سانحہ مری میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہو گئی، امدادی کارروائیاں جاری

172

اسلام آباد: مری میں پیش آنے والے سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 22 ہو گئی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وہاں پھنسی تمام گاڑیوں کو بھی چیک کر لیا گیا ہے، یہ قدرتی آفت ہے اور مری میں شدید برف باری ہوئی ، امید ہے کہ گھنٹے دو گھنٹے میں صورتحال پر قابو پا لیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپنے بیان میں کہا کہ مری میں تمام گاڑیوں کو چیک کر لیا گیا ہے اور یہاں برف باری میں پھنسی گاڑیوں میں 22 افراد جاں بحق ہوئے ۔ یہ قدرتی آفت ہے، مری میں شدید برف باری ہوئی جس پر گاڑیوں کو مری جانے سے روکا تو لوگ پیدل جانے لگے تھے، پھر ان کو بھی روکا گیا، امید ہے کہ گھنٹے دو گھنٹے میں صورتحال پر قابو پا لیں گے۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ مری میں خالق حقیق سے جا ملنے والے اے ایس آئی نوید اقبال اور اہل خانہ کی میتیں ان کی رہائش گاہ پہنچا دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نوید اقبال سمیت آٹھ افراد کی میتیں مری سے اسلام آباد پہنچائی گئیں، نوید اقبال کی بیٹی شفق، دعا، اقراءاور احمد کی میت اسلام آباد پہنچائی گئی جبکہ نوید اقبال کی بہن قرة العین، بھانجی حریہ اور بھتیجے آیان کی میت بھی اسلام آباد پہنچا دی گئی ہے۔
دوسری جانب لوئر ٹوپہ سڑک کوہالہ تک کلیئر کر دی گئی ہے تاہم مری کے متعدد علاقوں میں صبح سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس تعطل کا شکار اور متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی تاحال بحال نہیں ہو سکی ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے لیکن پرانا جی ٹی روڈ پر ٹریفک تاحال سست روی کا شار ہے ۔

 

ترجمان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مری ایکسپریس وے کو بھی مکمل کھول دیا ہے لیکن گلڈنہ، باڑیاں اور ملحقہ سڑکیں تاحال نہ کھل سکیں اور سیاحوں کی گاڑیاں بدستور وہاں موجود ہیں، برف میں دبی گاڑیوں کو مشینری سے نکالنے کا عمل جاری ہے اور متاثرین کو خوراک اور پانی سمیت ضروری اشیاءفراہم کی جا رہی ہیں۔
پاک فوج کے جوان بھی مری میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو کاموں میں حصہ لے رہے ہیں اور پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کو فوج کے مری میں قائم پانچ ریلیف کیمپو ں میں منتقل کیا جائے گا اور شدید برف باری سے متاثرہ لوگوں کو خوراک اور شیلٹر فراہم کیا جائے گا۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ریلیف کیمپس آرمی سکول آف ٹیکنیش باڑیاں، ملٹری کالج مری، اے پی ایس گلڈنہ، سٹیشن سپلائی ڈپوسنی بینک قائم کئے گئے ہیں جہاں سیاحوں کو پہنچانے کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔ مری ڈویژن کے تمام وسائل بشمول انجینئرز اور مشینری متحرک ہیں جبکہ تمام لوگوں کو نکالے جانے تک انجینئرز اور مشینری فیلڈ میں رہے گی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے مری میں پھنسی تمام گاڑیوں کو چیک کر لیا ہے اور ان میں سوار تمام افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ فوجی انجینئرز کے دستے ڈوزر، جھیکا گلی، گلڈنہ اور باریاں رودڈ پر برف ہٹانے میں مصروف ہیں۔

 

دریں اثنا پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی ہدایات پر کالا باغ اور لوئر ٹوپہ بیسز متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کررہے ہیں۔
ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق برف میں پھنسے ہوئے لوگوں کی سہولت کیلئے دونوں بیسز پر کرائسز مینجمنٹ سیل بھی قائم کر دئیے گئے ہیں۔ پی اے بیس کالا باغ کے کرائسز مینجمنٹ سیل سے 03239418252 اور 03218838444 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے جبکہ پی اے بیس لوئرٹوپہ کے کرائسز مینجمنٹ سیل سے 03239417015 اور 051954555 پر مدد طلب کی جا سکتی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ شدید برف باری میں پھنسے سیاحوں کو رہائش، خوراک، گرم کپڑے اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، آپریشنز کے دوران پاک فضائیہ کے اہلکاروں نے متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا، موسمی حالات میں بہتری کو مد نظر رکھتے ہوئے پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے کیلئے ہیلی کاپٹر آپریشن بھی شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مری، گلیات اور آزاد کشمیر میں برفانی طوفان سے راستے بند ہوگئے تھے اور ہزاروں گاڑیاں برفانی طوفان میں پھنس گئی تھیں جس کے باعث 22 افراد جان کی بازی بھی ہار گئے۔ مری، گلیات اور آزاد کشمیر میں شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے، راستے بند ہونے سے سیاح پھنس گئے، ملک بھر سے مری میں برف باری دیکھنے آئے سیاحوں نے رات سڑک پر ہی گزاری۔

تبصرے بند ہیں.