ٹیکنوکریٹس سیٹ اپ کی باتیں

23

تبدیلی کے ایک ماہ بعد ہی اہم فیصلے کر لیے گئے، راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس میں دو روز تک ملکی دفاع سے متعلق تفصیلی بریفنگ کے بعد ملک دشمنوں کے خلاف حکمت عملی طے کی گئی۔ بعد ازاں آرمی چیف نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں انہیں اہم فیصلوں سے آگاہ کیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے دو روزہ اجلاس میں بھی ملکی دفاع اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر باہم مشاورت کی گئی۔ اہم فیصلوں کا اعلان آج متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاسوں کے دوران موجودہ حکومت کو سپریم تسلیم کر لیا گیا۔ سارے ایک پیج پر آ گئے اجلاس میں سول اور فوجی سربراہ سبھی شریک تھے۔ فیصلہ کر لیا گیا کہ ملک میں دہشت گردی کی روک تھام اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے والوں کیخلاف گرینڈ آپریشن کیا جائے گا۔ وزیر اعظم سے کہا گیا آپ پالیسی بنائیں حکمت عملی طے کریں ادارے اس پر عملدرآمد کریں گے۔ سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں نے کہا کہ سانپ سیڑھی کا کھیل کھیلنے کے بجائے معاشی بحالی اولین ہدف، سیاسی استحکام فوری ضرورت ملکی دفاع از بس ضروری اس کے بعد ہی ہوائی اڑا دی گئی۔ ٹی وی کی ایک خاتون اینکر نے کسی سے خبر سنی اور سب کو سنا دی۔ ایسی خبر کو تو پر لگ جاتے ہیں۔ سارے ٹیکنو کریٹ میدان میں آ گئے کہا گیا کہ تین امیدواروں سے انٹرویو کر لیے گئے۔ شہر اقتدار میں افواہیں گشت کرنے لگیں کہ حکومت معاشی ایمرجنسی نافذ کر کے انتخابات موخر کر دے گی۔ اسی کی آڑ میں مارچ، اپریل کے دوران حکومت کی چھٹی، ملک ٹیکنو کریٹس کے حوالے کر دیا جائے گا جو دو ڈھائی ماہ کے دوران ”معاشی اصلاحات“ کر کے اقتصادی بدحالی کو خوشحالی میں بدل دیں گے۔ اس دوران سیاسی استحکام لایا جائے گا جس کے بعد عام انتخابات ہوں گے اور اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کر دیا جائے گا۔ سرکاری اداروں نے انتخابات موخر کرنے کی تردید کر دی لیکن ”آواز خلق کو نقارہ¿ خدا سمجھو“ بحث چل پڑی۔ بات سے بات چلی، یہاں تک کہا گیا کہ غور و خوض کے بعد اس سلسلہ میں اہم فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی والوں نے اس ”زریں فارمولے“ کی مذمت کی۔ وفاقی وزیر خرم دستگیر نے اسے ”خیالی تجویز“ قرار دے دیا اور واضح طور پر کہا کہ کسی سرکاری پلیٹ فارم سے اس قسم کی تجویز پیش کی گئی نہ ہی اس پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ قرین قیاس ہے کہ کہیں اس قسم کی بات ہوئی ہو گی کہ دو ڈھائی سال کے لیے سیاستدانوں کی چھٹی کر دی جائے گی اور ملک کا نظم و نسق عبدالحفیظ شیخ، رضا باقر اور شبر زیدی جیسے ٹیکنوکریٹس کے حوالے کر دیا جائے۔ ان ماہرین معاشیات کو معاشی بدحالی دور کرنے کا ہدف دیا جائے گا۔ سیاستدان حسب عادت مزاحمت کریں تو ایک سخت پیغام دیا جائے جس سے وہ تیر کی طرح سیدھے ہو جائیں گے۔ دونوں بڑی پارٹیاں چپ نہ ہوئیں تو چپ کرا دی جائیں گی۔ چودھری شجاعت نے بھی کہہ دیا کہ سیاستدان ہوش کے ناخن لیں اور اقتدار کی جنگ کے بجائے مدبرانہ سوچ اپنائیں۔ اسی دوران اپنے کپتان نے بھی پھلجھڑی چھوڑ دی کہ انتخابات جلد ہوتے نظر نہیں آتے۔ پیچھے بیٹھے لوگ انتخابات نہیں چاہتے۔ ”کسی نے خبردار کیا“ جاگتے رہنے کی آواز لگانے والے جاگنے والوں کو بیدار بھی کر سکتے ہیں۔“ تجزیہ کار دور کی کوڑی لائے کہ 1990ءکی دہائی اور مشرف دور میں ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ آزمایا گیا۔ 2018ءکے بعد عمران خان نے بھی معاشی استحکام کے لیے اسد عمر کی ناکامی کے بعد مذکورہ بالا تینوں ٹیکنوکریٹس کو آزمایا ان کے بعد شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنایا گیا۔ پونے چار سال میں چار وزرائے خزانہ تبدیل کیے گئے مگر ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ ہر وزیر خزانہ کی تان آئی ایم ایف پر ٹوٹی اور ملک میں معاشی ابتری روز بروز بد سے بد تر ہوتی گئی۔ 11 فیصد منافع پر بیرون ملک پاکستانیوں سے ڈالر منگوائے گئے۔ روپے کی قدر گھٹتی چلی گئی ڈالر کو پر لگ گئے۔ درآمدات 74 ارب ڈالر جبکہ برآمدات 24 ارب ڈالر سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ 70 سال کے قرضے 24 ہزار ارب تھے جو پونے چار سال میں 47 ہزار ارب ہو گئے کپتان نے گزشتہ دنوں عجیب منطق پیش کی کہ 24 ہزار قرضے اتارنے کے لیے 25 ہزار قرضے لیے گئے کیا سارے قرضے اتر گئے؟ ہرگز نہیں دگنے ہو گئے۔ 25 ہزار ارب کے نئے قرضے کہاں گئے؟ جواب ندارد۔ ”یہ رہبروں کا مشغلہ ہے یعنی گیسوئے وطن، سنوار کر بگاڑنا بگاڑ کر سنوارنا۔“ گیسوئے وطن بکھرتے بگڑتے چلے گئے۔ ایسے بگڑے کہ اسحاق ڈار کی عقل دنگ رہ گئی۔ آٹھ ماہ سے ڈالر قابو میں آ رہا ہے نہ ہی مہنگائی کو بریک لگ رہے ہیں۔ مافیائیں کام کر رہی ہیں۔ موجودہ حکومت نے درآمدات پر پابندی لگائی دو دن بعد
اٹھا لی گئی۔ کیا ہوا تھا؟ میک اپ کا سامان فرانس سے منگوانے والوں کی بیگمات نے شوہروں سے طلاقیں مانگ لی تھیں وزیر اعظم نے پابندی اٹھا لی ان ہی شوہروں نے بجلی گیس کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر کارخانے اور صنعتیں بند کر دیں برآمدات کیسے بڑھیں گی۔ ملکی زر مبادلہ 5.8 ارب رہ گئے یعنی سٹیٹ بینک کے پاس 5 ارب 80 کروڑ ڈالر بچے ہیں۔ ان میں چار ارب ڈالر سعودی عرب کی امانت ہیں جنہیں ہم صرف گن سکتے ہیں خرچ نہیں کر سکتے۔ عدم استحکام ڈیفالٹ کے نعروں اور اسمبلیاں توڑنے کے نت نئے بیانات سے پیدا ہونے والی سیاسی افراتفری کے باعث دوست ممالک سے قرضوں اور امداد کی فراہمی سے ہاتھ کھینچ لیے گئے۔ آئی ایم ایف نے ڈومور کا مطالبہ کر کے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا۔ 40 روپے یونٹ بجلی اور پیٹرول میں 50 روپے اضافہ کے مطالبات منظور نہ ہونے پر قرضہ پروگرام کی اگلی قسط دینے سے انکار کر دیا گیا چین، یو اے ای اور سعودی عرب نے بھی قرضوں کو آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی سے مشروط کر دیا۔ حکومت جائے ماندن نہ پائے رفتن کا شکار آئی ایم ایف کے مطالبات منظور کرنے سے مہنگائی عرش تک پہنچ جائے گی اور عوام تکا بوٹی کر دیں گے طے پایا کہ سیاستدان پھر ناکام ہو رہے ہیں۔ اپنی اپنی سیاست، اپنے اپنے مفادات، ذاتی مفادات ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے تک لے آئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کی متفقہ رائے ہے کہ کپتان آئندہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو بھی گئے تو کیا کر لیں گے کچھ نہیں بدلے گا کیونکہ پونے چار سال کے تلخ تجربات کے باوجود وہ خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں، تبدیلی کے حامی ایک شخص نے دکھی دل سے کہا ”ہم تو سمجھے تھے مختلف تم کو، تم تو بالکل ہی مختلف نکلے“ ساری سیاست عہدوں کی ہے۔ الیکشن جیتنے کی ہے۔ معیشت تباہ ہوتی ہے ہو جائے ملک ڈیفالٹ ہوتا ہے ہوتا رہے ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے پہنچتا رہے بس ایک ہی ہدف کرسی مل جائے جن سے استحکام لانے کی امید تھی ان میں بھی تقسیم نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ آٹو پر چل رہے ہیں۔ اس لیے حوصلہ افزا نتائج کی توقع نہیں۔ معاشی صورتحال انتہائی الارمنگ ہے۔ اقتدار کی ہوس نے اندھا کر رکھا ہے۔ جلسوں جلوسوں، مظاہروں اور دھرنوں نے ملک تباہ کر دیا۔ کیا اس منظر نامہ میں کسی معجزے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ نا امیدی گناہ لیکن حالات اچھے نہیں ہیں۔ کپتان ان حالات میں بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اسمبلیوں کی تحلیل، قومی اسمبلی سے استعفوں پر بضد ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“ تاریخوں پر تاریخیں تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ قومی اسمبلی سے استعفوں کے لیے فضول اور غیر روایتی ہتھکنڈے ایوان پر ایک ساتھ ہلہ بولنے کی کوششیں، اجتماعی استعفوں کا اعلان، سپیکر قومی اسمبلی نے واضح طور پر کہا کہ ایک ایک کر کے میرے چیمبر میں آئیں ہاتھ سے لکھا استعفیٰ پیش کریں بات چیت میں ثابت کریں کہ برضا و رغبت مستعفیٰ ہو رہا ہوں۔ پی ٹی آئی کا فرداً فرداً آنے سے انکار، پہلے شاہ محمود نے خط لکھا کہ ہم آنا چاہتے ہیں۔ جواب ملا ایک ایک کر کے آئیں۔ خط لکھتے ہی پھر وفود کی شکل میں آنے کی کوشش پیغام رسانی پر زور، پیغامبر کے خط اور لکھ رکھوں، میں جانتا ہوں کیا وہ لکھیں گے جواب میں“ سپیکر کے پاس 28 دسمبر کو پھر وفد کی شکل میں جا پہنچے۔ سپیکر نے پھر ایک ایک کر کے آنے کو کہا۔ سپیکر عالمی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کے لیے آسٹریلیا جا رہے ہیں۔ ایک ہفتہ بعد آئیں گے۔ مختلف تجزیوں کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان استعفے دینا ہی نہیں چاہتے۔ گوناگوں سہولتوں سے محرومی گوارا نہیں، پارلیمنٹ لاجز چھوڑنا پڑیں گے سرکاری گاڑیوں تنخواہوں سے محروم ہو جائیں گے۔ پروٹوکول چھن جائے گا۔ جیب سے پٹرول ڈلوائیں گے تو لگ پتا جائے گا۔ وفاقی حکومت کو بھی اپنے پلان پر عملدرآمد کا موقع ملا ہے۔ ایک ایک کر کے آئیں گے تو 125 ارکان سے ملاقاتوں میں جنوری، فروری گزر جائیں گے، 125 میں سے 6 مستعفیٰ ہونے کو تیار نہیں۔ دو چھٹیوں پر چلے گئے 4 نے حاضری لگا دی۔ عبدالشکور شاد عدالتوں میں اعتراف کر چکے کہ زبردستی استعفے لیے گئے سیدھی سچی بات استعفوں کا ڈرامہ ناکام اسمبلیاں توڑنے کا عمل فیل۔ 11 جنوری کو پنجاب اسمبلی کا کیس عدالت میں زیر بحث آئے گا۔ چودھری پرویز الٰہی سٹے آرڈر پر چل رہے ہیں۔ سچ پوچھئے تو وہ بھی اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں صرف زبانی جمع خرچ، اسمبلیاں ٹوٹیں گی نہ استعفے آئیں گے۔ کپتان کو واضح پیغام دے دیا گیا کہ اسمبلیاں توڑنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ بالفرض محال اسمبلیاں ٹوٹ گئیں تو وفاقی حکومت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرا دے گی۔ معاشی ایمرجنسی کی آڑ میں انتخابات موخر کر سکتی ہے۔ کپتان کیا کریں گے۔ ان کے سہولت کار رخصت ہو گئے نا اہلی اور قید و بند کی سزاو¿ں کی راہ میں چند بریک ابھی باقی ہیں پہلے تیزی سے قلم چلتے تھے اب دھیمے پڑتے جا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے ماضی قریب میں 97 فیصد فیصلے کپتان کے حق میں جبکہ صرف 3 فیصد پی ڈی ایم کے حق میں ہوئے، لگتا ہے کہ کپتان کے پاس کوئی آپشن باقی نہیں بچا۔ پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کی حکومت ڈانواں ڈول ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 41 ارکان غیر حاضر تھے 6 باہر ہیں ایک خاتون کا بیٹا بیمار 34 کو کیا ہوا۔ ان میں اکثریت جنوبی پنجاب کی ہے۔ اگر 34 یا 32 غیر حاضر ہو گئے تو وزیر اعلیٰ اعتماد کا ووٹ کیسے لیں گے۔ رن آف الیکشن میں ن لیگ کامیاب ہو جائے گی۔ اسی لیے اب تک اعتماد کا ووٹ لینے سے کترا رہے ہیں۔ آج کے لیے کہا جا رہا ہے منظر سے ہٹ گئے تو کپتان بعد میںلفٹ نہیں کرائیں گے۔ ان کا وتیرہ ہے نیچر ہے یا عادت کہ قریب ترین مرد و خواتین جلد ان کی نظروں سے گر جاتے ہیں۔ فیصلے آنے والے ہیں یا آ رہے ہیں۔ اس لیے وہ سیلف ڈیفنس کے لیے مقتدر شخصیات سے رابطے کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جانتے ہیں کہ گزرے حالات اور موجودہ آڈیو ویڈیو لیکس سے ان کو ڈینٹ لگا ہے۔ مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ اس لیے وہ نیوٹرلز کو بھی پیغام دے رہے ہیں کہ میں اچھا بچہ بن گیا ہوں۔ دوبارہ گود لے لیں پرویز خٹک بھی ہر دروازے پر دستک دے رہے ہیں کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں مل رہا۔ کپتان کی گاڑی زگ زیگ میں چل رہی ہے۔ ہچکولے کھا رہے ہیں۔ انتخابات سے مایوس ہو کر انہوں نے اپنی ہی لائی ہوئی مہنگائی کیخلاف گلی محلوں میں مظاہرے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پنجاب کا نکاح زیادہ دیر چلتا نظر نہیں آتا پنجاب میں ن لیگ کی حکومت آ گئی تو کپتان پشاور کے وزیر اعلیٰ ہاو¿س میں یوگا کی مشقتیں کرتے نظر آئیں گے۔ ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کی بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی کیونکہ سیانوں کا کہنا ہے کہ معاشی ماہرین معیشت کو ڈبو دیں گے۔

تبصرے بند ہیں.