تحریک انصاف کی تین سالہ کارکردگی

156

25۔ اگست کو پاکستان تحریک نے اپنی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر جس طرح کی تقریبات کا اہتمام کیا وہ ڈھٹائی  اور ملمع کاری کی عمدہ ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ ویسے ان تین سال کے نامہ اعمال میں سوائے روسیاہی کے شاید ہی کچھ ہو لیکن آپ چشم تصور سے ذرا اس بات کا اندازہ کریں کہ واقعتاً اگر اس حکومت کے ہاتھوں کوئی کارنامہ انجام پایا ہوتا تو ہمارے ملک کی کیا کیفیت ہوتی۔ پاکستانی تاریخ کے بد ترین تین سال کہ جن میں مہنگائی، بے روزگاری اور بد انتظامی اپنی انتہاؤں کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے، کو کس طرح تاریخ سا زبنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں ہے جو موجودہ حکومت نے ڈھنگ سے سرانجام دیا ہو۔ پنجاب جو کہ آبادی کے لحاظ سے آدھا پاکستان ہے وہاں پر حالت یہ ہے کہ کم و بیش ہر تین ماہ بعد ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور ڈی پی اور اور آرپی او تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ پنجاب کے چھتیس اضلاع میں تقریباً کم و بیش ایک ہی صورتحال ہے۔ ڈیرہ غازی خان جو کہ وزیر اعلیٰ کا اپنا علاقہ ہے کا کمشنر ساتویں مرتبہ تبدیل ہوچکا ہے۔ یعنی اوسطاً چھ ماہ سے زائد کسی آفیسر کو ٹکنے نہیں دیا جاتا جس کا نتیجہ امن و امان کی تباہ شدہ صورتحال آپ کے سامنے ہے اور محکمانہ کارکردگی کو اگر آپ جانچنا چاہیں تو مینار پاکستان کے اندوہناک واقعہ سے آپ اس کی سنگینی کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ جہاں پر پنجاب پولیس واقعہ کے چار گھنٹے بعد پہنچی، امن و امان کی ابتر صورتحال اور وزیرا علیٰ پنجاب کی تعریفوں کے پل کے درمیان کوئی ربط نظر نہیں آتالیکن اس کے باوجود اپنے جھوٹ پر اصرار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہم پستی کے کس درجہ پر ہیں۔ بس ہیجان پیدا کیے رکھو تاکہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ ان تین برس میں پوری ایک نسل تیار ہوچکی ہے۔ جن کے ذمہ صرف یہی کام ہے کہ بس ہیجان پیدا کیے رکھو کیونکہ تیسری دنیا کے لوگوں کے لیے اس بہتر کوئی ا ور نسخہ اتنا کارگر نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم وعدوں کے مطابق تین سالہ کارکردگی کاجائزہ لیں تو بہت سارے احباب ناراض ہوں گے۔ اس لیے ہم حکومت میں آنے سے پہلے والے وعدے وعید پر بات نہیں کرتے تاکہ مزاج یار پر گراں نہ گزرے۔ پشاور میٹرو جو کہ 28ارب روپے سے تیار ہونا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے انتہائی جانفشانی اور دن رات کی محنت کے بعد اور انتہائی ایمانداری کے ساتھ 130ارب روپے لگانے کے بعد بھی ابھی تک نامکمل ہے۔
بلین ٹری پراجیکٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اس میں بہت بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی ہے اور موجودہ حکومت کو چاہیے کہ یا تو سپریم کورٹ کو چیلنج کرے وگرنہ فارن فنڈنگ کیس کی طرح ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کے ساتھ بہت بڑے پیمانے پر کھلواڑ کیا گیا ہے۔ رنگ روڈ منصوبہ جو کہ عین اپنے شباب پر اپنی موت آپ مرگیا لیکن اپنے پیچھے سیکڑوں کہانیاں چھوڑ گیا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کو رونا فنڈ کے تین ارب روپے ایک ہی سانس میں ہڑپ کرگئی اور امانت و دیانت دار بھی ٹھہری۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف دو ارب 77کروڑ ڈالر کا قرضہ بینک دولت پاکستان کو جلد منتقل کردے گا یا کردیا گیا ہے اور جس کے نتیجے میں زر مبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ جائیں گے۔ بقول غالب
قرض کی پیتے تھے مئے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں 
رنگ لاوے گی ہمارے فاقہ مستی ایک دن! 
وہ جو کشکول گدائی کو توڑے آئے تھے۔ وہ اس شراب کے اتنے رسیا ہوگئے کہ آج آئی ایم ایف کے اشاروں پر غریبوں کی زندگی کے چراغ گل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آج سے تین سال قبل 12سو روپے کا ایل پی جی، 28سو روپے کا ہوچکا ہے۔ 5سو روپے سیمنٹ کی بوری 7سو روپے کی ہوچکی ہے۔ 35روپے کلو والا آٹا 80روپے کلو ہوچکا ہے۔ 55روپے والی چینی 110روپے کلو ہوچکی ہے۔ ادویات کی قیمتیں 6سو فیصد بڑھ چکی ہیں۔ 65روپے لیٹر والا پٹرول120روپے لیٹر ہوچکا ہے۔ 145روپے کلو والا گھی 330روپے کلو ہوچکا۔ بجلی 8روپے یونٹ سے 22روپے یونٹ ہوچکی۔ 5کلو چاول 4سو روپے سے بڑھ کر 800روپے کا ہوچکا ہے۔ دال 170روپے کلو سے بڑھ کر 280روپے کلو ہوچکی ہے۔ شرح سود مدینہ کی ریاست میں ختم ہونے کے بجائے 13فیصد کردی گئی۔یہ ہے حسن کارکردگی کی ایک ہلکی سی جھلک۔ وہ جو کہتے تھے کہ پٹرول یا ڈالر مہنگا تو سمجھ جاؤ کہ کرپٹ ٹولہ بر سر اقتدار ہے، آج آسمانوں کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی مہنگائی انہی کا منہ چڑارہی ہے۔ اپنے کیے ہوئے ایک ایک وعدے سے پھرنا آج ان کا وتیرہ بن چکا ہے۔ جمہوری پارلیمانی نظام میں حزب اقتدار کے بعد اگر عوام داد رسی کے لیے کسی کی طرف امید بھری نظر وں سے دیکھتی ہے تو وہ حزب اختلاف اور اس سے جڑی جماعتیں ہیں۔ جن میں مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ گزشتہ تین سال میں ان تمام پارٹیوں نے جس بے بصیرتی اور نا اہلی کا ثبوت دیا ہے اس نے ان تمام پارٹیوں اور ان کی قیادت کے تاثر کو بہت ہی برے طریقے سے متاثر کیا ہے، اگر چہ چور دروازے ڈھونڈنا، رات کی تاریکی کا سہارا لینا اور بوٹ پالش کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا ان کے ماتھے کا جھومر ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی تاریخ نہیں ہے بلکہ اب تو بہت سارے رازوں سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ زرداری صاحب کی سیاست اپنے صوبے کی حکومت کے گرد گھومتی رہی اور سودو زیاں سمیت وہ اس کو لے کر آگے بڑھتے رہے اور انہوں نے عالمی اسٹبلشمنٹ سمیت تمام اداروں کو یہ باور کرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے کہ جس تنخواہ پر آپ موجودہ حکومت کو چلارہے ہیں ہم تو اس سے بہت کم درجے پر بھی کام چلانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن تاحال کہیں سے کوئی گرین سگنل نہیں مل سکا۔ البتہ بات چیت جاری رکھنے پر دونوں پارٹیوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارکردگی بحیثیت مجموعی پوری قوم کے سامنے سوالیہ نشان ہے۔ جس طرح پارلیمان کے تقدس کو پامال کیا جاتا رہا وہ اپنی مثال آپ ہے اور ہمارے سیاستدانوں کی بلوغت اور ہمارے سیاسی نظام پرسوالیہ نشان بھی۔ جس طریقے سے اور جو زبان پارلیمان کے اندر استعمال کی جاتی رہی بالخصوص حکومت وقت اور اسکے وزراء کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ وہ تمام حالات ہیں کہ جن میں موجودہ حکومت نے پورے تزک و احتشام کے ساتھ اپنے جھوٹ بولنے کے سفر کو جاری رکھا اور چونکہ اب جھوٹ بولنے میں تین سالہ تجربہ بھی ہے،اسی لیے اب ضمیر بھی ملامت نہیں کرتا کیونکہ ضمیر تو کب کا ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کو گروی رکھا جاچکا ہے۔ البتہ ایک بات جس کی داد دیے بغیر نہیں رہا جاسکتا، وہ مسلسل جھوٹ بولنا، تواتر کے ساتھ روزانہ ٹاک شوز میں بیٹھ کر اپنے لیڈر کے گناہوں کا ملبہ اپنے سر لینا ہمارے سیاسی ورکرز کا وتیرہ بن چکا ہے۔ چاہے وہ شاہد خاقان عباسی ہو یا اسد عمر، چاہے وہ شاہ محمود قریشی ہو یا میاں جاوید لطیف یعنی جتنا تم اپنے لیڈر کو بڑا ثابت کروگے تو تم اتنے ہی وفادار ثابت ہوگے اور اس وفاداری کا صلہ وقت آنے پر دیا جائے گا۔، رائیگاں نہیں جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.