ہماری سیاست ٹیڑھے راستے پر

10

چوہتر برس کے بعد بھی وطن عزیز کے معاشی سیاسی اور سماجی حالات میں وہ بہتری نہیں آئی جس کا خواب ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے بار بار ہمیں دکھایا۔ آج ہر کوئی حیران و پریشان ہے اور سوچ رہا ہے کہ یہ ہوتی ہے سیاست اور یہ ہوتی ہے حکمرانی۔ اس سے تو کہیں بہتر ہے کہ ملک میں یک جماعتی نظام حکومت ہو۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب تک اہل سیاست نے صرف اپنے لیے ہی اقدامات کیے ہیں اگرچہ عوام کو بھی چھوٹے موٹے ریلیف دیے ہیں اور سہولتیں فراہم کی ہیں وہ اس سے خوف سے کہ کہیں لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق گلی کوچوں میں نہ نکل آئیں لہٰذا ایسی صورت میں اہل اقتدار کے لیے بڑی مشکل ہوتی ہے کہ وہ خود کو سنبھالا دے سکیں۔ اگرچہ سرکاری مشینری ان کے ایک اشارے پر حرکت میں آ جاتی ہے اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے منظم طور سے دیوار بن کر اس کے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے مگر تب بھی وہ کسی حکمران کے لیے بہت بڑی پریشانی بن جاتی ہے لہٰذا وہ معمولی نوعیت کے منصوبوں کا آغاز کر کے عوامی غیض و غضب پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک عرصے کے بعد جب وہ بھی عوام کی مشکلات کو روکنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر عوامی ردعمل جنم لیتا ہے اسے بھی روایتی انداز میں دیکھا جاتا ہے بس ایک طویل مدت سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔
دراصل ہماری سیاست کو واشنگٹن نے کنٹرول کیا ہے۔ اس کے مالیاتی اداروں نے بھی اس حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کی معیشت پر اس قدر کاری ضرب لگائی ہیں کہ ہم اس کی چوٹوں سے بری طرح سے گھائل ہیں۔ اب ذرا دیکھیے کہ جو بھی سیاسی جماعت ووٹوں لوٹوں یا کسی بھی طرح سے حکومت میں آتی ہے اسے عوام کی نہیں اپنے سرپرستوں کی زیادہ فکر ہوتی ہے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں۔ ایسی سیاست کاری کی مصلحتوں اور حکمت عملیوں کی بنا پر سیاسی استحکام نہیں آ سکا اور اسی وجہ سے ہی ہمارے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکے۔ موجودہ سیاست کاری بھی آپ کے پیش نظر ہے کہ اعصاب شکن صورتحال پیدا ہو چکی ہے، فریقین اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے کس قدر اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ انہیں ہر کوئی دیکھ سکتا ہے مگر افسوس، انہیں عوام کی حالت زار پر
پہلے کبھی ترس آ یا نہ اب آ رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے تو مہنگائی کے شیش ناگ کو کھلا چھوڑ رکھا ہے، مافیاز آزاد ہیں۔ جناب وزیراعظم حزب اختلاف پر بدعنوانی کو بنیاد بنا کر اس پر تابڑ توڑ حملے کرتے چلے آ رہے ہیں مگر ان کے ساتھیوں نے مبینہ طور سے جو لوٹ مار کی ہے بالخصوص سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس بارے میں ایک لفظ اپنی زبان سے ادا نہیں کیا۔ وزیراعظم کے آگے بعض ایم این ایز اور ایم پی ایز رو رو کر فریاد کرتے رہے کہ وہ اس صوبے کو بدعنوان عناصر سے بچائیں، گڈگورننس کو بہتر بنائیں جو عثمان بزدار کی موجودگی میں ممکن نہیں اس کے لیے نیا وزیراعلیٰ لانا ہو گا مگر انہوں نے ان کی ایک نہیں سنی اور وہ اپنی ضد پر مسلسل قائم رہے، اب جب ان کے اقتدار کو خطرات لاحق ہوئے ہیں تو انھیں ہوش آیا ہے۔ راقم نے اپنے تین چار کالموں میں پنجاب کے حوالے سے عرض کیا تھا کہ اس میں عثمان بزدار کوئی نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکے لہٰذا پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ لایا جائے جو سب کو بڑی حد تک قابل قبول ہیں اور معاملات کو دیکھنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے دور میں ایسے بہت سے کام ہوئے ہیں جنہیں کسی طور بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ ان پر تنقید انتہائی کم ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے ہر قدم عوام کی فلاح کے لیے اٹھایا۔
بہرحال وزیر اعظم نے انہیں وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کر دیا ہے یوں عوام کی جان عثمان بزدار سے چھوٹ گئی ہے۔ اگرچہ ڈیڑھ برس باقی ہے مگر اس میں عوامی خدمت کے لیے چودھری پرویز الٰہی ان تھک محنت کرتے ہوئے دیکھے جا سکیں گے۔ یہاں یہ بھی سوال ہے کہ کہیں پی ٹی آئی کے کچھ لوگ ان کی نامزدگی پر معترض تو نہیں ہوں گے، ہمیں نہیں لگتا کیونکہ اتحادیوں کو جو حصہ ملنا چاہیے تھا وہ انہیں مل گیا، پی ٹی آئی نے جو کرنا تھا وہ کر چکیم اب اتحادیوں کو بھی اپنی ساکھ برقرار رکھنا ہے مگر کیا وفاقی حکومت کے سر سے تحریک عدم اعتماد کی تلوار ہٹ گئی ہے یعنی وہ اس کا مقابلہ کر پائے گی، وہ اس کا مقابلہ ضرور کرے گی کیونکہ اب صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ مگر ہماری سیاست اصولوں کی نہیں رہی بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کبھی اس کا کوئی اصول نہیں رہا نہ ہی ہمارے سیاستدانوں نے کبھی مل بیٹھ کر غورکیا کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ وہ خاص لوگوں اور ممالک کو راضی رکھنا چاہتے ہیں لہٰذا حالات نہیں بدلے وہی پرانی ڈگر ہے اور وہی پرانی باتیں ہیں۔ عمران خان جوصاف شفاف ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے اب نمک کی کان میں نمک بنتے جا رہے ہیں اگرچہ وہ خود بدعنوانی کے مرتکب نہیں ہوئے مگر ان کے ساتھیوں میں سے تو کئی نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں اس کے وہ ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے اور اگر وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے دور میں کوئی قومی خزانے سے مستفید ہو، تو انہیں اب تک تمام دولت کی ہوس رکھنے والوں کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ اقتدار ان کا بچتا یا نہیں بچتا خیر اب وہ بھی اس سے محبت کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں کہ بھر پور طور سے جوڑ توڑ کر رہے ہیں۔
بہر کیف یہ بات ایک بار پھر سامنے آئی ہے کہ حکمران طبقہ اپنے مفاد کے لیے آئین و قانون کا خوب خیال رکھتا ہے مگر جب عوام کیلئے کچھ کرنے کی بات ہو تو پھر آئین اور قانون کو پلٹ کر نہیں دیکھتا لہٰذا عوام کی غالب اکثریت ان سب سے تنگ ہے مگر وہ مجبوراً ان کے ساتھ بھی چل پڑتی ہے کہ شاید ان کی سوچ بدل جائے، مگر یہ نہیں بدلیں گے انہیں اپنی باریاں اپنے مال و زر اور اپنے عزیز و اقارب کے لیے فکر مند ہونا ہے لہٰذا وہ ہو رہے ہیں عوام جائیں بھاڑ میں۔ وہ جلسوں میں شامل ہو کر اپنا ابال نکالتے رہیں اور آپس میں الجھتے رہیں اگر وہ (عوام) چاہتے ہیں کہ حقیقی تبدیلی آئے اور وہ بھی اختیارات کے مالک بنیں انہیں جلسوں اور جلوسوں میں جانے سے پہلے سو بار سوچنا ہو گا، انہیں بار بار گھما پھرا کر اسی ’’بوڑھ تھلے‘‘ لایا جا رہا ہے جہاں سے وہ چلتے ہیں۔ عمران خان کی سیاست نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی مروجہ سیاست کاری کے سحر میں مبتلا ہو چکے ہیں جو عوامی مفاد میں نہیں اشرافیہ کو اور مضبوط کیا جا رہا ہے، انہیں چاہئے تھا کہ وہ اقتدار کو ٹھوکر مار کے عوام میں آ جاتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ ان میں بھی اب اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش پیدا ہو گئی ہے اور یہ خواہش ایسی ہے، جو روشنیوں کو تاریکیوں میں بدل دیتی ہے۔ حرف آخر یہ کہ انہوں نے جو کہا کہ باہر سے ان کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے اور ایک عدد خط بھی وہ اپنے جلسے میں دکھا چکے ہیں، اس سے عوام کے مسائل حل ہو جائیں گے اور کیا ان کے اقتدار میں مزید رہنے سے کوئی انقلاب آ جائے گا کچھ بھی نہیں ہو گا ہاں البتہ انہیں روایتی سیاست کے داؤ پیچ ضرور آ جائیں گے۔

تبصرے بند ہیں.