کورونا کی نئی قسم نے خطرے کی گھنٹی بجادی

183

 

کینبرا: آسٹریلیا میں مہلک ترین وائرس کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے۔

 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق گذشتہ 10 روز میں نیا وئیرینٹ 3 گنا زیادہ تیزی سے پھیلا ہے۔ نیو ساوتھ ویلز میں ماسک پہننے پر نرمی سے وائرس کا پھیلاؤبڑھا۔

 

آسٹریلیا  میں سامنے آنے والی کورونا کی نئی قسم کو اومی کرون کا سب ویرینٹ بی اے 2 کا نام دیا گیا ہے۔

 

 

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ہی  عالمی ادارہ صحت نے  کورونا کے حالیہ ویرینٹ اومیکرون سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی اور کورونا کی نئی اقسام سامنے آنے کا  خدشہ ظاہر کیا تھا۔

 

 

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے وائرس کے دنیا سے جلد خاتمے  کے  امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اومیکرون کے تیزی سے بڑھتے کیسز کے  بعد  کورونا کی مزید نئی اقسام سامنے آنے کا خدشہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وبائی مرض کہیں بھی ختم نہیں ہوا ہے اور نہ مستقبل قریب میں جلد ختم ہونے کے اثرات ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نےمتنبہ کیا کہ اومیکرون کے بڑی تعداد میں کیسز سامنے آنے سے کئی ایسے افراد جو کمزور ہیں یا کم قوت مدافعت رکھتے ہیں وہ شدید بیمار یا موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے اومیکرون کو اوسطاً کم خطرناک تصور کرنے کے بیانیے کو بھی گمراہ کن قرار دیا تھا ۔

تبصرے بند ہیں.