خربوزوں کی رکھوالی….!

60

اب تو خربوزے ہی نہیں بہت سارے دوسرے پھل اور سبزیاں بھی ایسی ہیں جو سارا سال دستیاب ہوتی ہیںکہ ان کی ہائی برڈ اقسام سال کے تقریبا ً سب ہی موسموں میں کاشت کی جاتی ہیں اور ثمر بار بھی ہوتی ہیں۔ایک زمانہ تھا جب خربوزوں کی فصل گرمیوں کے موسم کے ساتھ مخصوص تھی ۔ہمارے پھوٹوہار کے علاقے میں مارچ اپریل میں خربوزے بارانی اور چاہی (زیادہ تر چاہی ) زمینوں میں کاشت کیے جاتے تھے اور پھر جون ، جولائی میں فصل پک کر تیار ہو جاتی تھی۔ خربوزوں کے ساتھ تربوز بھی اگائے جاتے تھے جو ذرا تاخیر سے پکتے تھے۔ ان کے علاوہ کچھ دوسری چھوٹی موٹی سبزیاں جن میں پیاز، مرچیں ، ٹینڈے ، گھیا اور حلوہ کدو، بھنڈی اور دیسی توریاں وغیرہ شامل ہوتی تھیں ، اسی موسم میں اُگائی جاتی تھی۔ میں یہ ذکر آج سے کوئی 60، 65برس قبل پچھلی صدی کے پچاس کے عشرے کے آخری اور ساٹھ کے عشرے کے ابتدائی برسوں کا کر رہا ہوں میں اس وقت ہائی سکول میں پڑھتا تھا ۔ اس وقت معمول یہ ہوتا تھا کہ دن کو سکول جانا ، بعد میں گرمیوں کی چھٹیاں اور رات کو کنویں پر اپنے خربوزوں کے کھیت کے قریب اکیلے سونا تاکہ گیڈر اور دوسرے جنگلی جانور (خاص طور پر گیڈر) پکنے والے اور پکے ہوئے خربوزوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا ،مشکل لیکن خوب صورت اور یادگار دن تھے کہ کنویں پر سونا، کنویں کے ٹھنڈے پانی میں نہانا، ٹھنڈا پانی پینا، اور ٹھنڈے میٹھے خوشبودار اور ذائقہ دارخربوزے کھانا، موج ہی موج تھی۔
والد ِ گرامی مرحوم و مغفور محترم لالہ جی کا ان برسوں سے یہ معمول تھا کہ وہ کنویں کی چاہی زمین کے تین چار کنال کے کھیت میں چند مرلوں میں اپنے استعمال کے لیے دیسی تمباکو ، اس کے کچھ حصے میں پیاز اور دوسری سبزیاں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے اور باقی ماندہ بڑے حصے میں خربوزے کاشت کیا کرتے تھے۔ وہ خربوزے آج کل کے خربوزوں کی طرح نہیں ہوتے تھے ،نہ ہی آج کل کے تربوز وغیرہ کی طرح ہوتے تھے جو بہت میٹھے تو ہوتے ہیں اور بازار میں عام بھی ملتے ہیں لیکن ان میں ذرا خوشبو نہیں ہوتی۔ وہ دیسی نسل کے انتہائی خوشبودار ، دھاری دار اور ذائقہ دار خربوزے ہوتے تھے کہ جب کھیت میں پک جاتے تو ان کی خوشبو دور دور تک پھیل جاتی تھی۔ صبح اور شام کے وقت کھیت سے پکے ہوئے خربوزوں کو توڑا جاتا تھا۔ کچھ خربوزے کھانے کے لیے الگ کر لیے جاتے اور باقی فروخت کرنے کے لیے الگ رکھ دیے جاتے تھے۔ نواحی دیہات سے عام طور پر خربوزوں کے خریدار آیا کرتے تھے ۔وہ خربوزے خرید کر بوروں میں بھر کے اور اپنے گدھوں پر لاد کر لے جایا کرتے تھے۔ خربوزوں کا نرخ بھی یہی کچھ 6، 7آنے فی سیر (کلو) ہوا کرتا تھا۔ دیسی ترازو میں اینٹوں کے ٹکڑوں سے بنائے گئے باٹ کے ذریعے وزن کیا جاتا تھا ۔ ہماری فصل کچھ زیادہ اچھی نہیں ہوتی تھی نہ ہی خربوزے بھی جسامت میں کچھ زیادہ بڑے ہوتے تھے جبکہ ہمارے ہمسائے میں ماموں فقیر مرحوم کے کھیت کے خربوزے بڑے اور فصل خوب پھل دار ہوتی تھی۔ اسی طرح ملک شیر افضل مرحوم، اور ملک محمد آزاد مرحوم بھی جو رشتے میں میرے کزن لگتے تھے اور تقریباً میرے ہم عمر تھے ان کی خربوزوں کی فصل بھی اچھی ہوتی تھی۔ نواحی دیہات سے آئے خربوزوں کے خریدار ان کے ہاں سے خربوزے خریدنے کو ترجیح دیتے تھے۔ ہماری باری آخر میں آتی تھی پھر بھی دوسرے تیسرے دن 10، 15سیر خربوزے بک جایا کرتے تھے۔ میں یہ پیسے اپنے پاس رکھ لیا کرتا تھا اور دکانوں سے گڑ اور دوسری چیزیں خریدنے کے لیے خرچ کیا کرتا تھا۔
یہ کیا مزے کا دور تھا، شام کو رہٹ چل رہے ہیں ۔ پانی خربوزوں یا مویشیوں کے سر سبز چارے کے کھیتوں میں جا رہا ہے۔ کھیت کو پانی لگانے سے قبل پکے ہوئے خربوزوں کو چن لیا جاتا تھا، ان میں سے کھانے کے لیے اچھی قسم کے خربوزوں کو الگ رکھ لیا جاتا جن کوٹھنڈا کرنے کے لیے کنویں سے رہٹ کے ذریعے آنے والے پانی کے لیے بنی ہوئی چھوٹی سی حوضی میں ڈال دیا جاتا تھا۔ کنویں سے پانی آرہا ہے حوضی میں پڑے خربوزے اس میں تیر رہے ہیں اور لنگوٹے باندھ کر پانی میں نہایا جا رہا ہے۔ ملک آزاد مرحوم جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے وہ اور میں شام کو سورج غروب ہونے سے قبل کنویں سے آگے جو کھیت تھے اور سرکنڈوں اور شیشم کے گھنے درختوں کے بیلے تک پھیلے ہوئے تھے ، ان میں دوڑ بھی لگایا کرتے تھے ۔ ہم اکثر کندھے کے جوڑ سے نیچے اپنے بازوﺅں کو ہاتھوں کے پنجوں میں لیکر یہ جائزہ بھی لیا کرتے کہ ان پر کتنا گوشت چڑھ گیا ہے کیونکہ کہا جاتا تھا کہ خربوزے کھانے سے آدمی صحت مند اور موٹا ہو جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہم بیلے کی طرف جاتے تھے تو اس وقت بلا شبہ ہزاروں کی تعداد میں پرندے جن میں زیادہ تر کوے اور طوطے ہوتے تھے اور جو صبح کے وقت گاﺅں کے مشرق والے بیلے سے اڑ کر ادھر آئے ہوتے تھے ، سارا دن یہاں دانہ دنکا چننے کے بعد اب شام کو بڑے بڑے اڈاروں کی صورت میں واپس مشرق کا رخ کیے ہوتے تھے ۔ میں سوچتا ہوں کہ پتا نہیں اب بھی ایسا ہوتا ہوگا یا نہیں ۔ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوتا ہوگا کہ گاﺅں کے مشرق اور مغرب میں شیشم کے گھنے درختوں اور سرکنڈوں والے بیلے بڑی حد تک ختم ہو چکے ہیں ۔ درخت جو پرندوں کا ٹھکانہ ہوتے ہیں ، ان کی ٹہنیوں پر ادھر ادھر بیٹھ کر رات کو بسیرا کرتے ہیں ، وہ درخت نہیں رہے تو پرندے بھی نقل مکانی کرکے کہیں اور چلے گئے ہونگے۔
خیر واپس خربوزوں کے کھیت کی رکھوالی کی طرف آتے ہیں۔ مغرب کے وقت گھر سے کھانا کھا کر کوئی ایک آدھ کلو میٹر یا اس سے کم یا زیادہ فاصلے پر واقع کنویں پر جانا ایک معمول تھا تو رات کو خربوزوں کے کھیت کے کنارے پڑی چارپائی پر سونا ایک مجبوری تھی تاکہ خربوزوں کے کھیت کی حفاظت ہو سکے تاکہ گیڈر اور دوسرے جنگلی جانور پکے ہوئے اور پکنے والے خربوزوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ کھلی چارپائی پر نیچے بچھانے کے لیے ایک کھیس (موٹے دیسی کپڑے کی چادر) اور سر کے نیچے رکھنے کے لیے ایک بوسیدہ سا تکیہ ہوتا تھا ۔ دن بھر دھوپ میں پڑے رہنے کی وجہ سے یہ کافی گرم بھی ہوجاتے ۔ اندھیرے میں رات کو اکیلے کھیت کے کنارے چارپائی پر لیٹے اور سونے کی کوشش کرتے ہوئے سچی بات ہے ڈر بھی خوب لگتا تھا لیکن ڈر کا اظہار تو نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ پھر کچھ فاصلے پر تایا برخوردار مرحوم کی چارپائی بچھی ہوتی تھی اور ساتھ ہی ان کے تین اونٹ بندھے ہوتے تھے۔ تایا برخوردار مرحوم والدِ گرامی محترم لالہ جی مرحوم و مغفور کے بیک وقت ماموں زاد اور پھوپی زاد بھائی تھے۔ چھوٹی عمر میں لالہ جی کی پرورش انہوں نے کی تھی۔ تایا برخوردار مرحوم سے ہمارا ایک اور رشتہ بھی تھا کہ ان کی اہلیہ مرحومہ لالہ جی کی تایا زاد بہن اور ہماری پھوپھی لگتی تھی۔ تایا برخوردار کے تین بیٹے بھائیازمانہ ، بھائیا منصب اور بھائیا جماعت تھے ۔ یہ تینوں کسی زمانے میں اپنے اونٹوں کے ساتھ فوج میں بھی رہے تھے۔ انگریزوں کے دور میں فوج میں گھوڑوں اور خچروں کے علاوہ اونٹوں کی بھی نفری ہوتی تھی۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ اونٹ مالکان اپنے اونٹوں سمیت بھرتی کر لیے جاتے تھے۔ ان کو اپنی تنخواہ کے علاوہ اپنے اونٹوں کی دیکھ بھال اور خوراک کے لیے کچھ نقد الاﺅنس الگ ملتا تھا۔یہ تینوں بھائی بڑے سادہ، مخلص اور محبت کرنے والے لوگ تھے ۔ اللہ غریق رحمت کرے مدت ہوئی یہ ملک عدم سدھار چکے ہیں۔
بات خربوزوں کے کھیت کی رکھوالی کی ہو رہی تھی ۔ کھیت کے کنارے اپنے بستر پر لیٹے ہوئے میں اکثر آسمان پر ستاروں کی گردش اور ان کی مخصوص جگہ دیکھنے اور ذہن میں بٹانے میں لگا رہتا۔ قطبی تارے اور اس کے ساتھ دُب اکبر کی پہچان میں نے اسی دور میں حاصل کی۔ قطبی تارا تو رات بھر ایک ہی جگہ دکھائی دیتا لیکن اس کے گرد ایک خاص شکل میں موجود سات ستاروں کا جھرمٹ جسے دُب اکبر کہا جاتا ہے اپنی جگہ تبدیل کرتا رہتا ہے۔ رات کے پہلے پہر آسمان پر اس کی سمت یا لوکیشن کچھ اور ہوتی اور صبح سحری کے وقت ستاروں کا یہ جھرمٹ مخالف سمت میں دوسری جگہ پہنچا ہوتا۔ سچی بات ہے مجھ میں بفضل تعالیٰ مشاہدے ، آسمان پر ستاروں کی مخصوص جگہ اور سمتوں وغیرہ کی تھوڑی بہت جو پہچان پیدا ہوئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ میرے اسی دورکے مشاہدے کی بدولت ہے۔ وہ زمانہ عرصہ ہوا بیت گیا لیکن اب جب کبھی اس کی یاد آتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ وہ لوٹ کر واپس آجائے لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے نہ ہی وہ زمانہ واپس آسکتا ہے اور نہ ہی وہ پیارے لوگ دوبارہ مل سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.