سروسز ہسپتال مسائل کا شکار، مریض رُل گئے، ایم ایس معاملات سنبھالنے میں ناکام

32

لاہور: صوبائی دارالحکومت کا سب سے بڑا ہسپتال مسائل کا شکار ہو گیا جس کے نتیجے میں علاج کے لئے آنے والے مریض رُل گئے لیکن ایم ایس معاملات کو سلجھانے میں ناکام ہو گئے۔

محکمہ صحت پنجاب نے سروسز ہسپتال کو لاوارث چھوڑ دیا صفائی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر لگ گئے اور گٹر کے ڈھکن غائب ہونے کی وجہ سے پانی باہر ابلنے لگا جس کی وجہ سے ڈینگی پھیلانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق علاج کے لئے آنے والے شہریوں کے ساتھ عملے کا بُرا سلوک بھی ایک معمول بن گیا اور مریض زمین پر پڑے وہیل چیئر کے لئے دہائیاں دہتے رہتے ہیں لیکن انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹر احتشام معاملات کو درست کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں کیونکہ ہسپتال میں ادویات نہیں ملتیں اور جگہ، جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں جبکہ پینے کا پانی تک نہیں ملتا اس کے علاوہ واش روم گندے ہیں اور بند پڑے ہیں لیکن اس طرح انتظامیہ کوئی توجہ نہیں دیتی۔

خیال رہے کہ سروسز ہسپتال کی مین لفٹ بھی کئی ماہ سے بند ہے اور لفٹ بند ہونے کی وجہ سے ایک مریض سیڑھیوں سے جاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا تھا۔ اس واقعہ پر سیکرٹری صحت پنجاب نے نوٹس بھی لیا تھا لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود لفٹ ابھی تک ٹھیک نہیں کروائی جا سکی ۔

تبصرے بند ہیں.