے مجاہدین آزادی کے پاس نہیں رہنے دیا گیا… جو مسلح مزاحمت ان نہتے عوام کی جانب سے جاری تھی اس پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر کے اندھی فوجی اور انتظامی طاقت کے بے محابا استعمال اور بنیادی انسانی حقوق کی ہر ہر قدر کو پائوں تلے روندتے ہوئے بھارتی حکومت وقتی طور پر بے اثر بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے… آزاد کشمیر جسے اعلانیہ طور پر آزادی ریاست کے لئے Base Camp کا کام دینا تھا وہاں سے لائن آف کنٹرول کے اس پار ایک دھیلے کے اسلحے یا مالی امداد نہیں جا رہی… آزادی کشمیر کی خاطر جو عسکری تنظیمیں گوریلا جنگ کے ذریعے بھارتی فوج اور پولیس کا ناک میں دم کئے ہوئے تھیں انہیں دہشت گردقرار دے کر اور سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر ناطقہ بند کر کے رکھ دیا گیا ہے… حکومت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے شکنجے میں لینے کی خاطر تمام تر اور بڑی حد تک کامیاب کوشش کی گئی یوں ہمارے ملک کو لینے کے دینے پڑ گئے… گزشتہ دو سال سے ہی ہمارے حکمرانوں کی تمام تر کوششیں اور تدابیر ’ایف اے ٹی ایف‘ کے پیچھے فیصلہ کن عالمی قوتوں کو یہ باور کرانے میں صرف ہو گئے ہیں کہ ہمارا اس کام سے کوئی واسطہ نہیں… حکومت پاکستان نے عافیت اسی میں سمجھی کہ ’ایف اے ٹی ایف‘ کے چنگل سے نجات حاصل کرنے کی خاطر آزاد کشمیر یا پاکستان کی جس بھی گوریلا تنظیم کے آزاد کشمیر یا پاکستان کے اندر آثار پائے جاتے تھے ان پر سخت پابندی عائد کر دی جائے… ان کے کارکنوں اور قائدین کو پابند سلاسل کر دیا جائے… یہ حقیقت میں بھارت کی بہت بڑی کامیابی ہے… اسی لیے مودی سرکار کے وزیر خارجہ نے بغیر کسی جھجک کے کہا کہ پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی پابندیاں جاری رکھوانے میں ان کی حکومت کا بڑا کردار ہے… اور مودی کی دیدہ درینی ملاحظہ کیجیے کہ اس نے گزشتہ ماہ جون میں لاہور میں اپنی رہائش گاہ میں مقید حافظ سعید کے جوہر ٹائون والے محلے میں دہشت گردی کا حملہ کرا دیا تاکہ ان کی جان کو لالے پڑ جائیں… حکومت پاکستان کی جانب سے اس کا الزام تو شواہد کے ساتھ بھارتی ایجنسیوں کے سر دھرا گیا ہے … مگر اس کے آگے ہمارے حکمران مودی سرکار کا کچھ نہیں بگاڑ سکے…
عمران خان 2018 میں وزیراعظم بنے تو پہلے دورہ امریکہ پر واشنگٹن گئے… وہائٹ ہائوس میں اس وقت کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی… عین اس وقت ہمارے آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ بھی وہاں پہنچے ہوئے تھے… ان کا سرخ قالین بچھا کر استقبال امریکی محکمہ دفاع کے صدر دفاتر پینٹاگان میں کیا گیا… صدر ٹرمپ نے ہمارے وزیراعظم سے کہا وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانے کے لیے تیار ہیں… خان بہادر یہ سن کر پھولے نہ سمائے… امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے داد وصول کرتے ہوئے وطن واپس پہنچے… اسلام آباد ہوائی اڈے پر اترتے ہی بیان دے ڈالا ایک مرتبہ پھر ورلڈ کپ فتح کر کے آیا ہوں… اہل قوم کو نوید سنائی آزادی کشمیر کا دن ان کی کامیاب ڈپلومیسی کے نتیجے میں جلد طلوع ہونے والا ہے… اگرچہ امریکیوں نے بعد میں وضاحت کر دی وہ مصالحت اس صورت میں کرائیں گے جب بھارت اور پاکستان دونوں ان کی ثالثی پر رضامند ہو جائیں گے… یہ پے در پے امریکی حکومتوں کا پرانا مؤقف ہے… نئی بات نہ تھی… لیکن صدر ٹرمپ نے دلربائی کے ساتھ عمران بہادر کو اس طرح شیشے میں اتارا کہ وہ ان کی یقین دہانی پر لٹو ہوئے جا رہے تھے… اس کے بعد وہائٹ ہائوس کی جانب سے ایسی کسی یقین دہانی کا ذکر تک نہ کیا گیا… لیکن پاکستانی حکمرانوں نے امیدیں باندھی کہ کشمیر کے تنازع کے حل کی راہیں ہموار ہوا چاہتی ہیں… اسی دوران مودی نے کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا… ہمارے خان بہادر نے اس پر بیان داغ دیا مودی کو اپنے ملک میں 2019 کے عام انتخابات کا چیلنج درپیش ہے… اس میں کامیابی مل گئی تو وہ تنازع کشمیر کے حل کی خاطر ہمارے ساتھ مذاکرات کا دروازہ ضرور کھولیں گے… اسی دوران ابھینندن کا واقعہ ہوا… پاکستان کی فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی پائلٹ کے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے لڑاکا طیارے کو مار گرایا… ابھینندن حکومت پاکستان کی گرفت میں آ گیا… لیکن ہم نے بغیر کوئی شرط منوائے بھارتی جنگی قیدی کو فوری طور پر رہا کرنے کا عہد کر لیا… اس لئے کہ صدر ٹرمپ کا بھی دبائو تھا اور بھارت بھی کوئی نہ کوئی مذموم کارروائی کرنے پر تلا ہوا تھا… لہٰذا ابھی نندن کو فوراً واہگہ سرحد کے پار بھارتی حکومت کے حوالے کر دیا گیا… اب عمران خان کا خیال تھا کہ مودی شکرگزار ہو گا کم از کم ایک ٹیلیفون تو کر دے گا… وہاں سے فون کیا واجبی رسمی بیان بھی جاری نہ ہوا… تب عمران بہادر نے یکے بعد دیگرے مودی کو تین ٹیلیفون کر ڈالے… ایک کا بھی جواب نہ ملا… پھر 5 اگست کا واقعہ ہو گیا… بھارتی وزیراعظم نے کشمیر کو ہضم کر لیا… ہمارے پاس سوائے احتجاج کرنے کے کوئی لائحہ عمل نہ رہا… آج کی کیفیت یہ ہے نیا امریکی صدر جوبائیڈن ہمارے وزیراعظم کے ساتھ بات کرنا گوارا نہیں کرتا… ہم نے اسی شکایت کے ساتھ اپنے سکیورٹی ایڈوائزر معید یوسف کو واشنگٹن بھیجا ہے… وہاں سے ٹکا سا جواب ملا ہے جب مناسب سمجھیں گے کر لیں گے… چین جیسا دوست تاریخ میں پہلی مرتبہ ناراض ہوا ہے… عرب ممالک کشمیر پر منہ لگانے کے لئے تیار نہیں… ہم لاکھ کہتے رہیں جب تک مودی 5 اگست کے اقدام کو واپس نہیں لیتا بھارت کے ساتھ تعلقات استوار نہیں کیے جا سکتے… مودی کو کوئی فرق نہیں پڑتا… وہ اپنی طاقت کے گھمنڈ اور کہیں بہتر سفارتی تعلقات کے زعم میں ضد کا پکا بن کر کشمیر کو ہضم کیے بیٹھا ہے… ہمارے پاس اسے آزاد کرانے کی بظاہر کوئی سبیل باقی نہیں رہی… شاید وہاں کے عوام کبھی اتنے بڑے ظلم اور جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں… آزاد کشمیر کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم کرنے کے بعد اسے صوبہ میں تبدیل کر دینے کی جو باتیں ہو رہی ہیں سو علیحدہ… چنانچہ جہاں تک کشمیر کو بھارتی چنگل سے آزاد کرا لینے کے حوالے سے پاکستان کے حکمرانوں کا تعلق ہے
گر ہمیں ملّا و ہمیں مکتب
کار طفلاں تمام خواہد شد

تبصرے بند ہیں.