سیاسی، جمہوری رویوں پر داغ دھبے

125

ایوانوں میں کیا ہو رہا ہے، کون لوگ ہیں جو قانون ساز اداروں میں براجمان ہیں۔ اک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں، پارلیمنٹ کے تقدس کی باتیں کرنے والے اسی ایوان میں کھڑے ہو کر گالم گلوچ، سیٹیاں بجانے، نعرے بازی ایک دوسرے پر کتابیں اور بوتلیں پھینکنے اور سیاسی بد تہذیبی کا مظاہرہ کرنے پر اتر آئے ہیں۔ چار دنوں کے اجلاس میں منتخب ارکان کے سیاسی اورجمہوری رویوں پر داغ دھبے نمایاں نظر آنے لگے ہیں۔ نفرتوں اور انتقام کی آگ کس نے بھڑکائی ہے؟ سوالات ذہنوں میں کلبلانے لگے ہیں۔ اخلاقیات کا فقدان باہمی احترام اور شائستگی کہاں گئی؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایسا تو نہیں تھا جیسا اب ہے۔ ”جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی“ کیا نیا پاکستان ایسا ہی ہوگا۔ مادر پدر آزاد، یہ جمہوریت کا حسن ہے یا جمہوریت سے انتقام؟ارکان ایک دوسرے سے کب کے بدلے چکا رہے ہیں؟ تحمل اور رواداری ایوانوں سے رخصت ہوگئی ہے۔ کیسا نظام ہے جہاں قانون ساز اسمبلی کی رکنیت کے لیے غلیظ گالیوں اور ذاتی حملوں میں مہارت تامہ ضروری قرار دی گئی ہے؟ پاور ہاؤس، گرڈ اسٹیشن کہاں ہے جہاں سے ہنگامہ آرائی کا بٹن آن آف ہو رہا ہے؟ وہ کون ذات شریف ہے جس نے کہا یہ سب کچھ کرو اور پھر کس نے بلا کر کہا یہ سب کچھ نہ کرو؟ بجٹ منظوری کی آڑ میں فری اسٹائل دنگل قومی اسمبلی میں چار دن کے جھگڑے فساد، لوگوں نے ایوانوں کو میدان جنگ قرار دے دیا۔ پہلے دن گالم گلوچ دوسرے دن ہاتھا پائی بجٹ دستاویز ایک دوسرے پر پھینکی گئیں، کئی اعوان ایوان میں آپے سے باہر ہوگئے، تیسرے دن مار کٹائی سارجنٹ ایٹ آرمز بھی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام، اسپیکر بے بس، 7 ارکان کے خلاف ایکشن قومی اسمبلی کی حدود میں داخلہ پر پابندی، اپوزیشن کی جانب سے پابندی مسترد احکامات ماننے سے انکار، ماحول انتہائی کشیدہ ہونے پر ”گاڈ فادر“ نے آنکھیں کھولیں۔ اسپیکر کو طلب کیا۔ حالات معمول پر لانے کی ہدایت کی۔ ڈرامہ ختم، کہانی تمت بلخیر، چوتھے دن جنگ بندی، توپیں خاموش لیکن قائد حزب اختلاف کی تقریر کے دوران چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ جاری،  7 ارکان پر پابندی ختم ایوان میں واپسی، جیت کس کی ہوئی کون ہارا؟ کسی  کوبھی پتا نہیں مگر اہل نظر سب جانتے ہیں۔ ”معصوم لوگ ایسے بھی سارے نہیں رہے۔ پہنچاننے لگے ہیں قلندر کی سازشیں“۔ سنجیدہ مزاج لوگ اور دور تک دیکھنے والے خطرات محسوس کرنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا بجا ہے کہ حالات جس برق رفتاری سے تبدیل ہو رہے ہیں ان سے یہ خطرہ پیدا ہوچلا ہے کہ کہیں سیاسی نظام کی بساط ہی نہ لپیٹ دی جائے، تاریخ سے واقف لوگ مشرقی پاکستان اسمبلی میں  1958 کے وسط میں شدید ہنگاموں کے دوران ڈپٹی اسپیکر کی موت کا ذکر کرتے اور یاد دلاتے ہیں کہ اس کے بعد ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا گیا تھا، اسپیکر چار دنوں کے دوران بھی بے بس دکھائی دیے مقام شکر ہے کہ حالات کا جلد ادراک کرلیا گیا۔ ورنہ ایوان میں کشتوں کے پشتے لگ جاتے  ہنگامہ آرائی سے منتخب ارکان کا کردار طشت ازبام ہوگیا کہ ”وہ جن کے کام ہیں شیطانوں
جیسے، وہی خود کو فرشتے بولتے ہیں۔“ حکومتی بینچوں میں بہت سے ارکان اچھے کردار اور سوجھ بوجھ کے مالک ہیں لیکن بقول حضرت سعدی ”جمال ہم نشیں درمن اثر کرد، وگرنہ من ہما خاکم کہ ہستم“ جب اجلاسوں میں ملکی ترقی پر غور و خوض اور عوام کی فلاح و بہبود پر فکر کی بجائے اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کی ہدایات دی جائیں تو سنجیدہ مزاج لوگ کیا کریں۔ مٹی سے وہی خوشبو آئے گی جس کا بیج بویا جائے گا۔ نفرتوں کے بیجوں سے محبتوں کے پودے پروان نہیں چڑھیں گے۔ سلسلہ ختم نہیں ہوا گزشتہ جمعہ کو بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ قومی اسمبلی میں ہونے والے واقعات کا تسلسل ہے، بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان بجٹ میں ترقیاتی فنڈز مختص نہ کیے جانے کے خلاف پچھلے کئی روز سے دھرنا دیے بیٹھے تھے وزیر اعلیٰ سمیت کسی وزیر مشیر نے انہیں درخور اعتناء نہ سمجھا،ارکان اسمبلی میں اشتعال فطری تھا انہوں نے بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر اسمبلی کے مین گیٹ کو تالے لگا دیے اسپیکر کو اسمبلی میں داخل نہ ہونے دیا گیا پولیس نے بکتر بند گاڑی کے ذریعہ گیٹ توڑ دیا۔ وزیر اعلیٰ جام کمال کے گھیراؤ کی کوشش کی گئی۔ وہ پولیس حصار میں ایوان میں پہنچے تاہم پہنچنے سے قبل کسی نے گملا اٹھا کر دے مارا،مقام شکر نشانہ خطا ہوا۔ ورنہ بڑا نقصان ہوتا، زمانہ قدیم کے عاشق تو محبوب سے گل پھینکنے کی درخواستیں کیا کرتے تھے ”گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی۔ اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی“ یہاں کسی گل خان نے پورا گملا وزیر اعلیٰ کی طرف اچھال دیا،پولیس نے اپوزیشن اور ان کے کارکنوں پر آنسو گیس سے شیلنگ کی لاٹھی چارج کیا کارکنوں نے ارد گرد کی شاہراہیں بند کردیں اور مظاہرہ کا اعلان کیا، بجٹ تو یہاں بھی پیش کردیا گیا لیکن حساس ترین صوبے میں آئندہ کے حالات غیر یقینی ہو گئے۔ چاروں صوبوں بشمول وفاق کے بجٹ پیش ہوگئے اپوزیشن ہر جگہ غیر مطمئن، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خبردار اس نا اہل حکومت کے لیے ریاست مدینہ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے۔ بجٹ اور بجٹ اجلاس دونوں غیر قانونی ہیں۔ معاشی بر تری کے دعوے جھوٹے عوام مہنگائی کے سونامی میں غوطے کھا رے ہیں۔ ملک میں مزید  2 کروڑ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے، شہباز شریف نے کہا عوام کی جیبیں خالی تو بجٹ جعلی، جواب آیا آپ نواز شریف کے ضمانتی ہیں انہیں واپس لائیں، سوال گندم جواب جو، ہزار دن گزر گئے عوام کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں اپوزیشن کی شکایات پر غور تو کیا جائے ان کا کہنا بجا ہے کہ معاشی ترقی ہو رہی ہے تو مہنگائی کیوں، ترقی کے ثمرات عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہے وہی لوڈشیڈنگ، آٹا چینی پیٹرول اور دیگر اشیائے صرف میں دن بدن اضافہ، روزانہ اجلاسوں میں دی جانے والی ہدایات اور احکامات پر کون عمل کر رہا ہے۔ چینی ابھی تک سو کے ہندسے کو چھو کر آگے بڑھ رہی ہے۔  20 کلو آٹے کا تھیلا 780 روپے میں وزیر اعلیٰ ہاؤس سے بھی دستیاب نہیں، بنیادی سوال گندم وافر تو آٹا مہنگا کیوں، فلور ملیں بند کرنے کی دھمکیاں کیوں مل رہی ہیں؟کیا گندم برآمد کرنے کے ارادے ہیں؟ لیکن برآمد کرنے کے بجائے گندم درآمد کی گئی، کسان کو  1800 فی من کے حساب سے ادائیگی باہر سے 2200 روپے من کی شرح سے ناقص گندم منگوائی گئی۔ اپوزیشن کو یہی گلہ ہے کہ حکومت اپنے اقدامات کا کوئی جواز پیش نہیں کرتی ایوانوں میں اپوزیشن کی تمام تحاریک مسترد،کیسی حکومت ہے جو اپوزیشن کے بغیر ایک دن میں 21 بل منظور کرلیتی ہے اور اس پر دعوے کہ اپوزیشن انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کے سلسلے میں حکومت سے تعاون نہیں کر رہی۔ تعاون کس نے مانگا، قسم لے لیجیے تین سال ہونے کو آئے وزیر اعظم نے آج تک کسی اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ کیا نہ کسی کو بلا کر بات کی۔ دنیا کے واحد وزیر اعظم ہیں جو اپوزیشن کو چوروں ڈاکوؤں کے القابات سے نواز کر ملنے سے گریزاں ہیں۔ مذاکرات اسپیکر سے یا کسی کمیٹی سے کیے جائیں،کیوں؟ بالواسطہ مذاکرات کی بجائے بلا واسطہ تجاویز کیوں نہ پیش کی جائیں تاکہ انتخابی اصلاحات سمیت ملکی مسائل جلد از جلد حل ہوں اور قومی اسمبلی میں ان مسائل پر ملکی روایات کے مطابق جمہوری انداز میں بات ہو سکے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا اور اہل نظر کہنے لگے ہیں کہ سسٹم جواب دے چکا ہے اور حکومت روزانہ اجلاسوں اور ملاقاتوں پر چل رہی ہے۔ المیہ ہے کہ کسی کو ارد گرد کی کوئی خبر نہیں کل کیا ہوگا۔ ”عاقبت کی خبر خدا جانے“ تاہم سوچنا ہوگا کہ عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی خدانخواستہ بلوچستان اسمبلی کے احاطے سے باہر نکل آئی قومی اسمبلی میں چار روزہ جنگ سڑکوں تک آپہنچی تو کیا ہوگا؟

 

 

تبصرے بند ہیں.