انصاف کے سوداگر

18

بوڑھے چچا حوالدار حالات سے بخوبی واقف تھے لیکن ریٹارئمنٹ کے بعد اب مکمل طور پر بیدار ہو چکے ہیں۔کہتے ہیں جس نے کبھی ریڈ کر کے خود ملزم نہیں پکڑا،اس کو خود عدالت پیش نہیں کیا،مقدمے کی مثل نہیں لکھی،اپنی گرہ سے ایک بھی ملزم کا کھاتہ نہیں کھلایا،ملزم کو جیل چھوڑنے نہیں گیا، بذریعہ کلرک پیسے دے کر چالان پاس نہیں کروایا،یہاں تک کہ پولیس سروس میں ایک معمولی سی چوری کے مقدمے کی خود تفتیش نہیں کی،ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمارے ہاں اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر ناقص تفتیش پر وہی افسر سزا دیتا ہے۔
بوڑھے چچاحوالدار بولے اور کہنے لگے ڈی آئی جی نے چھوٹے چھوٹے رینک والے افسران کے کندھوں پر لگے پھول اکھاڑنے کا ٹھیکہ اٹھا لیا ہے۔کوئی اے ایس آئی سے کانسٹیبل،سب انسپکٹر سے اے ایس آئی بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے،وجہ کیا ہے قصور کیا ہے،یہ بھی تو پتا چلے،ادھر سی سی پی او نے عہدے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جھوٹے مقدمات کا سہارا لیتے ہوئے دیہاڑی دار سے کئی گنا زیادہ پیسہ اکٹھا کرنے کے لئے ایک کے بعد ایک ڈیل میں مصروف عمل ہیں،ایس ایچ اوزپہلے افسران کے غیر قانونی احکام کو مانتے ہیں اور پھر وہی ایس ایچ اوزکو تنزلی کی صورت میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی،چند ایک ایس پیز نے سی سی پی اونے احکام سننے کے لئے فون تو اٹھالیا لیکن ضمیر کی آواز سن کر وہ کام کرنے سے انکار کر دیا، ایڈیشنل آئی جی بار بار کال پر بار بار فون سن کر پھر کام اس لئے نہیں کیا کہ ضمیر نے اجازت نہ دی۔
ایک ایس پی کو فون کال آتی ہے کہ قبضہ چھڑواؤ، ایس پی نے تحقیق کی،اور پھر دوبارہ فون لگایا اور دوٹوک الفاظ میں کہا سر جی بیوہ کا گھر ہے،اسکی ملکیت ہے،یہ ظم نہیں کر سکتا،یہ بات سن کر بار بار فون کرنے کے بعد آخری کال کر دی کہ اچھا پھر ایسا کرو کہ جو لوگ میرے ریفرنس آئے ہیں ان کو چائے پلاؤ اور گالیاں نہ دینا،عزت سے پیش آنا اور پھر بھی دیکھ لینا اگر ہو سکے۔ایک ایس پی کو غیر قانونی کام کرنے کے لئے پوش علاقے میں پلاٹ دینے کے لئے پیشکش بھی کی گئی لیکن اس نے بھی ایک نہ سنی،ایسے افسران کی وجہ سے ہی محکمہ پولیس کا نظام چل رہا ہے،لیکن بڑے اور چھوٹے رینک کے افسران نے ضمیر برائے فروخت کر رکھا ہے۔بہت سے ایس ایچ اوز اختیارات کا ناجائز استعمال کر تے ہوئے سینئر افسران کے کہنے اور انفرادی طور پر انصاف پیسوں کے میرٹ پرتول کر کام کے نام پر ظلم کئے جا رہے ہیں،میرٹ یہ نہیں کہ انصاف پیسوں میں تول کر دیا جائے بلکہ انصاف وہ جو سچ میں تول کر دیا جائے۔
پولیس کا بیڑا غرق ہو چکا ہے اور کوئی اس کو لگام ڈالنے والا نہیں، کانسٹیبل،تھانیدار اور ایس پی سے آئی جی رینک تک سب افسران نے انصاف کا بول بالا رکھنے کا عہد لے رکھا ہے،لیکن معاملہ سنگین ہو گیا ہے۔
عہد کیا تھا؟ یہ جان لیتے ہیں،اہلکار سے افسر تک سب نے یہ حلف دیا ہوتا ہے کہ محکمہ پولیس میں پوری ذمہ داری سے حق اور سچ کے ساتھ فرائض منصبی سر انجام دوں گاوغیرہ،وغیرہ!وغیرہ وغیرہ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عہدضروری نہیں بلکہ انتہائی ضروری ہے،لیکن کوئی اپنی ذمہ داری کو احسن انداز سے لے کر چل نہیں پا رہا،چلنے پر مجبور کرنے کے لیے سہارابھی دیا گیا لیکن پھر یوں ہوا کہ محکمہ پولیس میں آپریشنز اور تفتیشی اہلکار سے لے کر افسران سب محکمہ کی عزت کو پروان چڑھانے کی بجائے اپنے نان پروفیشنلزم کی وجہ سے عوام کی نظروں سے گرنے لگے،ان گرنے والوں کوکوئی تھا رہا ہے نہ اٹھا رہا ہے۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا بوڑھے چچا حوالدار نے اپنے دور میں انصاف لینے والوں کا ساتھ دیا تھا،کیاطاقتور کے سامنے سر جھکا دیا۔بوڑھے حوالدار کا کہنا تھا کہ اتنا ضرور کہوں گا کہ کسی پر ظلم نہیں کیا،اور نہ ہی پیسوں کا مطالبہ کبھی کیا،میرے اچھے اخلاق کی وجہ سے سائل خوش ضرور ہو کر تھانے سے باہر جاتے رہے۔تھانہ میں ناانصافی ہوتے دیکھ کر چپ کر کے ادھر اُدھر خود کو مصروف کر لیتا لیکن ضمیر کی سن کر کئی بار ناانصافی اور کرپٹ افسر کی شکایات افسران تک پہنچا دیتا کہ یہ نظام درست کر دیں تاکہ معاشرے میں بگاڑکی صورتحال پیدا نہ ہو اور محکمہ پولیس کے پاس آنے والے سائلین انصاف ملنے کی صورت میں اچھا تاثر لے کر جائیں لیکن ایسا ہوا نہیں اور آج معاملہ سنگین سے سنگین تر ہو گیا ہے ہر ایک نے اپنا ریٹ مقرر کر رکھا ہے،طریقہ واردات الگ الگ ہے،کسی کا نقصان کرنا نہ انصاف پیسوں میں بیچنا چاہیے،سچ کے ساتھ کھڑے ہوں اور میرٹ پر انصاف کے ساتھ ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دیں،آج نہیں تو پھر کبھی نہیں۔قصوار ہم سب ہونگے۔سچ کا ساتھ دیں اور ضمیر کو زندہ رکھتے ہوئے حقیقی معنوں میں سائلین کو انصاف دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔سن سب لیتے ہیں،لیکن سمجھنے سے قاصر کیوں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بھوک تب لگتی ہے جب کھانے کو ملتا نہیں،لیکن یہاں تو کھانے کے بعدبھی بھوک ختم نہیں ہو رہی، بلکہ اور زیادہ لگ جاتی ہے،تھوڑے سے زیادہ اور پھر زیادہ سے زیادہ اکٹھا کرنے کی دوڑ میں انصاف کو بکتے بکتے ملک اور عوام کی یہ ابتر صورت سامنے آئی ہے کہ ہرکوئی پریشانی میں مبتلا ہے۔ کیونکہ مال وزر اکٹھا کرنے کی ان کی خواہش کم ہی نہیں ہورہی پتہ نہیں ان کا ضمیرکہاں سوگیا ہے۔ جب یہ ملازمین کو وعظ کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے ان سے بڑا مومن کوئی نہیں اور جب انصاف کا سودا کرتے ہیں تو ان سے بڑا سوداگر کوئی نہیں۔آپریشنز اور تفتیشی افسران سب اپنا کام خوش اسلوبی اور ذمہ داری سے،نیت کے ساتھ سچ کا ساتھ دے کر انصاف کا بول بالا کر سکتے ہیں لیکن جب اوپر والے ہی درست سمت پر نہ ہوں تو پھر نیچے والوں کو بھی حوصلہ ملتا ہے اور وہ کچھ کرتے ہیں کہ الحفیظ الامان۔ کہ آج اسی وجہ سے محکمہ پولیس پرعوام کی تنقید ہی نہیں بلک اس پرسے اعتبار اور اعتماد بھی اٹھ چکا ہے۔

تبصرے بند ہیں.