دل کی گواہی!

74

یہ اکتوبر کی میٹھی اور حسین شام تھی، سورج کی نرم و گداز کرنیں خوشگوار تاثر کے ساتھ ہمارے جسم میں جذب ہو رہی تھیں۔ سورج سرخ اور زرد لباس میں ملبوس خراماں خراماں مغرب کی طرف بڑھ رہا تھا، دور آسمان پرچاند اور تارے پہلی رات کی دلہن کی طرح نمائش حسن کے لیے بے تاب تھے اور پرندوں کے غول بچوں کی خوراک کا سامان اوردن بھر کی تھکاوٹ کا احساس لیے گھونسلوں کی جانب رواں دواں تھے۔میں اور ڈاکٹر صاحب یونیورسٹی کے جاگنگ ٹریک پر واک کر تے کرتے ایک بینچ پر بیٹھ گئے، ڈاکٹر صاحب کو اللہ نے مطالعہ اور مشاہدہ کی قوت سے بھرپور نوازا ہے، وہ چھوٹی چھوٹی چیزو ں، واقعات اور لمحات سے بڑے بڑے نتائج اخذ کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے علم کے ساتھ جب تک مشاہدہ شامل نہ ہو انسانی علم ادھورا رہتا ہے، مشاہدہ کی قوت اللہ کی خاص توفیق اور عنایت سے حاصل ہوتی ہے اورجہاں مطالعہ اور مشاہدہ دونوں مل جائیں وہاں علم اور بزرگی درجہ کمال کو پہنچ جاتے ہیں۔ہم اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ ہمارے بچے کند ذہن ہیں تو یہ ذہانت وہانت کچھ نہیں ہوتی، اصل چیز مطالعہ او ر مشاہدہ ہوتا ہے اور یہ دونوں مل کر انسانی ذہانت کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس صلاحیت کی شروعات مطالعہ سے ہوتی ہیں اور مطالعہ آپ کو مشاہدے پر مجبور کرتا ہے، اگر آپ اور آپ کا بچہ صاحب مطالعہ ہیں تو آپ اپنے ماحول اور ارد گرد سے باخبر رہتے ہیں، چیزوں کو گہرائی میں جا کر دیکھتے اور ان کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اپنے ملنے والوں کے رویوں کو آبزرو کرتے ہیں، کہیں جاتے ہیں تو لوگوں کی حرکات و سکنات کو نوٹ کرتے ہیں اسی بنیاد پر لوگوں، ماحول اور سماج کے بارے رائے قائم کرتے ہیں، یہی ذہانت ہے اور جو لوگ مطالعہ و مشاہدہ کی اس صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں ان میں ذہانت کی یہ علامات بھی نا پید ہوتی۔ ڈاکٹر صاحب سائنس کے آدمی ہیں اورمیں جب بھی ان سے ملتا ہوں تو کسی سائنسی موضوع پر سوال ان کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ میں نے محسوس کیا ڈاکٹر صاحب واک کے اثرات سے نکل چکے تھے اور ان کی سانس معمول پر آ چکی ہے، انہوں نے بوتل سے پانی کا گھونٹ بھرا اور میری طرف متوجہ ہوئے گویا سوال کے منتظر ہوں، میں نے بوتل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا ”سر کیوں نہ آج پانی پر بات کر لیں،مجھے بتائیے اگر زمین پر پانی نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔“ڈاکٹر صاحب نے سوال سنا، پشت کو بینچ کے ساتھ دراز کیا، پہلو کے بل کروٹ لے کر چہرہ میری طرف متوجہ کیا او رگویا ہو ئے :”اگر زمین پر پانی نہ ہوتا تو زمین پر زندگی ہی وجود میں نہ آتی اور اگر آج بھی کسی وجہ سے زمین سے پانی ختم ہو جائے تو نہ صرف انسانی زندگی بلکہ حیوانات و نباتات سب کے سب مر جائیں، ہر وہ چیز جسے آپ زندہ کہتے ہیں وہ پانی کے بغیر مردہ ہے اور پانی زندگی کا دوسرا نام ہے۔“ میرے چہرے پر حیرت کے تاثرات نے جنم لینا شروع کر دیا تھا، وہ گویا ہوئے
:”لیکن اس زمین سے پانی ختم نہیں ہو سکتا،پانی کا ایک چھوٹا واٹر سائیکل ہے، سورج سمندر پر آگ برساتا ہے، سمندر کا پانی بخارات بن کر اڑتا اور آسمان پر جاتا ہے، وہاں بادل بنتے ہیں،ہوا بادلوں کو ادھر ادھر لیے پھرتی ہے اور کہیں جا کر یہ بادل برس جاتے ہیں اور وہی پانی دوبارہ زمین کا حصہ بن جاتا ہے۔ پانی کا ایک بڑا سائیکل بھی ہوتا ہے، اس واٹر سائیکل میں تمام اجسام اپنی اپنی ضرورت کے مطابق پانی جذب کرتے ہیں، جب تک یہ اجسام زندہ رہتے ہیں ان کے جسموں میں پانی کی ایک مخصوص مقدار ہمیشہ موجود رہتی ہے، جب یہ جسم مرجاتے ہیں تو وہ پانی ان کے جسم سے الگ ہو کر دوبارہ زمین کا حصہ بن جاتا ہے، اس طرح پانی کسی صورت میں ضائع نہیں ہوتا اور یہ زمین سے ختم بھی نہیں ہو سکتا۔“ انہوں نے دوبارہ پانی کا گھونٹ بھرا اور گویا ہوئے:”زمین کے کل رقبے کا اکہتر فیصد حصہ پانی پرمشتمل ہے لیکن اس میں سے ستانوے فیصد پانی قابل استعمال نہیں ہوتا،زمین کا صرف تین فیصد پانی قابل استعمال ہے، اس میں سے بھی دو فیصدپانی پہاڑی تودوں میں پایا جاتا ہے جسے
نکالنا اور استعمال کرنا مشکل اور ناممکن ہے، صرف ایک فیصد پانی دریاؤں، جھیلوں اور زیر زمین موجود ہے اور دنیا کی آٹھ ارب آبادی صرف یہی پانی استعمال کر رہی ہے۔ آٹھ ارب انسان روزانہ دس ارب ٹن تازہ پانی استعمال کرتے ہیں اور اس میں سے بھی اسی نوے فیصد پانی زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گندم کی ایک روٹی، سبزی کی ایک پلیٹ اور گوشت کا ایک ٹکڑا ہم تک پہنچنے کے لیے ہزاروں ٹن پانی استعمال کرتا ہے۔“ میں نے حیرت و استعجاب کے ملے جلے اثرات کے ساتھ سوال کیا:”سریہ زمین اتنے بڑے بڑے سمندروں سے گھری ہوئی ہے توان سمندروں کا پانی کیوں قابل استعمال نہیں“ انہوں نے پہلو بدلا، ٹیک ہٹائی اور سیدھے بیٹھ کر گویا ہوئے:”اس کا مختصر اور سادہ جواب یہ ہے کہ سمندر کا پانی نمکین ہوتا ہے، اسے جب تک پراسس سے نہ گزارا جائے یہ قابل استعمال نہیں ہوتا، لیکن اس کا تفصیلی جواب یہ ہے کہ اگر سمندر کا پانی نمکین نہ ہوتا تو اس زمین پر کسی زندگی کا وجود نہ ہوتا، کیونکہ اتنے بڑے میٹھے پانی کے ذخیرے کا محفوظ رہنا ناممکن ہوتا، اس میں تعفن پھیل جاتا، بدبو پیدا ہو جاتی اور اس بد بو سے ساری حیات مر جاتی، نہ کو ئی انسان بچتا نہ پرندہ اور حیوان۔ پھر نمک سمندر کے پانی میں محض موجود نہیں ہوتا بلکہ مسلسل اس میں مکس ہوتا رہتا ہے، سمندر کی سطح پر اٹھنے والی لہریں نمک کو پانی میں مکس کرنے کے لیے ہی بلند ہوتی ہیں کیونکہ اگر یہ لہریں نہ ہوں تو نمک سمندر کی تہہ میں جم جائے اور پانی میٹھا ہو جائے۔ اگر آپ اس کا مشاہدہ کرنا چاہیں تو ایک گلاس پانی میں دو چمچ نمک ڈال کر دیکھ لیجئے، جب تک آپ نمک کو پانی میں مکس نہیں کریں گے وہ گلاس کی تہہ میں بیٹھ جائے گا، یہی حال سمندروں کا ہے، اگر یہ لہریں نہ ہوں تو نمک سمندر کی تہہ میں جم جائے اور نتیجہ وہی میٹھے پانی اور اس میں تعفن اور بد بو کی شکل میں ظاہر ہو۔ اب اس سے اگلی بات سمجھو، یہ جو ایک فیصد پانی ہم استعمال کرتے ہیں جو چشموں، دریاؤں اورزیر زمین ہوتا ہے بالواسطہ یہ بھی سمندروں سے ہی آتا ہے،سورج سمندر پر آگ برساتا ہے، سمندر کا پانی بخارات بن کر اوپر جاتا ہے، وہاں یہ بادل بنتے ہیں، ہوا ان بادلوں کو دائیں بائیں لیے پھرتی ہے، یہ بادل مختلف جگہوں پر برستے ہیں، پانی زمین میں جذب ہوتا ہے اور پھر یہی پانی ہم استعمال کرتے ہیں۔ اگر سمندر سے بخارات نہ اٹھیں، یہ بادل نہ بنیں، یہ برسیں نہ تو زیر زمین پانی کہاں سے آئے۔ اگر یہ زیر زمین پانی نہ ہو تو ہم پھر بھی مر جائیں کیونکہ سمندر کے نمکین پانی کو پینا زمینی حیات کے لیے ناممکن ہے اور کوئی معدہ اسے ہضم نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ سمندر میں سفر کرنے والے پینے کا پانی ساتھ لے کر جاتے ہیں، یہ اپنے چاروں طرف سمندر ہونے کے باجود اس کا پانی پینے سے محروم ہوتے ہیں۔“ڈاکٹر صاحب بولتے جا رہے تھے اور میرا دل اللہ کی بے پناہ نعمتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو چکا تھا،میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ ہم ساری زندگی بھی اللہ کے سامنے سجدے میں پڑے رہیں ہم صرف پانی کی نعمت کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔سورج درختوں کی اوٹ سے ہوتا ہوا مغربی افق میں کہیں کھو گیا تھا، قریب ایک درخت سے پرندوں کی مخصوص آوازیں آنا شروع ہوگئی تھی، میں نے دل کے کانوں سے محسوس کیا گویا سب بیک زبان اپنے پالنہار کا شکر ادا کر رہے تھے۔

تبصرے بند ہیں.