گزشتہ حکومتوں نے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کرکے اداروں کو تباہ کیا، فواد چودھری

131

اسلام آباد: وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ ہمیں اداروں کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کرکے اداروں کو تباہ کیا، ہم اداروں کو مستحکم کر رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے بیانیے کو آگے بڑھائیں گے۔

وزیر اطلاعات فواد چودھری کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے ایکسٹرنل پبلسٹی کا بجٹ 4 کروڑ روپے جبکہ ہمارے مقابلے بھارت کا بجٹ اربوں روپے ہے۔ گزشتہ دنوں انفولیب بھی پکڑی گئی تھی، جس کے ذریعے پاکستان مخالف اقدامات کئے گئے۔

فواد چودھری نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے وزارت اطلاعات کے اداروں میں ووٹرز کو نوکریاں دیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں پی ٹی وی کیلئے 2200 بھرتیاں کی گئیں۔ پی ٹی وی ان لوگوں کو 34 کروڑ روپے ماہانہ تنخواہیں دے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتوں نے پاکستان کے تمام اداروں کا بھٹہ بٹھا دیا۔ وزارت اطلاعات کو پچھلی حکومتوں نے رولنگ پارٹی کا سپوکس پرسن بنا دیا تھا۔ موجودہ حکومت اس وقت وزارت اطلاعات کو حکومت کا ترجمان بنا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگست کے پہلے ہفتے میں پی ٹی وی ایچ ڈی ہو جائے گا۔ اے پی پی کو ڈیجیٹل میڈیا نیوز ایجنسی کے طور پر سامنے لا رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں، اگست میں نئی پروگرامنگ ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی صحافتی تاریخ میں پیپلز پارٹی کے دور میں صحافت پر حملے ہوئے۔39 حملوں میں 32 صحافی اپنی جانوں کی بازی ہار گئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں صحافیوں پر 18 حملے ہوئے جن میں 14 جاں بحق ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں پر مقدمات درج ہوئے۔ بلاول بھٹو کو جرنلسٹس پروٹیکشن بل کو پاس کرنا چاہیے وہ کیوں لے کر بیٹھے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ مریم اورنگزیب نے فیک نیوز پر مہم چلائی۔ ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کیلئے دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں کھیلنا چاہیے۔ پاکستان کے اوپر ایک مخلص قیادت بیٹھی ہوئی ہے۔ وزیراعظم پاکستان کو دنیا بھر میں پرامن ملک کے طور پر منوانے کیلئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 250 پاکستانی اور 40 کے قریب غیر ملکی چینل آزادی سے کام کر رہے ہیں۔ افغانستان سے پاکستان کیخلاف باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے۔ پاکستان کیخلاف جو بھی مہم چلائی جاتی ہے اس کی باقاعدہ ادائیگی ہوتی ہے، یہ مفت نہیں ہوتی۔

تبصرے بند ہیں.