پاکستان کی معاشی مشکلات اور اوورسیز پاکستانی

20

پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے یا شاید ہمیشہ سے ہی ہے لیکن آجکل بات انتہا کو پہنچ چکی ہے کبھی ہمارے وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے چکر لگا رہے ہیں اور کبھی ورلڈ بنک کے کہ وہاں سے کچھ ادھار مل جائے اور وہ اس سے اپنا سرکل چلا سکیں اس ساری بھاگ دوڑ میں وہ آئی ایم ایف کو راضی کرنے کے چکر میں عوام کے گلے پر 60روپے پٹرول کی مد میں بڑھا کرچھری پھیر چکے ہیں ۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں چند ایک کے سوا اس بیماری کا مستقل علاج کرنے کی کسی نے کبھی کوشش نہیں کی اور جس نے کوشش کی اسے بھی جلد گھر بھیج دیا گیاانھیں فارغ کرنے میں عالمی طاقتیں ملوث تھیں ،دشمن ممالک کی سازشیں تھیں یا پھر کوئی اور وجہ یہ ایک الگ کہانی ہے مگر ایک بات اٹل ہے کہ اس بیماری کو دور کرنے کی کبھی کوشش نہیں ہوئی سب حکومتوں نے ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی اپنائی یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر حکومت کے جانے کے بعد اس کے سکینڈل ہی سامنے آتے ہیں چاہے وہ فرح گوگی کی شکل میں ہوں یا مقصود چپڑاسی کی اگر کسی نے کوئی ہیوی پراجیکٹ لگایا ہے تو اس میں سے بھی کمیشن کھانے کے قصے سامنے آتے ہیں اور اس حمام میں سیاستدان اور بیوروکریٹ دونوں ننگے نظر آتے ہیں ۔کیس نیب میں جاتے ہیں ، ایف آئی اے میں جاتے ہیں لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلتا پلی بارگین ہو جاتی ہے یا بری ہو جاتے ہیں ۔ بہر حال اس بار ایک اچھی بات یہ دیکھنے کو ملی ہے کہ موجودہ حکومت نے میثاق معیشت کی بات کی ہے اور سب کو دعوت دی ہے کہ اس میں شریک ہوں ۔ اللہ کرے ہماری سب سیاسی جماعتیں اپنا اپنا بغض چھوڑ کر اس میثاق معیشت میں شامل ہو جائیں اور پاکستان کے معاشی مسائل مستقل بنیادوں پرحل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے اور اگر کوشش کی جائے تو کیا نہیں ہو سکتا بیرون دنیا کی بجائے جب تک اپنے وسائل سے معاملات حل کرنے کی کوشش نہ کی جائے گی مسئلہ حل نہیں ہو گا دنیا میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔ ابھی چند روز پہلے مجھے برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا وہاں ہر پاکستانی محب وطن تھا سب اپنے ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن ان میں سے بیشتر کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان کے سیاسی حالات ٹھیک ہونے چاہئیں اسکے بغیر وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا تصور نہیں کر سکتے ۔ مانچسٹر میں ڈاکٹر لیاقت ملک سے ملاقات ہوئی جو وہاں ایزی ای منی بنکنگ پلیٹ فارم LAVA E REMIT کے نام سے ایک ایزی منی کا بنک لانچ کر رہے تھے انکی دعوت پر لانچنگ فنکشن میں بھی شریک ہوا ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اگر حکومت پاکستان انھیں اجازت دے تو وہ ہر ماہ 100ملین پاﺅنڈز سے زیادہ رقم پاکستان بھیجنے کی گارنٹی دے سکتے ہیں انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انکی سابق گورنر سٹیٹ بنک سے بھی ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی تجویز کو سراہا بھی تھا ،وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں آنے والے سرخ فیتے کو ختم کر دیں گے لیکن اب ان کی مدت ملازمت ختم ہو چکی ہے اور نئے گورنر آ چکے ہیں امید ہے کہ وہ ڈاکٹر لیاقت ملک کو خدمت کا موقع دیں گے اور کوشش کریں گے کہ وہاں بہت سے ڈاکٹر لیاقت ملک ڈھونڈیں تاکہ حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے ۔
ایک اور اوورسیز پاکستانی عابد بٹ جو چند سال قبل اس نیت سے پاکستان آگئے تھے کہ وہ پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان آ کر انھوں نے بھرپور سرمایہ کاری بھی کی وہ بھی پاکستان کے حالات سے بہت پریشان دکھائی دے رہے ہیں ۔مسائل کے حل کے لئے انھوں نے سوچ بچار کے بعد ففتھ پلر کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس کے سائے تلے وہ پاکستان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ان کا بھی دعویٰ ہے کہ اگر سرخ فیتہ آڑے نہ آئے تو پاکستان کے مسائل آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے پاس جائے بغیر حل ہو سکتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سیاستدان اور بیورکریسی پاکستان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں حکومت کو جتنے پیسے ٹیکس کی صورت میں آ رہے ہیں اس سے بہت زیادہ آ سکتے ہیں ہمارے ساتھ بات چیت کی جائے اور گزشتہ پانچ سال کی اوسط کو مد نظر رکھ کے آئندہ پانچ سال کا ٹیکس فکس کر لیا جائے لیکن ہمیں سکون سے کام کرنے دیا جائے اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں صرف 100 افراد کے ساتھ تجربہ کر لیں وہ افراد ہم دیں گے ۔وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں قوانین بزنس فرینڈلی بنانے کی ضرورت ہے اور وہ قوانین بزنسمین کے ساتھ اور اس کی مرضی کے مطابق بنائے جائیں گے تو ہی فائدہ ہو گا اس وقت ضرورت ہے کہ بزنسمین کو ففتھ پلر سمجھا جائے اور اسے کہا جائے کہ اپنا کاروبار بڑھاﺅ تاکہ بے روزگاری بھی ختم ہو اور پاکستان کے معاشی مسائل بھی حل ہوں ان کی ایک اور تجویز بھی غور طلب ہے کہ گوادر میں ایک ایسا علاقہ بنایا جائے جو ٹیکس فری زون ہو اور وہ ٹریڈرز کے لئے جنت ہو اس سلسلے میں انکے پاس قابل عمل تجاویز موجود ہیں ۔انہوں نے یہ بھی پیشکش کی ہے کہ وہ دنیا کے بہت سے ٹریدرز کو پاکستان لا سکتے ہیں اور وہ یہ سب صرف پاکستان کے لئے کرنا چاہتے ہیں انہیں کچھ نہیں چاہئے ۔عابد بٹ اور ڈاکٹر لیاقت ملک جیسے بہت سے پاکستانی موجود ہیں جو پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اسے معاشی دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں آخر ہم ان سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان سب سے فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کے مسائل اپنی مدد آپ کے تحت حل کریں۔

تبصرے بند ہیں.