ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔۔۔جنھیں بھُلایا نہ جا سکے گا!

173

یہ غالباً مارچ 1996ء کی بات ہے کہ مجھے فیڈرل بورڈ اسلام آباد کے تحت میٹرک کے امتحان میں کہوٹہ (خان)ریسرچ لیبارٹریز ماڈل کالج (کے۔آر۔ایل ماڈل کالج) میں بطور سنٹر سپرنٹنڈنٹ فرائض سر انجام دینے پڑے۔ اٹھارہ بیس دنوں تک جاری رہنے والے امتحان کے دوران پنڈی سے کہوٹہ جانے اور واپس لانے کے لیے کے آر ایل کی ٹرانسپورٹ مہیا کی گئی۔ پیپر ختم ہوتا تھا تو آفیسرز میس سے ہمارے (میرے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور ایک نگران) کے لیے دوپہر کا کھانا بھی آجاتا تھا۔ ڈرائیور کو بھی ہم کھانے میں شریک کر لیتے تھے۔ کھانا کھانے کے بعد ہم کے آرایل کی طرف سے مہیا کردہ اسی سوزوکی ہائی روف وین پر واپس پنڈی آجاتے۔ گاڑی کے ڈرائیور کی ہم سے اچھی شناسائی ہو گئی اور وہ ہمیں کے آر ایل (کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز)جسے پچھلی صدی کی اسی کی دہائی کے درمیانی برسوں میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریزکی بجائے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام پر خان ریسرچ لیبارٹریز کا نام دیا گیا تھا کے قیام کے کچھ اہم واقعات وغیرہ بھی بتایا کرتا تھا۔ ڈرائیور کے ساتھ خوب گپ شپ رہتی اور سفر پورا ہونے میں دیرنہ لگتی۔ کے آر ایل کا لج بیرونی گیٹ کے اندر رہائشی کالونی کے بالکل شروع میں واقع تھا۔ انتہائی سخت اور کڑی سیکورٹی کا انتظام تھا۔ ہمارے لیے عارضی پاس بنائے گئے تھے پھر بھی بیرونی گیٹ پر سخت چیکنگ ہوتی تھی بعد میں کتنا عرصہ پولیس اور دوسرے خفیہ اداروں کے اہلکار پوچھ گچھ کے لئے آتے جاتے رہے۔ کے آر ایل کالج کے سامنے سڑک سے درختوں سے پرے فاصلے پر ریسرچ لیبارٹریز کا مین گیٹ دکھائی دیتا تھا۔ وہاں اتنی سیکورٹی ہوتی تھی کہ پرندہ بھی پر نہ مار سکے۔
میں کچھ باتوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اصل موضوع ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کے تذکرے سے کچھ دور نکل گیا۔ واپس اصل موضوع کی طرف لوٹتے
ہیں۔ انھی دنوں کے آر ایل ماڈل کالج کے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ مجھے بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس دن بورڈ کا پیپر نہیں تھا لیکن ڈرائیور صبح ہی لینے آ گیا۔ راستے میں ڈرائیور سے روزانہ کی طرح خوب گپ شپ رہی۔ ڈرائیور مجھے بتانے لگا کہ آپ دیکھیں گے کہ تقریب میں تواضع (ریفریشمنٹ)کا کتنا بھاری انتظام ہوگا۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان صاحب بڑے نرم دل اور کسی حد تک بھولے بھالے ہیں۔ کالج والوں نے اس تقریب کے انعقاد کے لئے ڈاکٹر صاحب سے بھاری رقم کی منظوری لے رکھی ہوگی اور وہ تواضع کیلئے کھانے پینے کی اشیاء پر کھل کرخرچ کریں گے۔ وافر اشیاء میں سے بہت کچھ بچ جائے گا۔یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مختلف تقریبات کے لئے متعلقہ لوگ ڈاکٹر صاحب سے بھاری خرچ کی منظوری کی درخواست کرتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب اپنی طبیعت کی فیاضی اور کسی حد تک بھولے پن کی وجہ سے درخواست ہی منظور نہیں کرتے بلکہ وافر فنڈز کی منظور ی بھی دے دیتے ہیں۔ فنڈز یا ان سے خریدی اشیاء اکثر لوگوں کی جیبوں یا ان کے گھروں میں پہنچ جاتی ہیں۔ میرے لئے یہ سب سننا کسی حد تک اچنبھے کی بات تھی لیکن کے آر ایل کالج میں جو کچھ دیکھا ان باتوں کی تصدیق کر رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ انعامات کی تقسیم کے بعد ان کا مختصر خطاب اور آخر میں چائے نوشی وغیرہ۔ وہ جلدہی تقریب سے رُخصت ہوگئے۔ لیکن ہال میں کھانے پینے کی اشیاء بالخصوص روسٹڈ چکن سے بھری ڈشیں دور تک میزوں پر پھیلی ہوئی تھیں اور ڈرائیور صاحب کی اس بات کی تصدیق ہورہی تھی کہ واقعی یہ ماکولات انتظامیہ کے افسران کے گھروں میں کھانے کی میزوں کا حصہ بنیں گی۔
خیر یہ گذشتہ صدی کی نوے کی دہائی کے نصف
آخر کے برسوں (سال 1996ء) کی بات تھی جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ستارہ نصف الہنا پر پہنچنے کے بعد کسی حد تک زوال کی طرف گامزن تھا۔ تاہم وہ پوری پاکستانی قوم کے ہیرو ہی نہیں بلکہ محسن سمجھے جاتے تھے۔ خاص طور پر میری طرح کے ذرا بڑی عمر کے لوگ جو اُدھیڑ عمری سے بڑھاپے کی طرف قدم بڑھا رہے تھے اور جن کے دل و دماغ میں پاکستان کے ازلی اور ابدی دشمن کی طرف سے پاکستان کو چرکے لگانے اور پاکستان کو دو لخت کرنے کا زخم ابھی محو نہیں ہوا تھا وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہوا ہے تو یہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مرہون منت ہے۔ اس طرح اُس وقت تک بلا شبہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت ہم لوگوں کے لیے ایسی تھی جیسے اُردو کے مشہور ادیب اور ناول نگار جناب نسیم حجازی مرحوم، ایک زمانے میں جن کے اسلامی تاریخی ناول سب سے زیادہ پڑھے جاتے تھے کے ناولوں کے ہیرو کی طرح ایک دیو مالائی اور رومانوی کردار کا روپ دھار چکے تھے۔ یقینا پاکستان کا ہر فرد بچے، بوڑھے، جوان، مردعورتیں سب یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان نے ایٹم بم بنا لیا ہے اور یہ کارنامہ خان ریسرچ لیبارٹریز میں سر انجام پایا ہے اور اس کا سہرا محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام بندھتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایٹم بم بنانے کے لیے پاکستان کے لیے سب سے مشکل ترین اور اہم ترین مرحلہ یورینیم کی افزودگی اور اس کے لیے سینٹری فیوج مشینوں کی تیاری کا تھا۔ پاکستان نے بلا شبہ یہ مرحلہ پچھلی صدی کی 80کے دہائی کے ابتدائی برسوں میں حاصل کر لیا تھا۔ اسی بناء پر 1984ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے صدرِ مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کر دیا تھا کہ ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر
لی ہے اور ایٹم بم کے کولڈ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ 1986ء میں مشہور بھارتی صحافی آنجہانی کلدیپ نیئر پاکستان کے دورے پر آئے تو کہا جاتا ہے کہ ایک Pre-plannedپروگرام کے تحت اس دورکے مشہور صحافی اور انگریزی روزنامہ Daily The Muslim کے ایڈیٹر سید مشاہد حسین کے ساتھ اُن کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کروائی گئی۔ باتوں باتوں میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کلدیپ نیئر کے سامنے یہ انکشاف کر دیا کہ پاکستان نے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت ہی حاصل نہیں کر لی ہے بلکہ ایٹم بم بنا بھی چکا ہے۔ کلدیپ نیئر نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اس انکشاف کو Exclusive Storyکے طور پر میڈیا کو جاری کر دیا جسے دنیا بھر کے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں خوب شہرت ملی۔
بات یہی پر ہی ختم نہیں ہوئی، فروری 1987ء میں صدرِ مملکت جنرل ضیاء الحق مرحوم نے بھارت میں جاری پاک بھارت ایک روزہ کرکٹ میچز کی سیریز کے آخری میچ کو دیکھنے کے لیے بھارت جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔یہ وہ وقت تھا جب بھارت نے براس ٹیک فوجی مشقوں کے نام پر اپنی دو لاکھ فوج کو اسلحے اور گولے بارود سمیت پاکستان کی سرحد پر لا کھڑا کر رکھا تھا۔ بھارتی وزیرِ اعظم راجیو گاندھی نے صدرجنرل محمد ضیاء الحق کی پاک بھارت ون ڈے کرکٹ سیریز کے جے پور میں منعقدہ ایک روزہ میچ کو دیکھنے کی خواہش کو رعونت بھرے انداز میں پذیرائی بخشی لیکن راجیو کی ساری رعونت اور اکڑ ختم ہو گئی جب جنرل ضیاء الحق نے واپسی پر اپنے طیارے میں سوار ہونے سے قبل راجیو کے کان میں کچھ کہا۔ مختلف راوی بیان کرتے ہیں کہ راجیو سے جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ گولہ بارود آپ نے فوج کو جاری کر دیا ہے۔ میں ایک سپاہی ہوں اور جانتا ہوں کہ
گولہ بارود حملہ کرنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں ہم الجھے ہوئے ہیں۔ جارحیت کا اگر آپ نے ارتکاب کیا تو دہلی، ممبئی اور کلکتہ جیسے شہروں کے نام تاریخ میں ہی باقی رہ جائیں گے۔ راجیو کے ماتھے پر پسینہ جھلک رہا تھا اور اگلے دن سے سرحد پر لگائی بھارتی افواج کی واپسی شروع ہو چکی تھی۔ یقینا یہ پاکستان کی طرف سے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت کا اعجاز تھا جو پاکستان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی لگن، محنت، مہارت، حب الوطنی اور اپنے مشن کو ہر صورت میں پورا کرنے کی بناء پر حاصل کیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیا تھے؟ کیا نہیں تھے؟ پاکستان کے لیے ایٹم بم کی تیاری میں ان کا کتنا کردار رہا ہے؟ اس حوالے سے دو رائے ہو سکتی ہیں لیکن کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا قیام اور وہاں ایٹم بم بنانے کی تیاری کے لیے مختلف مراحل کا طے کرنا جن میں سینٹری فیوج مشیونوں کے ذریعے یورینیم کی افزودگی کا اہم ترین اور مشکل مرحلہ شامل تھا۔ یقینا اس میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن یا پاکستان کے کسی اور سائینسی ادارے کا یا ان اداروں سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کا کچھ بھی کردار نہیں تھا۔ یہ تمام مراحل صرف اور صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کے ذریعے سر انجام پائے۔ کالم میں اتنی گنجائش نہیں ورنہ میں تفصیل سے لکھتا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پچھلی صدی کے 90کے عشرے کے نصفِ آخر کے برسوں سے مقتدر حلقوں کی طرف سے سردمہری اور بے رخی کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ ایسا کیوں ہوا اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی البتہ اتنا ضرور ہے کہ اس دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے مقابلے میں سائنسی اور ایٹمی تحقیق اور میزائل سازی کے ایک اور ادارے نیسکام اور اس سے وابستہ سائنسدانوں جس میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا نام سب سے نمایاں تھا کو زبردست پذیرائی ملی۔ چنانچہ میاں محمد نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں بتدریج ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے سردمہری کا رویہ ہی نہ روا رکھا گیا بلکہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ان کے ادارے سے وابستہ سائنسدانوں کو آگے لایا گیا۔ 28مئی 1998ء کو چاغی کی پہاڑیوں میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو اس کا کریڈٹ بڑی حد تک ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو اور ان کے ادارے کو دینے کی کوشش کی گئی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دانستہ نظر انداز کیے جانے کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے سے کچھ اس طرح کی باتیں بھی دبے دبے لفظوں میں آنا شروع ہوئیں کہ وہ شائد ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث ہیں اور لیبیا اور ایران جیسے ممالک کو سینٹی فیوج مشینوں کی تیاری میں مدد دیتے رہے ہیں۔جنرل مشرف کے دور میں اگرچہ شروع شروع میں انھیں صدر کے سائنسی امور کے مشیر کا درجہ حاصل رہا لیکن 2003ء کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں تحقیق و تفتیش کے معاملات شروع ہو گئے یہاں تک کہ فروری 2004ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھتے ہوئے دیکھا اور سنا گیا جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ میں قوم سے معافی چاہتا ہوں کہ میں نے قوم کے اعتماد اور محبت کو ٹھیس پہنچائی ہے اور میں ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث رہا ہوں۔
بعد میں کہا گیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو زبردستی یہ بیان دینے پر مجبور کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیرخان بھی بعد میں یہ کہنے لگے کہ ان سے یہ بیان زبردستی لیا گیا یا انھوں نے یہ اعترافی بیان چوہدری شجاعت حسین کی ایما پر دیا۔ بات کچھ بھی ہو یہ حقیقت ہے اور اسے رد نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث تھے یا نہیں تھے بلاشبہ وہ پاکستانی قوم کے محسن تھے، پاکستانی قوم نے انھیں محسن پاکستان کا لقب دے رکھا تھا اور وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اس کا مظاہرہ ان کی وفات پر اسلام آباد میں ان کے جنازے کے موقعے پر دیکھنے میں آیا۔ قوم یقینا انھیں کبھی بھلا نہیں سکے گی۔

تبصرے بند ہیں.