ہم بہت دیر سے سمجھتے ہیں !

19

میرے دائیں بائیں سبزے کی طویل چادر بچھی تھی ، سورج کی عمر دو گھنٹے تھی اور دھوپ اس مختصر عمر میں جوان ہو چکی تھی ۔کھیتوں کے بیچوں بیچ سانپ کی طرح بل کھاتی پگڈنڈنی پر گاؤںکا سارا معصوم حسن امڈ آیا تھااورادھیڑ عمر خواتین سروں پر گھڑے ٹکائے بغل میں بچے دبائے کام کاج کے لیے نکل پڑی تھیں ۔ نوجوان بانکے ڈھور ڈنگروںکو کھیتو ںکھلیانوں میں لے جانے کا اہتمام کر رہے تھے ۔گھروں کی چمنیوں سے خشک لکڑیوںا ورسوکھے گوبرکا دھواں اٹھ رہا تھا جو خنک فضا میں تحلیل ہو کر سردی کی شدت کو کم کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔گندم کے لہلہاتے کھیت شبنم سے وضو کر کے خدائے قدیر کی حمد و ثنا سے فارغ ہو چکے تھے ۔ دھوپ جوانی کی عمر کو پہنچنے کے باوجود شوخ پن اور تیکھی اداؤں سے بے نیاز تھی اور اس کی کرنیں اپنائیت ، مٹھاس اور عجز کا حسین امتزاج بنی تھی اور میں اس حسین امتزاج کو اپنے وجود میں جذب کرنے کی بھرپور کو شش کر رہا تھا۔ میں طویل عرصے کے بعد گاؤں آیا تھا اور پنجاب کے گاؤں آج کل پہلی را ت کی دلہن کی طرح معصومیت ، خوبصورتی اور حسن کا مرقع بنے ہوئے ہیں ۔ فروری کے اواخر اور مارچ کے اوائل میں گاؤں کا حسن جوبن پر ہوتا ہے ، اگر آپ نیچر کو براہ راست دیکھنا چاہتے ہیں یا اس کی آغوش میں سر رکھ کر بہت ساری باتیں کرنا چاہتے ہیں تو آج کل پنجاب کے گاؤں دیہات میں یہ آفر دستیاب ہے ۔ میں اس آفر سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونا چاہتا تھا لہٰذا میں کھیتوں کی طرف نکل گیا۔کھیتوں کے درمیان سے گزرتی پگڈنڈی کے دونوں اطراف سبزہ تھا ،سبزے کے درمیان کہیں کہیں بلند وبالا درخت تھے اور ان درختوں کی ٹہنیوں پر چڑیوں کے گھونسلے تھے اورگھونسلوں میں چوں چوں کا شور تھا او ر چڑیاںاس شور پر قربان ہوئی جاتی تھیں۔زمین پر موجود ہر چھوٹا بڑاپودا اور جڑی بوٹی انگڑائی لے رہی تھی ،گویانیچر بے رحم جاڑے کے جانے کے بعدسبز چادر سے گھونگھٹ نکالے اپنے دولہے بہار کے استقبال کے لیے بانہیں پھیلائے کھڑی تھی ۔میں پگڈنڈی سے ہوتا ہوا کھیتوں میں پہنچ چکا تھا ، میں نے شلجم ، مولی اور دیگر دستیاب سبزیوں سے اپنے حصے کا رزق کھایا اور کھیت کے ایک کونے میں بنے ڈیرے پر چلا گیا ۔ ڈیرے پر دائیں بائیں کھیتوں کے تمام کسان جمع تھے اور خوب محفل جمی تھی ۔ چچا جان صبح صبح حقہ تیار کرکے ڈیرے پر آ جاتے ہیںاور سارا دن یہیں گزارتے ہیں ،یہ ڈیرہ پورے گاؤں کی پارلیمنٹ ہے اور یہاں مقامی سیاست سے لے کر ملکی سیاست و معیشت سمیت تمام مسائل ڈسکس ہوتے ہیں ۔میں چچا کو سلام کر کے ایک طرف بیٹھ
گیا اور گاؤں کے سیانے بابوں کی باتیں سننے لگا۔ یقین جانیں ایسی ایسی دانشمندی کی باتیں ہو رہی تھیں کہ میں دنگ رہ گیا ، ایک ایک جملے میں حکمت و نصیحت کا سمندر موجزن تھا اور ان کی گفتگو کے پیچھے ان کا پچاس پچاس سالہ تجربہ کھڑا تھا ،میں ہمہ تن گوش سنتا رہا ۔ کسی نے بولنے کی فرمائش کی بھی تو میں نے سننے کو ترجیح دی ۔تقریبا دو گھنٹے تک گاؤں کی پارلیمنٹ کا یہ اجلاس جاری رہا ،اس کے بعد لوگ ایک ایک کر کے اٹھتے گئے اور آخر میں چچا اکیلے رہ گئے، انہوں نے اشارے سے مجھے پاس بلایا ، پیار کیا اور اپنے ساتھ چارپائی کے سرہانے کی طرف بیٹھنے کا حکم دیا ، میں نے بہت کوشش کی کہ سرہانے کی طرف نہ بیٹھوں مگر وہ نہ مانے۔ ہم بچپن میں چچا سے بہت ڈرتے تھے ، ان کا بہت رعب ہوا کرتا تھا اور خاندان کے ہر بچے پران کی نظر ہوتی تھی۔میں چچا کے بار بار کہنے پر سرہانے کی طرف بیٹھ گیا اور ڈرٹے ڈرتے عرض کیا: ’’ چچا جان یاد ہے بچپن میں ہم سب سے زیادہ آپ سے ڈرتے تھے ، جب بھی گھر میں مہمان آتے ، پڑھائی کا مسئلہ ہوتا ، کوئی شرارت الٹی پڑ جاتی یا کہیں باہر سے شکایت آ جاتی تو ہمیں سب سے زیادہ ڈ ر آپ سے لگتا تھا ، ہم سب کزن آپ سے ڈرتے تھے ،آپ سامنے آتے تو راستہ بدل لیتے تھے آپ نیچے ہوتے تو ہم چھت پر چلے جاتے تھے اور اگر آپ چھت پر ہوتے تو ہم نیچے آ جاتے تھے ۔ بچپن میں آپ ہمیں بالکل اچھے نہیں لگتے تھے ، ہمارے دوسرے تین چچا بھی ہیں مگر وہ ہم سے بہت پیار کرتے تھے ، کبھی کسی نے ہمیں نہیں ڈانٹا تھا، کبھی پڑھائی کی وجہ سے نہیں مارا تھا اور کبھی کھیلنے سے منع بھی نہیں کیا تھا ۔ بچپن سے ہمیں وہ تینوں چچا بہت اچھے لگتے ہیں مگر آپ سے ہم تب بھی ڈرتے تھے اور آج بھی بات کرتے ہوئے مشکل محسوس ہو رہی ہے ۔‘‘میں بات کر کے خاموش ہوا تو چچا تھوڑے سنجیدہ ہو گئے ۔انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولے :’’ بیٹا تم ٹھیک کہتے ہو ، میں واقعی بہت سخت تھا ، خاندان میں میرا غصہ مشہور ہے اور خاص کر بچوں کے حوالے سے تو مجھے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ میں نے بہت سختی کی ہے ۔ لیکن میرے پتر !آج بتاؤ کیا میرا وہ ڈانٹناغلط تھا، اگر تمہیں ڈر نہ ہوتا تو کیا تم آج پڑھ لکھ کر اسی جگہ ہوتے، کیا تیرے فلاں فلاں کزن بھی پڑھ لکھ کر اچھی نوکری حاصل کر لیتے، نہیں نا۔ پتر !بات یہ ہے کہ میں بھی تیرے دوسرے چچاؤں کی طرح کا دل رکھتا تھا، مجھے بھی بچے کھیلتے اچھے لگتے تھے اور میں بھی تم بچوں کی ہاں میں ہاں ملاکر بچوں اور خاندان کی نظر میں ’’اچھا ‘‘ بن سکتا تھا مگر میں نے شعوری طور پر ایسا نہیں کیا ۔ میرے سینے میں بھی دل ہی تھا کوئی سنگ و خشت تھوڑی تھا مگرمجھے جان بوجھ کر دل سخت رکھنا پڑتا تھا ۔ ‘‘ وہ بات کرتے کرتے جذباتی ہو رہے تھے اور ان کی آواز رندھ گئی تھی ،وہ بول رہے تھے :’’پتر ! کوئی والدین یا چچا ماموں پتھر دل نہیں ہوتے بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے سخت دل ہونا پڑتا ہے ۔ ہماری زندگی اور رشتہ داروں میں دو طرح کے کردار ہوتے ہیں ، وہ بہن بھائی اور چچا ماموں جو ہر دلعزیز ہوتے ہیں ، کسی کو کچھ نہیں کہتے اور سب کی ہاںمیں ہاں ملاتے ہیں ، دوسرے وہ جو بات بات پر ٹوکتے ہیں ، پڑھائی کا پوچھتے ہیں ، ہماری اچھی بری سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں ، پتر ! میں پہلے کردار کی نفی نہیں کررہا مگر دوسرے کردار والے دراصل ہمارے محسن ہوتے ہیں ۔ ‘‘ میں نے عرض کیا :’’ چچا جان پہلے آپ بہت سخت دل ہوتے تھے اور اب آپ اتنے نرم دل ہیں کہ بات بات پر آنسو آ جاتے ہیں‘‘۔ وہ بولے :’’پتر! میں پہلے بھی نرم دل تھا ، وہ تو تم بچوں کے لیے بناوٹی طورپر سخت دل ہونا پڑتا تھا، پتر ! ایک بات بتاؤں ؟ ہم لوگ والد کو بھی بہت سخت دل سمجھتے ہیں ، ہمارے اسلامی ادب میں ماں کے حقوق و آداب پر بہت کچھ لکھا گیاہے اور اس بہت کچھ کے بوجھ تلے والد کے حقوق کہیں دب گئے ہیں ، ہم والد کو بہت سخت دل اور ماں کو نرم دل سمجھتے ہیں مگر کبھی والد کا دل چیر کر دیکھنا اس میں کتنا پیار ، محبت ، احتیاط اور خیال بھرا ہوتا ہے ، بس والد کو اس کے اظہار کا موقع نہیں ملتا اور کبھی ضرورت اور کبھی مصلحت کے تحت اسے اندر ہی اندر ضبط کرنا پڑتا ہے ۔مجھے بتاؤ والد سارا دن کھیتوں کھلیانوں ، بازاروں اور منڈیوں میں کس کے لیے اپنی جان کھپاتا ہے ـ ؟وہ سات سمندر پار کس کے لیے روزی کمانے جاتا ہے ، وہ کس کے لیے آگ سے کھیلتا ، خطرات میں کودتا ہے ، وہ کس کے لیے گرمی سردی اوراچھا برا برداشت کرتا ہے ـ؟ پتر ! بات در اصل یہ ہے کہ ہم والد کو بہت دیر سے سمجھتے ہیں بلکہ جب تک ہم خود والد نہیں بن جاتے تب تک ہمیں سمجھ نہیں آتی ۔ ‘‘ ان کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے تھے ، وہ بولے :’’ پتر !والد ہو یا کوئی سخت دل چچا ماموںیہ حقیقت میں سخت دل نہیں ہوتے ، کبھی ضرورت اور کبھی مصلحتاً ایسا کرنا پڑتا ہے ورنہ ان کے سینے میں بھی دل دھڑکتے ہیں بس بات یہ ہے کہ ہم انہیں سمجھتے بہت دیر بعد ہیں ۔ ‘‘ وہ بات کر کے خاموش ہوئے تو میںنے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر ان کی تائید کردی۔سورج مشرقی افق سے مغربی افق کی طرف لڑھک گیا تھا ، فضا میں خاموشی تھی ، دھوپ کی تمازت بڑھ رہی تھی اور میں نیلے آسمان تلے بیٹھا بار بار اس جملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ’’ ہم والد کو بہت دیر سے سمجھتے ہیں‘‘۔

تبصرے بند ہیں.