بڑی جماعتیں ، چھوٹی سیاست

87

وقت کا پہیہ آگے ہی جاتا ہے ، حالات بہتر ہوں ، جوں کے توں رہیں یا مزید خرابی کی جانب جائیں ۔ جو کردار خود کو ناگزیر سمجھ رہے ہوتے ہیں حالات کی دھول میں گم ہوجاتے ہیں۔  تھوڑے بہت فرق کے ساتھ معاملات آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنا دئیے گئے تھے ۔ ایک طویل عرصے تک یہی تاثر رہا کہ جنرلوں ، ججوں اور جرنلسٹوں ( میڈیا مالکان ) وغیرہ کا احتساب ممکن نہیں ۔ حالانکہ پہلے بھی اور اب بھی آزاد منش ججوں اور سچ لکھنے اور بولنے والوں کو اپنے فرائض سرانجام دینے کی بھاری قیمت چکانا پڑی ۔ ایک اپوزیشن ہی ہوتی تھی جو طاقتوروں کے غصے کا نشانہ بن کر مظلوم سی شکل بنا لیتی تھی ۔ اسٹیبلشمنٹ نے ملک پر اپنی گرفت مزید کرنے کے چکر میں ‘‘ تقسیم کرو اور حکومت کرو ‘‘ کے برطانوی فارمولے پر عمل جاری رکھا تو یہ اندازہ ہی نہ تھا کہ رائے عامہ اس حد منقسم ہوجائے گی پھر اسے یکجا کرنا آسان نہ رہے گا ۔ آج تقسیم کا عمل کہاں سے کہاں تک مار کررہا ہے ۔ اس کی ایک جھلک سینٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر ’’طے شدہ منصوبے ‘‘ کے مطابق سٹیٹ بنک کی خود مختاری کے بل کی منظوری کے  بعد دیکھنے میں آئی ۔ لوگوں کو حکومت سے تو خیر امید تھی ہی نہیں مگر جب اپوزیشن کو سودے بازی یا کسی دبائو کے زیر اثر آئی ایم ایف کے تسلط کی بین الاقوامی سازش میں سہولت کار بنتے دیکھا تو کھل کر اس پر بھی برس پڑے ۔ سینٹ کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کے غیر حاضر رہنے پر پیپلز پارٹی کے ہی مصطفی نواز کھوکھر اور رضا ربانی بھڑک اٹھے ، مسلم لیگ ن کے مشاہد حسین کی عدم موجودگی پر جاوید لطیف نے کھری کھری سنا دیں ۔ اے این پی کا ایک سینٹر عین اس وقت ایوان سے نکل گیا جب گنتی ہونے والی تھی کیونکہ اس کی موجودگی سے بل کی منظوری رکنے کا خطرہ تھا ۔ شدید عوامی ردعمل آیا تو پیپلز پارٹی کی سکہ بند اتحادی اے این پی کو بھی الٹی سیدھی وضاحتیں دینا پڑیں۔ آئی ایم ایف کے حکم پر سٹیٹ بنک بل کا سینٹ سے منظور ہونا طے تھا ۔ اسے قانون بنوانے کا ٹاسک حکومت نہیں بلکہ اسے لانے والوں کے سپرد تھا۔ عام تاثر یہی تھا کہ یہ بل آسانی سے منظورکرالیا جائے گا اور ‘‘ وسیع تر قومی مفاد ‘‘ میں اپوزیشن جماعتیں بھی معاون کا کردار ادا کریں گے ۔ ایسا ہوا بھی اسکے باوجود جگہ جگہ ابھر کر آنے والے شدید ردعمل نے  یوسف رضا گیلانی کو مجبور کردیا کہ وہ فیس سیونگ کیلئے ایک مرتبہ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفا دینے کا اعلان کریں ۔ اگرچہ توقع کے عین مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان کا استعفا منظور نہیں کیا مگر یہ بات نوٹ کی گئی اس روز یوسف رضا گیلانی میڈیا کے سامنے آئے تو اپنی پریشانی چھپانے میں ناکام رہے ۔ اس تمام کارروائی سے یقیناً اپوزیشن کڑی تنقید کی زد میں آ گئی۔ عوام کا غصہ بنیادی طور پر اسی وجہ سے تھا کہ اگر حزب اختلاف نے بھی حکومت کی طرح اشاروں پر ہی ناچنا ہے تو پھر سیاسی جماعتوں میں اچھے برے کی تمیز کیوں روا رکھی جائے ؟۔ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹّے ہیں ۔ یہی ردعمل تبدیل ہوتے ہوئے حالات اور عوام کے شعور میں اضافے کی علامت ہے کہ اب عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنی ہی پارٹیوں کے کارکنوں کو جھوٹ بول کر مطمئن کرنا ممکن نہیں رہ گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ڈی ایم پر وار کرکے آصف علی زرداری پہلے ہی سے اسٹیبلشمنٹ کیلئے ایسی سروس فراہم کر چکے ہیں کہ جو خود وزیر اعظم عمران خان تمام تر کوششوں اور سپورٹ کے باوجود  نہیں کرسکے۔ آصف زرداری کو یقین دلایا گیا تھا کہ کسی تبدیلی کی صورت میں اگلا چانس پیپلز پارٹی کو ملے گا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب پی ڈی ایم نے اپنے لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کیلئے 23 مارچ کی تاریخ طے کرکے باقاعدہ شیڈول جاری کردیا تو پیپلز پارٹی کو روائتی کردار ادا کرنے کا اشارہ ہوا۔ بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی ، اے این پی کے ساتھ مل کر 26 فروری کو اسلام آباد پر یلغار کرے گی ۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے ‘‘اوپر والوں ‘‘ کو یقین
دلایا تھا کہ اس لانگ مارچ میں طاہر القادری کی پارٹی بھی لانگ مارچ میں ساتھ دے گی اور خوب رونق لگے گی۔ نہ جانے یہ اندازہ کیوں لگایا گیا تھا کیونکہ جیسے یہ تجویز طاہر القادری کے سامنے رکھی گئی انہوں نے فوری طور پر معذرت کرلی۔ اس لانگ مارچ کے متعلق منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ شاید پی ڈی ایم بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ آملے پھر کوئی ایسی ‘‘ حرکت ‘‘ کی  جائے کہ پی ڈی ایم والے ہاتھ ملتے رہ جائیں ۔دوسرا اندازہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے احتجاج سے پہلے پیپلز پارٹی کو  اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے احتجاجی تحریک کیلئے استعمال کرکے اس کے بعد ہونے والے اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کی شدت کو کم یا ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ مگر اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب پیپلز پارٹی ٹاسک کے مطابق پورے اطمینان کے ساتھ لانگ مارچ کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی کہ جماعت اسلامی نے سندھ کے نئے بلدیاتی قوانین کے خلاف احتجاج شروع کردیا ۔ پیپلز پارٹی نے بلدیاتی قوانین مکمل طور پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنائے تھے ۔ پارٹی قیادت کو یقین تھا کہ مقتدر حلقے اس کی مخالفت نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کرنے والوں سے نمٹنے میں مدد دیں گے ۔ اس طرح اگلے عام انتخابات تک دیہی سندھ کے ساتھ شہری علاقوں میں بھی کامیابیاں سمیٹی جائیں گی ۔ ان قوانین کے خلاف ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے بھی احتجاج کیا ۔ابھی اندازہ ہی لگایا جارہا تھا کہ معاملہ کہاں تک جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی کی تحریک زور پکڑ گئی۔ جماعت اسلامی کا دعویٰ ہے کہ یہ شہر اس کا ہے۔ دو فوجی آمروں جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف نے اسے ایم کیو ایم کے کنٹرول میں دیا۔ ایم کیو ایم کہتی ہے کہ پچھلے 35 سال میں باربار حکومت کر کے شہر کی مالک وہ بن چکی ۔ پی ٹی آئی کو زعم ہے 2018 کی طرح اگلی بار بھی شہر کی چابیاں اسے پیش کی جائیں گی ۔ پیپلز پارٹی اپنی حالیہ خدمات کا صلہ وفاق کے ساتھ کراچی کی صورت میں بھی مانگ رہی ہے ۔کراچی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی خوش فہمی اس وقت دور ہوگئی جب احتجاج نے زور پکڑا ۔ جماعت اسلامی ڈٹ کر سڑکوں پر رہی ، ایم کیو ایم کی ریلی پر تشدد نے ماحول میں سخت کشیدگی پیدا کردی ۔ عین وقت پر کہ جب شہر کو دھرنوں سے بند کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد ہوتے نظر آیا پیپلز پارٹی نے قانون بدلنے پر آمادگی ظاہر کی اور مذاکرات کرکے بیک فٹ پر جانے کو غنیمت سمجھا ۔ اس جھٹکے کے بعد پیپلز پارٹی کی اب سرتوڑ کوشش ہے کہ کسی طرح پی ڈی ایم کے ساتھ ’’ورکنگ ریلشن شپ ‘‘ کی کوئی راہ نکلے مگر مولانا فضل الرحمن نے بہت محتاط اور سخت رویہ اختیار کر رکھا ہے ۔ایک موقع میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے کہا جب ہماری جانب سے احتجاجی شیڈول کا اعلان ہوچکا تھا تو پھر پیپلز پارٹی کو اس سے پہلے لانگ مارچ کی کال دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ مولانا نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ اس وقت ہم صرف حکومت کے خلاف محاذ کھلا رکھنا چاہتے ہیں اس لئے پیپلز پارٹی کے احتجاجی پروگرام کی مخالفت نہیں کریں گے ۔دوسرے لفظوں میں انہوں نے پیغام دیا کہ پیپلز پارٹی کی یہ حرکت اس قدر ناگوار گزری ہے کہ اگر حالات اجازت دیتے تو وہ زیادہ کھل کر اس کی مخالفت کرتے۔ سینٹ سے بل کی منظوری والے معاملے میں پیپلز پارٹی ہی نہیں مسلم لیگ ن پر تنقید میں بھی اضافہ ہوگیا ۔شہباز شریف کی یکطرفہ مفاہمت والی پالیسی پہلے ہی سے کڑی نکتہ چینی کی زد میں ہے ۔ نواز شریف کے ملک کے باہر بیٹھے رہنے کے ناقدین بھی بڑھتے جارہے ہیں ۔ ایسے میں مریم نواز شریف بھی چپ کا روزہ رکھ لیں تو  بڑی محنت اور بہادری سے اپنے متعلق بننے والے تاثر کو خود نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ یوں کم و بیش پوری اپوزیشن ہی عوام کی نگاہوں میں مشکوک ٹھہر رہی ہے ۔ایسے میں مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت ہی ہے جو کسی حد تک مزاحمت کا موڈ ظاہر کرکے نہ صرف حکومت اور اسکے سرپرستوں کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے بلکہ اپوزیشن پارٹی ہونے کی لاج بھی رکھ رہی ہے ۔مولانا کے ایسے بیانات بھی تھرتھلی مچا رہے ہیں جن میں کہا جارہا ہے 23 مارچ کو اسلام آباد پہنچنے کے بعد اگلا قدم کیا ہوگا اس کا فیصلہ اسی وقت کیا جائے گا ۔ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے مخالف نہیں بلکہ ہمارا مقابلہ عالمی استعمار سے ہے۔ موجودہ حکمرانوں کو اشرف غنی کی طرح بھگائیں گے۔ ایسے میں مقتدر حلقے بھی سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اس صورتحال سے کیسے نمٹا جائے ۔ٹیسٹ کیس کے طور وزیر داخلہ شیخ رشید سے باربار اپیلیں کرائی گئیں کہ پی ڈی ایم لانگ مارچ کی تاریخ ( 23 مارچ ) تبدیل کرے کیونکہ اس روز اسلام آباد میں فوجی پریڈ ہوگی ، غیر ملکی مہمان بھی آئیں گے مگر کورا جواب مل گیا ۔ بعض حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ بھی پیپلز پارٹی کی طرح ہی ہوگا۔ صرف چکر لگا کر لوٹ جائیں گے۔ دوسری طرف یہ سوچ بھی ہے کہ کیا پی ڈی ایم خصوصاً مولانا اس بار بھی اتنی بڑی مشق کرنے کے بعد خالی ہاتھ واپس آنے کے متحمل ہوسکتے ہیں ؟ سو اس مرتبہ بحران کوئی بھی رخ اختیار کرسکتا ہے ۔ اپوزیشن کے نام پر سہولت کاری کرنے والے چند کردار اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ عوام میں برداشت کا مادہ کم ہو رہا ہے ۔ صرف گلی کوچے ہی گواہ نہیں بلکہ اسکا مظاہرہ ٹی وی شوز میں دیکھنے میں آرہا ہے کہ میڈیا کی محدود آزادی کے اس دور میں بھی اعلیٰ عہدوں سے ریٹائر ہونے والے آئی ایس پی آر کے سند یافتہ دفاعی ماہرین کو سیاسی جماعتوں کے بعض نمائندوں کے ہاتھوں سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالات جوں کے توں رہے تو آنے والے دنوں میں ایسا طرز تکلم اور بڑھے گا اور اسکی لپیٹ میں آنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جائے گی ۔ ججوں کے حوالے سے دیکھ لیں ہماری قسمت میں جسٹس منیر سے لے کر جسٹس ارشاد جیسی کیا کیا چیزیں آئیں مگر جو حال جسٹس ثاقب نثار ، جسٹس کھوسہ کا ہوا ، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ۔ انہیں ابھی صرف عوامی نفرت کا سامنا ہے ، ہوسکتا کہ ایسا وقت بھی آجائے جب ایک جب ایسے کردار قانون کے کٹہرے میں بھی لائے جائیں ۔ اس فہرست میں تازہ اضافہ جسٹس گلزار کا ہے۔۔۔ دیکھتے جائیں۔

تبصرے بند ہیں.