نگران وزیراعظم کی جگہ نگران انتخابی کونسل کی تجویز

9

لگتا ہے پاکستانی سیاست کا سکرپٹ بھی فلمیں بنانے والے کسی سکرپٹ رائٹر نے لکھا تھا۔ ہماری سیاست میں بھی وہی سب کچھ ہے جو ایک ڈبہ فلم میں ملتا ہے۔ یعنی سسپنس، بڑھکیں، لڑائی، مارکٹائی، سازشیں، امید، ناامیدی، کامیاب اور ناکام محبتیں وغیرہ۔ فلموں اور سیاست کی اس مماثلت میں یہ پہلو حقیقت پر مبنی ہے کہ دونوں کا سکرپٹ اکثر پہلے ہی لکھا جاچکا ہوتا ہے اور تھوڑی بہت وقتی تبدیلی کے ساتھ فلم پردہ سکرین پر اور سیاست انتخابی نتائج کی صورت میں سامنے آجاتی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیاست کی اس ڈرامائی تشکیل میں اکیسویں صدی کے انتہائی موثر انٹرنیشنل ہتھیار کو زیادہ دیر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس ناقابل شکست ہتھیار کو ہم انسانی حقوق کے نام سے جانتے ہیں۔ انسانی حقوق کی ڈکشنری میں ہراسمنٹ کا لفظ بہت پسندیدہ ہے۔ انسانی حقوق اور ہراسمنٹ کی تعریف کو مخصوص خانے میں بند کرنے کی بجائے اگر لارجر سکیل پر دیکھا جائے تو ہماری سیاست کے اکثر کردار بھی ووٹروں کے انسانی حقوق پامال کرتے اور اُن میں مخصوص نوعیت کی ہراسمنٹ پھیلاتے نظر آئیں گے۔ اِس کی عام سی تشریح میں ایک دوسرے کے خلاف سیاسی بیانات، الزامات، سازشیں اور جوڑتوڑ وغیرہ شامل ہیں۔ اس بات کو سمجھنا بہت آسان ہے کہ اگر ایک سیاسی رہنما دوسرے سیاسی رہنما کے خلاف بولے تو اُس کے پیروکار اپنے رہنما کے خلاف باتیں سن کر کتنی ذہنی اذیت میں آتے ہیں۔ ہراسمنٹ کی اِس شکل کے خلاف اب تک آواز بلند نہیں کی گئی۔ یہاں فیصلہ کرنے کی بات یہ ہے کہ مستقبل میں ہماری سیاست کے سکرپٹ کو فلمی سٹائل سے الگ کرکے ووٹروں اور عوام کی فلاح و بہبود کے فلسفے کے تحت لکھنا ہوگا ورنہ ہمارے دیس میں سیاست گردی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہوجائے گی اور ’’ردالسیاست‘‘ جیسا بڑا آپریشن بھی کوئی پائیدار سدھار نہیں لاسکے گا۔ لہٰذا ضروری ہے
کہ سیاست دان  ’’مائنس سیاسی خودغرضی‘‘ کا نیا سکرپٹ خود لکھیں۔ ایسی ہی سیاسی خودغرضی کی ایک بڑی مثال نگران وزیراعظم کی تلاش ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد نگران وزیراعظم اور نگران حکومت کا تعلق صرف روزمرہ کے ضروری ملکی معاملات چلانا ہے جبکہ عام انتخابات کا مکمل انتظام اور نگرانی الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ گویا نگران حکومت کا عام انتخابات کے نتائج سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن نگران وزیراعظم کے تقرر کے لیے جو مخصوص مفاداتی سیاسی خواہشیں ہو سکتی ہیں وہ انتخابی عمل کو مشکوک کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس حوالے سے تجویز ہے کہ مستقبل میں عام انتخابات کے لیے نگران حکومت کی جگہ ’’نگران انتخابی کونسل‘‘ کے قیام کی پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کے ذریعے منظوری لی جائے۔ اس نگران انتخابی کونسل کے مینڈیٹ میں صرف اور صرف عام انتخابات تک روزمرہ حکومتی معاملات کو چلانا اور الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے حکم پر تمام سہولتیں فوری مہیا کرنا شامل ہو۔ چونکہ اس نگران انتخابی کونسل کا مینڈیٹ غیرسیاسی اور محض ٹیکنیکل ہوگا اس لیے اس کونسل کے ممبران میں کوئی بھی سیاسی فرد شامل نہ ہو۔ اس نگران انتخابی کونسل کے ممبران میں تمام اہم وفاقی وزارتوں مثلاً دفاع، امور خارجہ، داخلہ، قانون، خزانہ، پانی و بجلی، آئی ٹی، انفارمیشن اور پٹرولیم وغیرہ کے وفاقی سیکرٹری بلحاظ عہدہ شامل ہوں جبکہ گورنر سٹیٹ بینک کو بھی اس کونسل کا رکن مقرر کیا جائے۔ مذکورہ نگران انتخابی کونسل براہِ راست صدر مملکت کی سپرویژن میں کام کرے۔ اس کونسل کا مینڈیٹ بہت محدود ہو اور اُس پر مستقل سخت نظر بھی رکھی جائے۔ بالکل ایسے ہی صوبائی سطح پربھی نگران انتخابی کونسلیں گورنر کے ماتحت کام کریں۔ اس نگران انتخابی کونسل کے چند فوری اور اہم ترین درج ذیل فوائد نکلیں گے۔ نگران حکومت کی طرح مذکورہ نگران کونسل کی تشکیل میں سیاسی کھینچا تانی نہیں ہو گی۔ سیاسی اراکین کی عدم شرکت کے باعث مذکورہ کونسل غیرسیاسی رہ کر عبوری دور کے ضروری روزمرہ حکومتی کام چلا سکے گی۔ نگران وزیراعظم اور نگران کابینہ کے لمبے چوڑے پروٹوکول اور عبوری دور میں اُن پر اٹھنے والے غیرمنطقی اخراجات سے مکمل طور پر بچا جاسکے گا۔ وہ ایسے کہ اس کونسل کے تمام اراکین سرکاری اہلکار ہونے کے باعث پہلے سے ہی اپنے عہدوں پر فائز ہوں گے اور کسی قسم کے اضافی پروٹوکول، سیکورٹی یا اخراجات کا باعث نہیں بنیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ 1973ء کے آئین کے تحت اب تک جتنی بھی عبوری حکومتیں آئیں اُن میں سب سے زیادہ درویش صفت، جمہوری اور ایماندار نگران وزیراعظم ملک معراج خالد تھے جن کی نگرانی میں 1997ء کے عام انتخابات ہوئے اور میاں محمد نواز شریف کی مسلم لیگ دوتہائی اکثریت سے جیت گئی۔ کیا تمام سیاسی جماعتوں نے ملک معراج خالد جیسے غیرجانبدار نگران وزیراعظم کی نگرانی میں ہونے والے اُن انتخابات کو شفاف اور دھاندلی سے پاک قرار دیا تھا؟ کیا اُس وقت اپوزیشن جماعتوں نے اُن انتخابی نتائج کو دل سے تسلیم کرلیا تھا؟ اگر ایسا نہیں ہے تو آئندہ بھی نگران وزرائے اعظم کو شک کی نگاہ سے ہی دیکھا جاتا رہے گا۔ اگر ایسا ہی ہونا ہے تو نگران وزیراعظم اور نگران حکومت کے لیے سیاسی مفادات کی کھینچا تانی، اُن کے پروٹوکول اور سیکورٹی پر اٹھنے والے اضافی اخراجات کی کیا ضرورت ہے؟ البتہ مجوزہ نگران انتخابی کونسل میں سیاسی رسک بہت کم ہونے کے ساتھ ساتھ پروٹوکول اور اضافی اخراجات کا بوجھ بالکل ختم ہو جائے گا۔ وقت آنے پر آٹومیٹک تشکیل پاجانے والی اس کونسل کے باعث عوام سسپنس اور سیاسی جوڑتوڑ کی ذہنی ہراسمنٹ سے بھی بچ جائیں گے۔ مذکورہ نگران انتخابی کونسل کی تجویز حکومت اور اپوزیشن لیڈر کے لیے بہت بدذائقہ ہوگی لیکن یہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ عوام کے لیے خوش ذائقہ ہوسکتی ہے۔ کیا پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ یا تھنک ٹینک ہے جو سیاست دانوں کی سیاسی مفاد پرستی والی اُن کی تجاویز کے علاوہ عام پاکستانی شہریوں کی سیاسی تجاویز پربھی غور کرتا ہو؟

تبصرے بند ہیں.