”ہمتِ مرداں مددِ خدا“ پروفیسر حافظ ڈاکٹر فدا حسین

201

شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کی وجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کی وجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔ اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔ 
آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔ڈاکٹر حافظ فدا حسین کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دیارِ پر خار میں میں اپنا مقام بنانے میں پوری لگن،تندہی اور تگ ودو کو معرضِ التوا میں رکھے بغیر اپنی منزل کو استقامت بخشی۔آپ چاہے بلوچ والا موضع جلال پور کھاکھی تحصیل شجاعت آباد ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔آپ نے گورنمنٹ کمپری ہنسو ہائی سکول ملتان سے میڑک اور گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے انٹر اور بی اے کا امتحان پاس کیا۔آپ نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔۔آپ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔آپ 1993ء میں ایجوکیشن بورڈ ملتان میں بطور اسسٹنٹ بھرتی ہوئے اور 1997ء میں ڈائریکٹ سلیکشن کے ذریعے اسسٹنٹ کنٹرولر تقرر ہو گئے۔آپ 2004ء میں ڈپٹی کنٹرولر بنے اور 2017ء میں آپ کی پرموشن گریڈ انیس میں ہو گئی۔13 جون 2018ء آپ کو کنٹرولر امتحانات بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ساہیوال تعینات کر دیا گیا۔آپ بورڈ ہذا کے پہلے کنٹرولر تھے جو باقاعدہ ایجوکیشن بورڈ سروس کا وسیع تجربہ تھے اور زرخیر ذہن کے مالک تھے۔جب 
آپ نے چارج سنبھالا تو اس وقت میٹرک اور انٹر سالانہ امتحان 2013 کی اسناد کا اجرا ہو رہا تھا ہر دوسرے امیدوار کو OBTC سند کے لیے اپلائی کرنا پڑھ رہا تھا۔مجوزہ ارجنٹ فیس جمع کرانے کے باوجود طالب علم کو بورڈ ہذا کے متعدد چکر کاٹنا پڑ رہے تھے۔اس حوالہ سے ہر طالب علم والدین پریشانی کے حصار میں مبتلا تھے۔آپ نے اسناد کی پرنٹنگ کا کام صبح آٹھ سے رات آٹھ تک کرا کر کاؤنٹر فائلز کی پڑتال،اسناد کی چیکنگ اور پڑتال اور اسناد کے اجرا تک کے تمام مراحل کو اپ ڈیٹ کرکے شبانہ روز کی محنت سے طالب علموں کو ان کے دروازے پر اسناد کی ترسیل ممکن بنا کر ایک خوش اسلوب،ایماندار،فرض شناس اور محب وطن شہری ہونے کا فریضہ بخوبی احسن سر انجام دیا۔2019ء تک میٹرک اور ضمنی امتحان کے278195 اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ 149044 طالب علموں کو ان کی اسناد ان کے گھریلو پتے پر ارسال کر چکے ہیں۔آپ نے دوران امتحان موصولہ شکایات کو یومیہ بنیادوں پر نمٹایا اور ساہیوال بورڈ امیگریشن کا اجرا کیا۔آپ کی زیر نگرانی سہولت مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا۔آپ نے انسپکشن سیل کے قیام کے ساتھ امتحانی سنٹروں میں سی سی ٹی وی کیمرہ جات کی تنصیب کو بھی ممکن بنایا۔آپ نے حد درجہ بوٹی مافیا کا خاتمہ کیا اور امتحانی نظام کو شفاف بنانے میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کیا۔آپ نے بورڈ ہذاکی منظور شدہ جملہ اسامیوں کی تکمیل میں بھرپور کردار ادا کرنے کے ساتھ دیگر برانچوں کے sops کی تیاری اور پر مکمل عمل درآمد کروا کر بہتری کی صورت پیدا کی اور باقی نظام کو درست سمت عطا کی۔آپ کے نزریک اچھے اور کامیاب منتظم کے پاس خوداعتمادی اورباصلاحیت افراد کی ٹیم ہونا ضروری ہے اور مسائل کے حل کے لیے بہتر قوت فیصلہ،وقت کی پابندی، ضبط نفس،انصاف پسندی، لگن، ہمدردی، کام سے محبت،مثبت رویہ،دوسروں پر اعتماد، صبروتحمل، قوت فیصلہ، مستقل مزاجی، مشاورت، مثبت رویہ، عفو و درگز، کارکنوں سے محبت،عزت نفس کا خیال،حکمت عملی،دوسروں کو ساتھ لیکر چلنے کی عادت، متعلقہ ادارے کے قوانین کی آگاہی، چیلنج کو قبول کرنا،خدمت خلق کا جذبہ اور غیر متزلزل جرأت جیسی اعلیٰ صفات کا ہونا ضروری ہے۔ آپ کے نزدیک پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے اور کامیابی کی کنجی حرکت کے بغیر مکمن نہیں اور منزل کو پانے کے لیے تیز تر حرکت کی ضرورت ہے اور یہ فطرت کا قانون بھی ہے۔
کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان خیالی دینا سے نکل کر حقیقت کی طرف گامزن ہونے اور ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی طرف گامزن رہے۔آپ کی زندگی میں حقیقت کو تراجمانی حاصل ہے اور خود حقیقت کی شارع پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔آپ کوبورڈ ہذا کے جملہ آفیسرز میاں مختار احمد آڈٹ آفیسر،جناب علی بہادر سابق کمشنر وچیئرمین بورڈ ہذا،ڈاکٹر فرخ مسعود سابق کمشنر و چیرمین بورڈ ہذا،جناب عارف انور بلوچ سابق کمشنر و چیئرمین بورڈ ہذا،جناب پروفیسر رانا عبدالشکور ڈائریکٹر کالجز و چیئرمین بورڈ ہذا،پروفیسر ڈاکٹر رابعہ اختر سیکرٹری بورڈ ہذا اور موجودہ چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ساہیوال اسم بامسمیٰ حافظ محمد شفیق جیسے فرض شناس لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملاجو بلاشبہ آپکی آنے والی پیشہ ورانہ زندگی میں ایک خوبصورت تجربہ ثابت ہوگا۔آپ 13 جون 2021ء کو اپنا سالہ دورانیہ نہایت دیانتداری سے مکمل کر چکے ہیں اور کسی دوسری جگہ تقرر کے انتظار میں۔بورڈ ہذا ہمیشہ کی احسن خدمات کو یاد رکھے گا۔آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ ”ہمت مرداں مددِخدا“اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

تبصرے بند ہیں.