پارلیمانی روایت

109

مہنگائی، گرانی کے بوجھ تلے دبے عوام کی دلچسپی اس بجٹ بحث میں تھی جو ایوان زیریں میں پارلیمانی روایت کے مطابق پیش ہونا تھا،لیکن نمائندگان نے عوامی دکھ اور کرب کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے اپنے انداز میں ”انجوائے“ کیا ہے،اس ساری مشق میں مردو زن ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دئیے،مہذب سمجھے جانے والا ایوان ایک مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہاتھا،میڈیا کی آنکھ سے دیکھ کرتو یہ لگا کہ اس”جنگ“ میں ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ حصہ بقدر جثہ ضرور ڈالے،کون کون اس کی زد میں آتا ہے دوران کارروائی وہ اس سے قطعی بے خبر رہے،انکی مدہوشی کا البتہ نقصان یہ ضرور ہوا کہ کچھ خواتین ممبرز بھی ان کے نشانے پر آکر زخمی ہو گئیں،اراکین اسمبلی نے جس وصف کا زیادہ مظاہرہ کیا وہ غیر شائستہ زبان کا استعمال اور آن ائیر گالیاں تھیں جو میڈیا کی وساطت سے پورے عالم نے سنی ہیں،صلواتیں سنانے والے کسی طور بھی ناخواندہ معلوم نہ ہوتے تھے،صنف نازک کی موجودگی کا بھی انہوں نے لحاظ کر نے زحمت نہ کی،اس شدت سے جاری لڑائی سے اندازہ کر نا مشکل نہ تھا کہ موصوف کس حد تک پارلیمانی روایات کے امین تھے۔
سپیکر اسمبلی تو بے بس دکھائی دئیے،انہوں نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے جو فورس بلا ئی تھی اس کو بھی ناکام لوٹنا پڑا۔دودن تک جاری رہنے والی اس مختصر جنگ کا بالآخر خاتمہ اس بات پر ہوا کی اپوزیشن لیڈر کی تقریرکو دل پر ہاتھ پر سنا جائے گا اور کوئی ممبر اپنی نشست سے اٹھے گا نہ ہی شور شرابہ کیا جائے گا،جگ ہنسائی کے بعد اس معاہدہ پر کتنی مدت تک عوامی نمائندگان عمل پیرا ہوں گے یہ کہنا قبل از وقت ہے،کیا یہ اچھا ہوتا کہ اس جھگڑے کی نوبت نہ آتی اگر معاملات پہلے سے طے ہوتے، نجانے ٹف ٹائم دینے کا مطلب کیوں لڑائی جھگڑا سمجھ لیا جاتا ہے،سرکار اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کی تھیوری پر عمل پیرا ہونا چاہتی تھی تو اس کے لئے غیر پارلیمانی انداز اپنانے کا مشورہ کس مہربان کا تھا؟
ہماری پارلیمانی تاریخ قابل رشک نہیں رہی ہے،مشرقی پاکستان میں صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران لڑائی کے نتیجہ میں ڈپٹی سپیکر کی ہلاکت سیاسی تاریخ کا سیاہ باب ہے،قومی اسمبلی میں ہنگامہ اگر زور پکڑتا تو اس نوع کا سانحہ بھی ممکن تھا،اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نے ماضی سے سبق سیکھنے کی دانستہ کاوش نہیں کی ہے، ہمیں اس سے مفر نہیں کہ دنیا کی پارلیمنٹ میں بھی اپوزیشن اور سرکار میں قانون سازی کے لئے سرد جنگ ہوتی ہے لیکن اسکا مرکز عوامی مفادات ہی ہوتا ہے، ہمارے ہاں جب سے نیب متحرک ہوا ہے پارلیمنٹ میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال زیادہ بڑھ گیا ہے، نت نئے نعروں کے ساتھ ”انٹری“ڈال کر داد سمیٹنے کی رسم چل نکلی ہے، سوشل میڈیا کی بدولت اب گھر گھر اسکی باز گشت سنائی دینے لگی ہے،اس پر مستزاد گالی کو پنجاب کے کلچر سے نتھی کرنے کی حماقت کر کے اس کے حق میں دلائل دیئے جارہے ہیں۔
پارلیمانی اعتبار سے اگر کسی شخصیت کو آئیڈیل قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ بانی پاکستان کی ہے،جنہوں نے اپنی پوری سیاسی حیاتی میں کبھی ناشائستہ الفاظ کا استعمال نہیں کیا، مخالفین کو ہمیشہ دلیل سے زیر کرتے رہے،اپنی خودی، انا اور منصب پر کبھی آنچ نہیں آنے دی، بڑے سے بڑے سیاسی مخالف کو کبھی بھی غلط القابات سے مخاطب نہ کرتے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ کپتان نے اپنے اپوزیشن عہد میں بد زبانی کا ایسا کلچر قائم کیا ہے،جو اب مستند روایت بنتا جارہا ہے،جس کا مظاہرہ پورے عالم نے قومی اسمبلی میں دیکھا ہے، پورے ایوان میں ان اراکین کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے جو زیرک، تحمل مزاج، معاملہ فہم اور دور اندیش ہیں،لیکن انکی آواز کاقصہ نگار خانے میں طوطی کی آواز کا ہے، قائد کی قائم کردہ مملکت میں آج کیا سیاسی منظر ہے، پارلیمنٹ میں کس طرح کی گفتگو کی جاتی ہے،قانون سازی کے لئے کیا حربہ اپنایا جاتا ہے، سرکار اپوزیشن کو کیسے بلڈوز کرتی ہے، المناک ہی نہیں درد ناک بھی ہے۔
اب کی بار سرکاری بنچوں کی جانب سے یہ طبع آزمائی خلاف توقع ہوئی ہے جس پر عوام نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، قوم کی ساری توقعات تو سرکار سے وابستہ ہوتی ہیں اگر وہی سٹیٹس کو جاری رکھنے پر آمادہ ہو تو پھر کس سے منصفی چاہی جائے۔عمومی رائے تو یہ بھی ہے کہ جب پارلیمنٹیرین کے مفادات یکساں ہوں تو یہ باہم شیرو شکر ہو جاتے جب عوامی مفاد کے لئے قانون سازی مطلوب ہو تو پھر ضابطے آڑے آجاتے ہیں۔
کیا منتخب نمائندگان کے علم میں نہیں کہ انصاف کے لئے عام شہری کوکس کرب سے گزر نا پڑتا ہے، پولیس سے ا گر کسی کا واسطہ پڑ جائے تو وہ اسکو نانی یاد دلا دیتے ہیں، موذی بیماری میں مبتلا مریض کو ادویات کے لئے کس کس کے آگے ہاتھ پھلانا پڑتا ہے، کسان اس گرانی میں کس تکلیف سے دو چار ہوتا ہے، مہنگی تعلیم متوسط طالب علم کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے،اس سماج میں اگر کسی کو بزور طاقت حق مل ہو رہا ہے تو طبقہ صرف اشرافیہ ہی کا ہے، اراکین پارلیمنٹ کو تو منتخب ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ عوام کے دکھوں کا مداوا کریں گے،اب تلک عدالتوں، دفتری امور، تعلیمی اداروں میں انگریز بہادر کا قانون ہی لاگو اور نافذ العمل ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ہی تو قانون سازی درکار ہے،لیکن اگر ہمارے نمائندگان اس ڈگر پر چلتے رہے تو عوام اس جمہوری نظام سے مزیدبد ظن ہو جائیں گے اور ان قوتوں کا موقف درست مانا جائے گا جو سیاست دانوں پر الزام دھرتے ہیں کہ یہ حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں۔
الیکٹیبل سیاست کے خمیر سے اٹھنے والا یہ شور شرابہ عیاں کر تا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی گروہوں اصل فرق تربیت کا ہے، ہماری سیاسی جماعتیں بھی سیاسی پریشر گروہ کی شکل اختیار کرچکی ہیں، انکے اراکین کو نہ تو کسی احتساب کا ڈر ہوتا ہے نہ ہی کسی جواب دہی کا خوف۔مرکز کا عکس ہر صوبائی اسمبلی میں بھی نظر آتا ہے۔وہاں بھی اراکین کی باہم لڑائی کی روایات موجود ہیں، علاقائی، لسانی،گروہی جھگڑے مرکزیت کی شہادت نہیں دیتے،پاکستانی تھینک ٹینک پلڈاٹ نے اراکین پنجاب اسمبلی کی ٹرنینگ کے بعد پارلیمانی سیشن کے دوران جس ممبر اسمبلی کی کارکردگی سب سے زیادہ سراہا تھا،وہ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر سید وسیم اختر مرحوم تھے،لیکن بھاری بھر مینڈیٹ رکھنے والی سیاسی جماعتیں کے منتخب اراکین انصاف دلانے، پولیس کے نظام میں تبدیلی، مقامی حکومتوں کی بحالی سے لے فلاحی ریاست بنانے تک اگر اپنی صلاحتیں صرف نہیں کرتے،محض اپنی مراعات کیلئے  اسمبلی سیشن میں شریک ہوتے ہیں تو اس سے بڑھ کر بڑی بدیانتی کوئی نہیں۔
قومی اسمبلی میں ماردھاڑ سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سرکار اور اپوزیشن کا مقصد اشرافیہ ہی کا تحفظ ہے عوام کبھی ان کے ایجنڈے پر نہیں رہے سرکار خواہ کسی کی بھی کیوں نہ ہو۔اگر قانون سازی میں اخلاص ہوتا تو عوام کب سے سامراجی اور سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا پا چکے ہوتے،چند معدودے سیاسی خاندانوں کی حکومتوں کا یہی بڑا نقصان ہے۔

تبصرے بند ہیں.