سقوط مشرقی پاکستان۔۔تذکرہ تمام

29

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے تکلیف دہ اسباب اور المناک واقعات کے ساتھ ایسے کرداروں کا ذکر ہو چکا ہے جن کا مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بڑا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کی جماعت عوامی لیگ اور اس سے متعلقہ علیحدگی پسندوں اور اس کی ذیلی تنظیم مکتی با ہنی کے مسلح باغیوں کا بڑا اہم کردار ہے کہ انھوں نے بھار ت کے اشارے ، اس کی ایما اور اس کی حمایت کے ساتھ مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی اور اس کی جگہ پر آزاد ریاست بنگلہ دیش کے قیام کے منصوبے کو عملی جامع پہنایا۔ یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ مغربی پاکستان میں بھی کچھ سیاسی اور غیر سیاسی عناصر یا شخصیات ایسی تھیں جن کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے المیے کا بلاواسطہ اگر کم تو بالواسطہ زیادہ ذمہ دار سمجھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اُس دور میں جنرل ایوب خان کے مارشل لا کا نفاذ اور دس سال تک اُن کا فوجی راج ہو یا بعد میں کمانڈر انچیف جنرل آغا محمد یحییٰ خان کا مارشلائی دور یا اُن کی فوجی حکومت ہو ، ان پر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بڑی ذمہ داری ڈالی جا سکتی ہے تو سول اور ملٹری بیورو کریسی ہمارے دانشور، ہماری قومی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین جن میں پیپلز پارٹی کے چیئر مین جن میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کا نام سر فہرست ہے وہ بھی اس المیے کے برابر کے شریک سمجھے جا سکتے ہیں۔ ہمارے اس دور کی عدلیہ کا کردار بھی کچھ ایسا رہا جس سے بنگالیوں کے احساس محرومی میں اضافہ ہوا تو ان میں علیحدگی پسندگی کے جذبات بھی پروان چڑے خیر یہ صورتحال کا ایک رُخ ہے اور اہم ترین رُخ ہے جس کا ذکر ہمیشہ تاریخ میں آتا رہے گا۔ اس کے ساتھ اُس دور کے حالات و واقعات کا ایک اور رُخ بھی ہے جس کا تذکرہ اگرچہ کم ہی سامنے لایا جاتا ہے تاہم تاریخ اس کو بھی فراموش نہیں کر سکتی کہ اُس دور میں مشرقی پاکستان میں کچھ کردار ایسے بھی تھے جنہوں نے متحدہ پاکستان کے پرچم کو آخری وقت تک تھامے ہی نہیں رکھا بلکہ اس کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ بلکہ اپنی اولاد کا مستقبل تک قربان کر دیا۔ ان میں نور الامین ، مولوی فرید احمد، اے کے فضل القادر چوہدری، محمود علی، راجہ تری دیو رائے، پروفیسر غلام اعظم اور مطیع الرحمٰن نظامی وغیرہ کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں تو البدر اور الشمس کے وہ ہزاروں کارکن اور رضاکار بھی ان میں شامل ہیں جنہوں نے 1971ءکے انتہائی پر آشوب اور پر خطر ایام میںجب مشرقی پاکستان میں مسلح باغی اور علیحدگی پسند بالخصوص عوامی لیگ کی ذیلی تنظیم مکتی باہنی کے غنڈے دندناتے پھر رہے تھے تو متحدہ پاکستان کی سا لمیت اور بقا کے لیے مشرقی پاکستان میں برسر پیکار فوجی دستوں کا اس طرح ساتھ دیا کہ اس کے لیے اپنی جانوں تک کے نذرانے پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ یہاں فرداً فرداً ان شخصیات کی قربانیوں کی تفصیل بیان کرنے کا موقع اور گنجائش نہیں لیکن سچی بات ہے کہ ان قابلِ فخر کرداروں کا ذکر کرتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
مولوی فرید احمد مرحوم، اے کے فضل القادر چوہدری مرحوم، نورالامین مرحوم اور محمود علی مرحوم ایسے راہنما تھے جنہوں نے قیامِ پاکستان کی تحریک میں پرجوش انداز سے حصہ لیاتو بعد میں پاکستان کی سیاست میں بھی مختلف اوقات میں مرکزی یا صوبائی اسمبلیوں کے رکن بن کر اور حکومت میں شامل ہو کر بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ مولوی فرید احمد کا شمار پاکستان میں اسلامی نظام کی داعی جماعت نظامِ اسلام پارٹی کے اہم راہنماو¿ں اور سابق وزیرِ اعظم پاکستان چوہدری محمد علی مرحوم کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ وہ کچھ وقت کے لیے مرکزی وزیر بھی رہے۔ 1970ءکے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ کی زبردست کامیابی کے بعد مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندی کے جذبات فتنہ و فساد اور بغاوت کی شکل اختیار کر چکے تھے اور مکتی باہنی کے غنڈے متحدہ پاکستان کے حامیوں کو چن چن کر نشانہ بنا رہے تھے تو مولوی فرید احمد اُن کے ہتھے چڑھ گئے انھیں بنگلہ دیش زندہ باد کا نعرہ بلند کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے اس کے بجائے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند کیا۔ جس پر مکتی باہنی کے غنڈوں نے انھیں اذیتیں دے کر شہید کر دیا۔
اے کے فضل القادر چوہدری کی داستان بھی کچھ ایسی ہی ہے وہ پچھلی صدی کے 60کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں صدرِ ایوب خان کے دورِ حکومت میں پہلے وفاقی وزیر اور بعد میں قومی اسمبلی کے سپیکر رہے۔ 1971ءکے پر آشوب دنوں میں جب مشرقی پاکستان کی جگہ آزاد ریاست بنگلہ دیش کے قیام کا جادو سر پر چڑھ کر بول رہا تھا تو انھوں نے اپنا وزن متحدہ پاکستان کے پلڑے میں ڈالنا ضروری سمجھا جس کا خمیازہ انہیں مکتی باہنی کے غنڈوں کی طرف سے اذیتیں دے کر اپنی جان کی قربانی دینے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ بات یہاں تک ہی ختم نہ ہوئی ، کچھ برس قبل جب بنگلہ دیش کے قیام کوچار ، ساڑھے چار عشروں کا عرصہ گزر چکا اور شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم بنیں تو ان کی ایما پر 1971ءکے دور کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک نام نہاد ٹربیونل قائم کیا گیا ۔ اس ٹربیونل کی سفارش پر فضل القادر چوہدری شہید کے بیٹے صلاح الدین قادر چوہدری کو موت کی سزا سنا کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا ان کا قصور یہ بتایا گیا کہ 1970-1971ءکے دوران وہ پاکستانی فوجی کی مدد کرنے میں ملوث پائے گئے ۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ جس دور کا ذکر کیا گیا کہ صلاح الدین قادر مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی مدد کرنے میں شریک رہے اس وقت وہ مشرقی پاکستان میں سرے سے موجود ہی نہ تھے بلکہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں زیرِ تعلیم ہونے کی وجہ سے ان کا قیام لاہور میں تھا۔
بات کچھ طویل ہو رہی ہے، مرحوم نورالامین اور راجہ تری دیو رائے وہ دو راہنما تھے جنہوں نے 1970ءکے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ 1971ءکے فتنہ وفساد اور بغاوت کے دور میں ان دونوں نے کھل کر متحدہ پاکستان کے حامیوں کا ساتھ دیا۔ 1971ءکے آخری مہینوں میں نور الامین کو پاکستان کا ڈپٹی پرائم منسٹر بھی مقرر کیاگیا (لیکن اس کا حلف نہ اُٹھا سکے) ۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد موجودہ پاکستان میں جناب ذوالفقار علی بھٹو نے صدرِ مملکت اور چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کا منصب سنبھالا تو مرحوم نور الامین پاکستان کے نائب صدر مقرر ہوئے اور 14اگست 1973ءتک اس عہدے پر برقرار رہے۔1974ءمیں اُن کا انتقال ہوا اور کراچی میں مزارِ قائد کے احاطے میں دفن ہوئے۔ محمود علی بھی ایک اور درخشندہ اور تابندہ نام ہیں جن کی متحدہ پاکستان کے ساتھ وفاداری اور وفاشعاری میں آخری وقت تک کچھ کمی نہ آئی۔ وہ یہیں پاکستان میں قیام پذیر رہے اور انھیں تاحیات وفاقی وزیر کا منصب حاصل رہا۔ راجہ تری دیو رائے کو بھی پاکستان آنے کے بعد وفاقی وزیرِ کا تاحیات منصب حاصل رہا۔
پروفیسر غلام اعظم ، مطیع الرحمن نظامی اور ان کے ساتھ جماعت اسلامی کے درجنوں دوسرے راہنما اور ہزاروں کی تعداد میں البدر اور الشمس سے تعلق رکھنے والے رضاکار ایسے لافانی کردار ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کی سا لمیت اور بقا کے لیے اپنا تن من دھن بلکہ جانوں تک کی بھی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا ۔ان کی قربانیوں کی تفصیل اتنی پھیلی ہوئی ہے کہ اس کے لیے ایک الگ کالم کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ بنگلہ دیش کے قیام کے تقریباً چالیس پنتالیس سال بعد بھی شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم حسینہ واجد نے ان کو معاف نہ کیا اور جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے نام نہاد ٹربیونل سے انھیں موت کی سزائیں بھی سنوائیں۔ پروفیسر غلام اعظم 95سال کی عمر میں ڈھاکہ جیل میں موت کی کوٹھڑی میں اللہ کو پیارے ہوئے تو مطیع الرحمن نظامی اور ان کے کئی دوسرے ساتھی پیرانہ سالی میں پھانسی پر اس طرح لٹکا دیئے گئے کہ چشم فلک نے ایسا بے رحم نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.