میرے کپتان آپ گھبراگئے۔؟

18

ساڑھے تین سال سے عوام روروکردہائیاں دے رہے تھے کہ خداکیلئے ہم اورہمارے بچوں پرتھوڑارحم کرولیکن مجال ہے کہ رحم ،احساس، درد اور فکر نام کی کوئی چیزبھی ان حکمرانوں کے قریب سے گزری ہو۔تباہ کن مہنگائی کے ہاتھوں عوام چیختے، چلاتے، روتے اور بلبلاتے رہے مگر کرایہ دار وزیروں اورمشیروں کیا۔؟نڈر، بے باک اور ایماندار وزیراعظم پربھی عوام کے اس رونے دھونے کا ذرہ بھی کوئی اثرنہیں ہوا۔جب،جہاں اورجس نے بھی غربت،تنگدستی اورتباہ کن مہنگائی کا رونا رویا یا کوئی گلہ اورشکوہ کیاتواسے موقع پرہی یہ کہہ کرکہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اوربڑھتی مہنگائی یہ عالمی مسئلہ ہے نقدجواب دیاگیا۔ کسی نے غلطی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یابرقراررکھنے کابھی اگرمشورہ دیاتواس کی زبان بھی فوراًیہ کہہ کر بندکردی گئی کہ عالمی منڈی میں قیمتیں مہنگی ہیں ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ساڑھے تین سال تک بڑھتی مہنگائی کے باعث عوام روتے،چیختے اورچلاتے رہے اورحکمران تباہ کن مہنگائی،بجلی،گیس  اورپٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافوں کے ذریعے آگے بڑھتے اورغریب عوام پرچڑھ دوڑتے رہے۔ ان ساڑھے تین برس میں اس ملک کے غریب عوام نے ریلیف اوربجلی،گیس،پٹرول واشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کالفظ تک نہیں سنا۔ بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں آئے روزاورمسلسل اضافوں کی وجہ سے عوام کوتویہ بھی یاد نہیں رہاکہ ریلیف اورقیمتوں میں کمی بھی آخرکوئی شئے ہے۔عوام تویہی سوچنے اورسمجھنے لگے تھے کہ ہردوسرے تیسرے روزآٹا،چینی،دال، چاول اورگھی کی قیمتوں میں اضافہ ہی حکمرانوں کاکوئی اصل کام یاکوئی اہم وبنیادی ذمہ داری ہے۔ عوام تواس بات کوبھی سچ اورحقیقت سمجھنے لگے تھے کہ ملک کے اندرتباہ کن مہنگائی اورپٹرول کی بڑھتی قیمتوں میں ہمارے موجودہ حکمرانوں کاکوئی ہاتھ اورپائوں نہیں ۔پٹرول کی قیمتیں بڑھتی بھی عالمی منڈی کے اشاروں پرہے اوران میں کمی کاپروانہ بھی وہیں سے آتاہے لیکن یہ کیا۔؟وزیراعظم صاحب نے کسی کے رونے،دھونے،چیخنے اورچلانے کے بغیرہی ایک دن میں نہ صرف پٹرول کی قیمت میں پورے دس روپے کمی کااعلان کیابلکہ ساتھ بجلی کی قیمت میں بھی پانچ روپے کمی کافرمان جاری کردیا۔ ساڑھے تین سال میں پہلی مرتبہ اس طرح کے تاریخی اقدام اوراعلان پروزیراعظم صاحب ایک نہیں ہزار بار مبارکباداوردادکے مستحق ہیں لیکن سوال بس یہ ہے کہ ساڑھے تین سال سے اس ملک کے غریب عوام کوجس عالمی منڈی کی بتی کے پیچھے لگاکرمہنگائی کی آگ اور طوفان میں جھونکا گیا۔ کیاپٹرول کی قیمت میں یہ دس روپے کمی بھی اسی عالمی منڈی کے مطابق کی گئی۔؟عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں اگرآج بھی ہائی ہیں توپھروزیراعظم صاحب نے اپنے طورپراتنابڑاقدم کیسے اٹھایا۔؟ایسے اقدامات اٹھانااگروزیراعظم کے بس اوراختیار میں ہیں تو پھر سوال یہ پیداہوتاہے کہ محترم وزیراعظم صاحب نے پچھلے تین ساڑھے تین سال میں ایساکوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا۔؟یہ اچانک وزیراعظم کوغریب عوام کاخیال کیسے آیایایہ عوام کے اتنے ہمدرد اور غمخوار کیسے بنے۔؟سیاسی مخالفین اورناقدین کہیں ٹھیک تو نہیں کہہ رہے کہ ’’کپتان صاحب گھبرا گئے ہیں‘‘ میرے کپتان کیا آپ واقعی گھبراگئے ہیں۔؟ کہتے ہیں اللہ تب ہی یادآتاہے جب انسان گھبراجاتاہے۔پھریہ توہمارے حکمرانوں کی تاریخ رہی ہے کہ انہیں چھونپڑیوں میں سڑنے،رلنے اوربھوک سے بلکنے والے عوام اس وقت ہی یادآتے ہیں جب ان کواقتدارہاتھ سے جانے کے اشارے ملتے ہیں یاخوف لاحق ہونے لگتاہے۔کپتان کوجن ایمرجنسی بنیادوں پرغریب عوام کاخیال آنے لگاہے لگتاہے کہ کپتان صرف گھبرائے نہیں بلکہ بہت گھبرائے ہوئے ہیں ورنہ پٹرول اوربجلی کی قیمتوں سے کپتان کا کیا لینا دینا۔؟کپتان کواگرعوام کی کوئی فکرہوتی تووہ تین ساڑھے تین برس سے روزعوام پرمہنگائی کے یہ بم کبھی نہ گراتے۔ کہاجاتاہے کہ ہٹلرایک مرتبہ اپنے ساتھ ایوان میں ایک مرغا لیکر گیا اور سب کے سامنے اس کاایک ایک پنکھ نوچنے لگا۔ مرغا درد سے بلبلاتا رہا مگر ہٹلر نے ایک ایک کر کے اس کے سارے پنکھ نوچ کر مرغے کو زمین پر پھینک دیا۔ مرغے کو زمین پر پھینکنے کے بعد ہٹلرنے جیب سے کچھ دانے نکال کرمرغے کی طرف پھینک دیئے اور دھیرے دھیرے چلنے لگا تو مرغا دانا کھاتا ہوا ہٹلر کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ہٹلر دانا پھینکتا گیا اور مرغا دانا کھاتا ہوا اس کے پیچھے چلتا رہا۔ آخرکار وہ مرغا ہٹلرکے پیروں میں آ کھڑا ہوا۔ ہٹلرنے سپیکرکی طرف دیکھا اور ایک تاریخی جملہ کہا کہ جمہوری ملکوں میں عوام اس مرغے کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کے لیڈرعوام کاپہلے سب کچھ لوٹ کرانہیں اپاہج کردیتے ہیں اورپھرانہیں تھوڑی سی خوراک دے کر ان کے مسیحابن جاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پٹرول اوربجلی کی قیمتوں میں دس اورپانچ روپے کمی کے ایمرجنسی اعلانات سے ہمیں ہٹلرکایہ واقعہ اورتاریخی جملہ یادآنے لگتا ہے۔ یہ واقعہ سچاہے یا جھوٹا۔؟ لیکن اس ملک کی سترسالہ تاریخ اٹھاکر دیکھیں تواندازہ ہی نہیں بلکہ یقین ہوجاتاہے کہ حقیقت یہی فقط یہی ہے۔ستراور74کوچھوڑیں۔ آپ صرف پچھلے چارپانچ سال کاریکارڈدیکھیں توآپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔پٹرول اوربجلی کی قیمتوں میں پانچ ودس روپے کمی کے بل بوتے پر عوام کے مسیحا اور ہمدرد بننے والے اسی وزیراعظم عمران خان کے دورمیں گزرے تین چار سال میں عوام کا وہ کونساپنکھ ہے جسے نوچا نہیں گیا۔؟ بجلی وگیس کے اوورسپیڈ بلوں، پٹرول کی مسلسل بڑھتی قیمتوں اورتباہ کن مہنگائی کے ذریعے پہلے غریبوں کاایک ایک پنکھ کو نوچا گیا جب اقتدار کا سورج غروب ہونے کاخطرہ لاحق ہوا توتب پٹرول اوربجلی کی قیمتوں میں معمولی کمی کرکے عوام کے آگے صرف اس لئے دانہ ڈالا یا پھینکا گیاکہ یہ کل کویہ بات جتلاسکیں کہ انہوں نے بھی غریب عوام کے لئے کچھ کیا۔جوقیمتیں کپتان کی حکمرانی میں پانچ دس نہیں سوفیصدبڑھی ہیں ان پانچ دس روپے کی کمی سے کیا ہو گا۔؟

تبصرے بند ہیں.