قومی اسمبلی کا اجلاس پیر شام 4 بجے تک ملتوی

11

اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس 28 مارچ بروز پیر شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ معزز ایم این کی وفات پر اجلاس ملتوی کرنا روایت ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس کا آغاز دن 11 بجے تلاوت قرآن پاک سے  ہوا  جس کے بعد مرحوم اراکین اسمبلی، سابق صدر رفیق تارڑ، سینیٹر رحمان ملک سمیت  پشاور مسجد دھماکے کے شہداء  کیلئے فاتحہ خوانی اور  دعائے مغفرت کی گئی۔

وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری کی جانب سے دعائے مغفرت کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس پیر 28 مارچ شام 4 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی معزز ایم این اے وفات پا جائے تو اجلاس ملتوی کرنا روایت ہے اور ماضی میں بھی اسمبلی اجلاس 24 بار ملتوی کیا گیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ معزز ممبر کی وفات پر اجلاس کا ایجنڈا اگلے روز کیلئے ملتوی کر دیا جاتا ہے اس لئے روایت برقرار رکھتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس 28 مارچ تک ملتوی کیا جاتا ہے۔ 

واضح رہے کہ  سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے آج قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈا میں تحریک عدم اعتماد کو بھی شامل کیا  گیا تھا   جس کے تحت اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جانا تھی ۔

سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے  فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کے فوری بعد  اجلاس  ملتوی کئے جانے پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابا بھی کیا ۔  اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر  شہباز شریف نے مائیک پر بولنے کی کوشش کی تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی۔

خیال رہے کہ ملک جاری سیاسی کشمکش میں اس وقت وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کیلئے  اپوزیشن نے اپنے گھوڑے بھگا رکھے ہیں ۔  پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ ان کے نمبر پورے ہیں اور وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے پر 200 کے قریب نمبر لا کر دکھائیں گے ۔

 دوسری جانب حکومت بھی وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے پر اعتماد ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس حکومتی اراکین ہیں تو ہمارے پاس بھی ان کے ارکان ہیں جبکہ وزیراعظم ووٹنگ سے ایک روز  قبل اپنا کارڈ شو کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔

قبل ازیں  آج قومی اسمبلی  اجلاس  کیلئے سیکورٹی کے غیر معمولی  انتظامات کیے گئے ,   سکیورٹی کے فول پروف  انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جبکہ  علاقے کو مکمل طور پر سیل کیا گیا۔

 اجلاس کے لیے ممبران قومی اسمبلی کو بھی  ہدایت نامے  جاری کیے گئے  جس کے مطابق  قومی اسمبلی اجلاس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی تھی ۔جبکہ ایم این ایز، وزرا کے سکیورٹی گارڈز اور ذاتی عملہ بھی  ساتھ لانے پر پابندی تھی ۔

ہدایت نامے  کے مطابق سیکیورٹی کے پیش نظر سیکریٹریٹ کی جانب سے تمام ارکان کی گاڑی میں آمد پر پابندی تھی  ، تاہم اراکین نے  گاڑی کو مخصوص پارکنگ میں کھڑا کرنے کے بعد  پارلیمنٹ لاجز سے پارلیمنٹ ہاؤس تک شٹل سروس کا استعمال کیا۔

  وفاقی دارالحکومت کی  پولیس سمیت رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کی بڑی تعداد سیکورٹی فرائض انجام دئیے  ۔ کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں تھی  تاہم ریڈ زون جانے والے ملازمین کو  اپنے دفتر کا کارڈ دکھا کر جانے دیا گیا۔

تبصرے بند ہیں.