امریکی اڈے اور عمران خان

112

پاکستان میں امریکی فوجی اڈوں کے حوالے سے عمران خان کا تازہ بیان حوصلہ افزا ہے کہ کسی بھی صورت میں پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے فراہم نہیں کرے گا، خواہ اس کا مقصد افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد انٹیلی جنس کو اکٹھا کرنا ہو یا دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنا مقصود ہو۔ امریکی افغانستان سے نکل رہے ہیں اور اس کے بعد بھی وہ افغانستان کے معاملات سے دست کش نہیں ہونا چاہتے اور اس مقصد کے لیے وہ پاکستان کے پیچھے چھپ کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر تے نظر آ رہے ہیں۔ اگر امریکہ کو افغانستان کے حوالے سے کوئی تشویش ہے یا وہ افغانستان میں اپنی فوج کی موجودگی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو بہتر ہے کہ ان سے بات کرے جن سے معاہد ہ کیا گیا ہے۔ طالبان نے نپے تلے انداز میں جواب دے دیا ہے کہ جو بھی امریکہ کو اپنی سرزمین دے گا وہ اس کے نتائج کا ذمہ دار بھی ہو گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ترکی اور پاکستان پر مشتمل فوج کو افغانستان کی سلامتی کے حوالے سے کردار دینے کی بات آئی۔ اب یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ امریکہ اور ترکی کابل ایئر پورٹ کی سکیورٹی پر بات چیت کر رہے ہیں تاکہ امریکی فوج کے انخلا کے وقت ترکی کی فوج کابل ایئر پورٹ کی سکیورٹی کو برقرار رکھے۔ امریکی افغانستان سے دم دبا کر بھاگ رہے ہیں اور ان کی خواہش یہ ہے کہ کسی طرح اس وار تھیٹر میں پاکستان کو شامل کر دیا جائے۔ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ کرانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور پاکستان کو اس سے زیادہ کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ افغانستان کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے جب پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جاتی ہے تو سمجھ آ جانی چاہیے کہ ان بیانا ت کے ذریعے وہ اپنی فرسٹریشن نکال رہے ہیں کیونکہ یہ بات طے ہے کہ امریکہ کے نکلنے کے بعد ان کا والی وارث کوئی نہیں ہو گا۔ کیا امریکی انخلا کے بعد اشرف غنی
اور ان کی فوج طالبان کا مقابلہ کر پائے گی۔ وہ دن بھی دور نہیں ہے جب یہ لوگ طالبان کے سامنے ہتھیار پھینکتے ہوئے نظر آئیں گے۔
سچ تو یہ ہے کہ افغانوں نے دنیا کی تین بڑی طاقتوں کو دھول چٹا دی ہے۔ پہلے انہو ں نے برطانیہ کے ساتھ ٹکر لی اور برطانیہ کو منہ کی کھانا پڑی۔ سوویت یونین بھی بد مست ہو کر افغانستان میں اترا تھا اور ا س جنگ کے نتیجہ میں اس کے حصے بخرے ہو گئے۔ امریکہ نے افعانستان پر اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے کی کوشش کی مگر ان کی حکومت بھی کابل اور چند مخصوص علاقوں تک ہی محدود رہی۔ امریکہ کے ہوتے ہوئے بھی افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر طالبان کا قبضہ برقرار رہا۔امریکی جب اس ملک کو سنبھال نہیں سکے تو اب انہیں اس بات کی کیا ضرورت پیش آ رہی ہے کہ وہ افغانستان سے نکل کر اپنے ڈیرے پاکستا ن میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ شکست ہوئی تو ہے تو اسے تسلیم کرو اور اپنی پشت کو سہلاتے ہوئے اپنے فوجیوں کو گھروں کو بھیجو کہ وہ وہاں جا کر اپنا نفسیاتی علاج کرائیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ بار بار پاکستان کی طرف کیوں دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان پر ہی کیوں دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ امریکی خواہشات کے سامنے سر خم تسلیم کرے۔ امریکی پنٹا گون اور حکومت نے جس طرح طوطا چشمی کا مظاہرہ ماضی میں کیا ہے اس کو دیکھ کر حکومت کو اپنے ٹھوس موقف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔اگر عمران خان نے اس دباؤ کو قبول نہیں کیا تو قوم اسے سلام کرے گی۔
میں نے پہلے بھی عرض کی ہے کہ امریکی پاکستان کی طرف ہی کیوں دیکھ رہے ہیں؟ اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ ہم ان کو اپنی خدمات پیش کرتے رہے ہیں۔ تبھی وہ برملا یہ کہتے ہیں کہ پاکستان پیسے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے؟ عمران خان کے بیانات کے باوجود دل میں وسوسے بھی ہیں کہ یہ پاکستان ہی ہے جس نے ہمیشہ یہ انکار کیا کہ پاکستان کی سرزمین پر کوئی امریکی فوجی نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان  نے امریکہ کو کوئی فوجی اڈہ دے رکھا ہے مگر حقیقت میں امریکی پاکستان کے فوجی اڈوں کو استعمال کرتے رہے۔ یہ کام حالیہ دہائیوں میں بھی ہوا اور جب پاکستان بنا تو اس کے بعد ہی ہم نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دیے۔ ان میں ایک بڈھ بیر کا اڈہ بھی تھا جسے اس وقت امریکہ نے سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا۔ اس اڈے کا انکشاف اس وقت ہوا جب سوویت یونین نے ایک امریکی جہاز کو مار گرایا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کی قیادت امریکیوں کے سامنے لیٹ گئی تھی۔ انہو ں نے شمسی اور جیک آباد ائیر پورٹ کو بلا روک ٹوک استعمال کیا۔ کیا اس وقت بھی پاکستان نے یہ نہیں کہا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ بیرکوں کے بجائے سوتے بھی اپنے جہازوں میں ہو۔ فوجی سازو سامان اور لاجسٹک کے لیے پشاور اور چک لالہ ایئرپورٹ بھی استعمال ہوتا رہا۔ گزشتہ ماہ وزیر خارجہ کا بیان سامنے آیا تھا کہ امریکہ کو فوجی اڈے دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس کے بعد امریکیوں کی طرف سے بیان آیا کہ امریکی اڈوں کے حوالے سے پاکستان سے بات چیت جاری ہے۔ جب یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ پاکستان فوجی اڈے نہیں دے گا تو مذاکرات کا ڈول کیوں ڈالا جاتا ہے۔ امریکہ نے ایک طرف پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیا اور اس کے تحت امریکی امداد بھی دی لیکن یہ امریکہ ہی ہے جس نے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی۔ اب بھی فیٹف، آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی خطے پر نظر ڈالتے ہیں تو دور دور تک انہیں کوئی ایسا ملک دکھائی نہیں دیتا جہاں وہ اپنے قدم جما سکے۔ صرف بھارت رہ جاتا ہے جس کی سرحد افغانستان سے بہت دور ہے۔ یا پھر وہ قطر اور دبئی یا سعودی عرب میں بیٹھ کر کام کر سکتا ہے۔
اس سوال کا جواب بھی آنا چاہیے کہ آخر وہ کونسی انٹیلی جنس ہے جو وہ پاکستان میں بیٹھ کر اکٹھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے کئی سیٹلائٹ مدار میں موجود ہیں اور وہ پاکستان کی ہر سڑک اور کونے کی خبر انہیں دے رہے ہیں تو پھر امریکہ کو اور کیا چاہیے۔ ویسے بھی امریکہ کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے سیٹلائٹ اتنے طاقتور ہیں کہ زمین پر پڑی سوئی کی تصاویر بھی لے سکتے ہیں تو ان سے کام لیں۔ کھلے سمندروں میں بسیرا کرے اور وہاں سے اپنی کارروائیوں کو جاری رکھیں۔ پاکستان کو اس جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ چند ارب ڈالر کے لالچ میں پاکستان افغانستان کے جنگ کو اپنے اندر لانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے اب  اس میں مزید نقصان برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
آخر میں یہ بھی عرض کرنا ہے کہ کہیں پہلے والا ڈراما پھر نہ دہرایا جائے۔ شمسی ایئر بیس کی کہانی بھی سن لیں۔ پاکستان نے شمسی ایئر بیس کو ابو ظہبی کے شاہی خاندان کو استعمال کرنے کے لیے لیز پر دے دیا۔ شاہی خاندان
کے یہ لوگ پاکستان میں شکار کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اب یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ کیا نائن الیون سے پہلے بھی یہ عرب شہزادے پاکستان میں شکار کرنے کے لیے آتے تھے یا یہ سلسلہ اس کے بعد شروع ہوا ہے۔اکتوبر 2001ء کو ابو ظہبی نے شمسی ائیر بیس کو سی آئی اے اور امریکی ائیرفورس کو آگے ٹھیکے پر دے دیا۔ اس کے بعد امریکیوں نے اس فوجی اڈے کو افغانستان میں ڈرون حملوں کے لیے استعمال کیا۔ یہاں پر امریکی فوجیوں کے ساتھ ساتھ بلیک واٹر کے لو گ بھی آپریشن میں حصہ لیتے رہے۔ امریکیوں نے یہاں پر ڈرونز کو رکھنے کے لیے اپنے ہینگرز اور فوجیوں کی رہائش کے لیے کالونی بھی تعمیر کی۔ ریمنڈ ڈیوس کے واقعہ پر ان سرگرمیوں کو بند کرنا پڑا تاہم امریکی اسے ایمرجنسی اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے استعمال کرتے رہے تاہم سلالہ پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستان نے امریکیوں نے اس فوجی اڈے کو خالی کرا لیا۔ اب اس طرح کی کسی لیز کی گنجائش باقی نہیں رہنی چاہیے۔ پاکستان اس خطے سے امریکیوں کو نکالنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے ہاں بھارت کو امریکی عزیز ہیں تو وہ  انہیں اپنے ہاں اڈے فراہم کرے اسے کون روک سکتا ہے؟ چین، روس اور ایران ہماری طرف دیکھ رہا ہے کہ تاریخ کے ان نازک موڑ پر پاکستان کی قیادت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ امریکیوں کے ڈو مور کے مقابلے میں نو مور کا جواب جانا چاہیے۔

تبصرے بند ہیں.