شکر اور کفر!!

12

چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں، ہر اسم اپنے متضاد اسم سے پہچان میں آتا ہے اور اپنے معانی و مفاہیم کو انسانی عقل و شعور کے اُفق پر نمایاں کرتا ہے۔ نعمت کے ساتھ شکر کا لفظ اپنے تمام تر معانی سمیت منسلک ہے۔ نعمت کے ساتھ شکر کا تصور شیر و شکر ہے۔ نعمت پر شکر ادا کرنے کا حکم ہے۔ ارشادِ ربِ کریم ہے کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو تمہارے لیے اضافہ کر دیا جائے گا۔ ارشادِ رسولِ کریمؐ ہے کہ جو شخص بندوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا قول ہے کہ جس نے اپنے پالنے والے ماں باپ کو سامنے دیکھا اور انہیں نہیں مانا اس نے بن دیکھے رب کو کیا ماننا ہے۔ نعمت کی ناقدری کے لیے ہمارے ہاں عام مستعمل لفظ ’’کفرانِ نعمت‘‘ ہے۔ قرآن کریم میں بھی نعمت کے حوالے سے شکر کے مقابلے میں کفر کا لفظ موجود ہے۔
ہر وہ چیز نعمت ہے جو ہمیں اس زندگی میں ہماری استعداد اور استحقاق سے بڑھ کر میسر آئی ہے۔ سچ پوچھیں تو زندگی سربسر ایک نعمت ہے۔ ہمارا وجود سرتاپا نعمتوں کی ایک داستان ہے۔ اگر صرف بالوں ہی کو دیکھیں تو انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ سر کے بالوں سے لے کر ابرو اور پھر پلکوں تک ایک ایک بال خالقِ حسن و جمال کے سامنے احسان مندی کے احساس میں جکڑا ہوا ہے۔ ایک صحت مند انسانی وجود رب کائنات کی گوناگوں نعمتوں کا مرقع ہے۔ آنکھ ، کان، ناک اور پھر زبان— اگر ہم اپنے حواسِ خمسہ ہی پر غور کریں تو شکر کے بے پایاں احساس سے دل بھیگ جاتا ہے۔ ہمارے حواسِ خمسہ ہمیں اس کائنات سے متعلق کرتے ہیں۔ احساس اور خیال کے بعد اس کائنات کے ساتھ ہمارے رابطے کا ذریعہ یہی ہمارے پانچ حواس ہیں۔ آنکھ ہی کو دیکھیں، اگر دیکھ سکیں، باہر پھیلے ہوئے بے پناہ حسن کی شاہد یہ انسانی آنکھ ہی ہے۔ وجودِ انسانی کے حسن کا خلاصہ اس کے چہرے میں ہے اور چہرے کے حسن کی تلخیص اس کی آنکھ میں!! اپنی یا کسی کی— آنکھ بند ہونے کی دیر ہے کہ یہ دنیا اندھیر ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر کے نغمات ہمارے گوشِ مشتاق میں اترنے کا اشتیاق رکھتے ہیں۔ ناک ہی کو لیں، اونچا نہ بھی ہو تو چہرے کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے— قوتِ شامہ بھی رکھتا ہے اور جاذبہ بھی!! ناک کا بال— جوفِ سینہ میں اترنے والی ہوا کو نمیدہ اور مقطر کرتا ہے۔ زبان ذائقہ سے آشنا کرتی ہے اور جب حرکت کرتی ہے تو ہمارے مزاج کا ذائقہ دوسروں کا چکھاتی ہے۔ وہ ذات جو احسن الخالقین ہے، وہ الحکیم بھی ہے— اپنی حکمتِ
بالغہ کے تحت ایک ایک شئے سے کئی کئی کام لے لیتا ہے۔ جوفِ شکم میں موجود آنتوں، اعضائے رئیسہ اور میلوں لمبا شریانوں کا جال— سنبھالنے اور سمیٹنے  کے لیے  ہمیں جلد کی صورت میں ایک سوٹ کیس مہیا کر دیا گیا ہے۔ یہ جلد لمس کے جملہ احکامات سے بخوبی آگاہ ہے۔ جلد لامسہ کا محل ہے — اور پھر لامسہ کی معراج جنس کی لذت بھی اسی کا امتحان ہے۔
عرصہِ زندگی کو امتحان گاہ کہا گیا ہے۔ اگر شکر کی زبان میں بات کی جائے تو یہ کہنے میں کچھ مبالغہ نہیں کہ یہ  زندگی ایک نعمت کدہ بھی ہے۔ دراصل ہم نے اپنی زندگی میں میسر آنے والی جملہ نعمتوں کو اپنا استحقاق سمجھ لیا ہے، اس لیے نعمت کا احساس ہمارے دلوں سے رخصت ہو گیا ہے۔ آخر ہمیں کیا حق حاصل تھا کہ ہمیں پیدا کیا جاتا؟ ہمیں کیا حق حاصل تھا کہ اس کائنات کے حسن کا ہمیں شاہد بنایا جاتا، ہمارے ساتھ مکالمہ کیا جاتا اور دعا کی صورت میں ہماری سرگوشی سنی جاتی۔ پتھروں، پودوں اور جانوروں کے درمیان ہمیں انسانوں کی صورت میں پیدا کیا گیا — اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں مسلمان خاندان میں پیدا کیا گیا— پیدا ہوتے ہی ہمارے کانوں میں آذان سنا دی گئی، کلمہ ہمیں گھر سے مل گیا، امتِ محمدیہ میں ہم بیٹھے بٹھائے شامل کر لیے گئے۔ سبحان اللہ! الحمد للہ! ثم الحمد للہ!! یارب العالمین! تیری نعمتیں شمار سے باہر ہیں۔ تو نے ہمیں بن مانگے نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔اب ان نعمتوں پر شکر کرنے والا دل بھی عطا فرما دے۔ ہم تجھ سے ایک شکرگزار اور گداز دل مانگ رہے ہیں، بے شک دلوں کا خالق بھی تو ہی ہے، تو ہی دل عطا کرتا ہے اور تو ہی دلبر عطا کرتا ہے— تو دلبروں کا خالق ہے— بلکہ تو ہی سرِّ دلبراں ہے۔
ہم نعمتوں کا شکر ادا نہیں کر سکے۔ مزید کا تقاضا ہمیں لمحہ حال سے غافل کر گیا۔ ہم ماضی میں الجھے رہے یا پھر کسی ممکنہ مستقبل کی گنجلک سلجھاتے رہے۔ خواہش اور لالچ نے ہمیں بھاگتے رہنے پر مجبور کر دیا، ہم بھول گئے کہ بھاگتے ہوئے شخص کا منظر بے ترتیب ہو جاتا ہے۔ حسن تو حسنِ ترتیب کا نام ہے۔ ترتیب سے باہر ہو کر ہم نہ تو تیری بے پایاں نعمتوں کی پہچان کر سکے اور نہ ان کا شکر ہی ادا کر سکے۔ خواہش اور تقاضے نے ہمیں شکوہ کناں رکھا۔ شکوہ کرنے والا شکر کیسے ادا کر سکتا ہے۔ مسابقت کی روش نے ہمیں قناعت کی قیام گاہ سے دربدر کر دیا ہے۔ قناعت کی دولت سے محروم قارون کی دولت پر بھی متصرف ہو جائے تو کلمہ شکر ادا نہیں کر سکتا۔
نعمتوں کا احساس ہوتے ہی ہمیں منعم کا احساس ہوتا ہے۔ نعمت سے اگر منعم کی طرف رجوع نہ کیا جائے تو نعمت آزمائش بن جاتی ہے۔ مال اور اولاد نعمت بھی ہے اور فتنہ بھی— شکر کرنے والوں کے لیے بمنزلہ نعمت اور شکوہ کناں رہنے والوں کے لیے فتنہ!!
جس نعمت کا شکر ادا نہ کیا جائے وہ فتنے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ زبان ، آنکھ، کان، ناک اور ہاتھ پاؤں ایسے حسیات اور قوائے وجود، ان میں سے ہر ایک کا شکر جدا جدا واجب ہے۔ آنکھ ایسی نعمت کا شکر یہ ہے کہ غیراللہ کی طرف اٹھا کر بھی نہ دیکھے، کان کا شکر یہ ہے غیر کی بات پر کان نہ دھرے، زبان کا شکر یہ کہ غیرِ حق بات نہ کہے، ناک کا شکر یہ کہ مشامِ جاں کو اہل اللہ کی خوشبو سے معطر رکھے، ہاتھ کا شکر یہ کہ اس سے مخلوقِ خدا کو محفوظ رکھے، پاؤں سے جائے اطاعت کا رخ کرے، کسی معصیت کدے میں قدم نہ رکھے۔
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ کسی نعمت کا شکر یہ ہے کہ اسے ان لوگوں کی خدمت میں صرف کیا جائے جن کے پاس وہ نعمت نہیں۔ گویا خدمتِ انسانی شکر ادا کرنے کا ایک عملی طریق ہے۔ کسی نعمت کا ایک عملی شکر یہ ہے کہ اسے نعمت دینے والے کی منشا کے برعکس استعمال نہ کیا جائے۔ کسی نعمت کا ایک شکر یہ بھی ہے اس نعمت کی وجہ سے حسد کرنے والوں کے حسد کو برداشت کیا جائے۔
نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت فراغت ہے۔ وقت زندگی میں ملنے والا قیمتی ترین سرمایہ ہے۔ وقت کا ضائع کرنا اس بیش قیمت نعمت کا کفران ہے۔ اپنے وقت کو لہو و لعب میں صرف کرنا گویا اس نعمت کی توہین ہے۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ اگر اطاعت میں صرف نہیں ہو رہا تو کم از کم معصیت میں صرف نہ کیا جائے۔ معروف سے غافل ہونا بھی غلطی ہے لیکن منکرات میں مشغول ہونا صرف غلطی نہیں، جرم ہے۔ معصیت میں تسلسل اور تواتر معصیت کو ندامت سے الگ کر دیتی ہے اور یہ ’’علیحدگی‘‘ بغاوت ہے۔ معصیت قابلِ معافی ہوتی ہے، بغاوت کی معافی نہیں۔
کلمہ طیبہ ایسی بے مثل و مثال نعمت کا شکر یہ ہے کہ کلمہ عطا کرنے والی ذاتؐ سے قلبی وابستگی اختیار کی جائے۔ کلمے کو کلمے والے سے علیحدہ نہ کیا جائے— کتاب کو صاحبِ کتاب سے جدا نہ کیا جائے۔ اسلام عطا کرنے والی ذاتؐ کے کہے کو حرفِ آخر جانا جائے۔ نگاہِ عقل و عشق میں انہیں ہی اول و آخر مانا جائے— اسی یٰسین اور طہٰ ذات ہی کو حق و باطل کا فرقان مانا جائے۔ اسلام سے محبت دراصل پیغمبرِ اسلامﷺ سے محبت ہے۔

تبصرے بند ہیں.