کشمیر الیکشن

68

کشمیر میں انتخابی نتائج کو اپوزیشن نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ 25 جولائی کا الیکشن 2018ء کے انتخابات کا ٹریلر ہے، پری پول دھاندلی کی گئی، انتخابات میں منی لانڈرنگ کا پیسہ استعمال ہوا، اخلاقی اور جمہوری اقدار کو تباہ کیا گیا، ان انتخابات کے ذریعے عالمی ایجنڈے کی تکمیل کی جا رہی ہے، پاکستان، آزاد کشمیر اور بیرونِ ملک تحریک چلائیں گے۔ دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جہاں ہارتی ہے دھاندلی کا شور مچا دیتی ہے، مسئلے کا واحد حل ٹیکنالوجی کی طرف بڑھتے ہیں، اگر اپوزیشن سمجھتی ہے کہ انتخابی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تو انتخابی اصلاحات پر بات کرے۔ آزاد کشمیر انتخابات کے بعد حذبِ اختلاف اور حکومت میں لفظی گولہ باری شروع ہے اور یہ وہی صورتحال ہے جو تقریباً پاکستان میں منعقد ہونے والے تمام انتخابات کے بعد ملک میں پیدا ہو جاتی ہے۔ اب یہ سوال بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ انتخابی نتائج کے حوالے سے سیاسی کشیدگی جس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہے یہ کسی ضابطہ اخلاق کے تحت معمول پر آ سکے گی کہ نہیں۔
اس خراب صورتحال سے نکلا جا سکتا ہے۔ خرابی سے تعمیر اور ترقی کا سفر طے کر سکتے ہیں۔ چین، ترکی اور ویت نام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ لیکن ان تمام ممالک میں ترقی کی حیرت انگیز مثال بننے کے لئے ایک عنصر یکساں نوعیت کا ہے، وہ ہے بے لوث سیاسی قیادت۔ چین چالیس برس پہلے کیا تھا۔ مگر ایک لیڈر ڈنگ زیاو پنگ نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے قبلہ کو تبدیل کر دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ چین کو نجی تجارت اور کاروبار کے لئے پوری دنیا کے لئے کھول دیا جائے گا۔صرف تیس سال میں چین نے فقید المثال ترقی کی ہے۔ یہ ایک سیاست دان کا فیصلہ تھا۔آپ پاکستان کی گزشتہ 5 دہائیوں پر تنقیدی نظر دوڑائیے آپ کوایک چیز کا احساس بڑی شدت سے ہو گا۔ ہماری سیاسی قیادت کا تقریباً عدم وجود رہا ہے۔ اس کی وجوہات بھی سیکڑوں ہیں۔ سیاسی نظام کو پنپنے کے مواقع بھی بہت کم دئیے گئے، مگر یہ صرف ایک وجہ ہے۔ قیادت کس چھلنی سے نکل کر سامنے آ سکتی ہے وہ
ہے صرف ایک مستند اور شفاف الیکشن، بد قسمتی سے ہم آج تک کوئی ایسا قومی ادارہ تشکیل نہیں دے سکے جو مکمل غیر جانداری سے انتخابات کرانے کی استطاعت رکھتا ہو۔ ہماری کسی بھی ملکی قیادت نے جاندار الیکشن کمیشن بننے ہی نہیں دیا۔ اس کی وجہ بالکل سادہ سی ہے۔ ہر حکومت نے اس ادارہ کو استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اکثر اوقات اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لئے۔یہ وہ بنیاد ہے جس نے ہمارے سیاسی نظام کو ایک انتہائی کمزور اور جھکے ہوئے درخت میں تبدیل کر دیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے ہم ایک بحران سے دوسرے بحران کی طرف سفر کرتے رہتے ہیں۔
کسی کو موردِ الزام ٹھہرانے سے قبل حقیقت پسندی سے کام لیجئے۔ آپ ہمسایہ ملک کی ترقی اور سیاسی پختگی کی جانب نظر دوڑائیے آپ کو صاف نظر آئے گا کہ سیاسی حکومتوں نے تمام خرابیوں کے باوجوداپنے الیکشن کرانے والے ادارے کو اپنے انگوٹھے کے نیچے رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ تمام تر کرپشن اور مسائل کے باوجود آج ہمارا ہمسایہ ملک اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ وہاں الیکشن متنازع بنانا نا ممکن ہے۔ آپ جو مرضی کر لیں ہندوستان کا الیکشن کمیشن اتنا مضبوط اور طاقتور ہے کہ ہر سیاسی پارٹی اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہے۔ لیکن ہماری عمومی حکمتِ عملی میں اداروں کی مضبوطی اور بالادستی کے مقابلے میں فرد کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے جب کہ ادارے مضبوط، شفاف اور جوابدہ ہوں گے تو فرد بھی ان کے تابع رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ 2008ء، 2013ء اور 2018ء کے انتخابات میں جو بھی بے ضابطگیاں ہوئیں چاہے وہ ادارہ جاتی سطح پر ہوئیں یا انفرادی سطح پر الیکشن کمیشن اپنے ہی بنائے ہوئے اصول و ضوابط سمیت کوڈ آف کنڈکٹ پر کچھ نہیں کر سکا جو اس کی انتظامی اور قانونی ذمہ داری کے زمرے میں آتا تھا۔ پڑوسی ملک بھارت میں جونہی انتخابات کا اعلان ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن ملک میں سپریم ڈی فیکٹو گورنمنٹ بن کر بیورو کریسی پر مکمل کنٹرول سنبھال کر سیاسی حکومت کی طاقت محدود کر دیتا ہے۔ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن انتہائی با اختیار ادارہ بن جاتا ہے اور تمام تر اختیارات کا آزادانہ استعمال کر سکتا ہے اور پوری سرکاری مشینری چیف الیکشن کمشنر کے ماتحت ہو جاتی ہے اور پولنگ کے دوران جو لوگ بھی بد عنوانی کے الزامات میں ملوث ہو کر عدلیہ کے سامنے لائے جاتے ہیں ان کو بھی الیکشن کمیشن کے پاس بھجوا کر ان کی رائے لی جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی رائے بھجواتا ہے اور وہ نا اہلی بھی ہو سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی رائے کو ہر فورم پر حتمی سمجھا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں عام انتخابات میں سیاسی جماعتیں شریک ہوتی ہیں اور سیاست دان جماعتی یا غیر جماعتی بنیاد پر انتخابات لڑتے ہیں اور الیکشن جیتنے کے لئے تمام تر حربے استعمال کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے امیدوار دھاندلیاں کراتے ہیں اور جس کا جہاں زور چلتا ہے وہ انتخابی ضابطہئ اخلاق کی دھجیاں بکھیرتا ہے۔ انتخابات سے قبل پولنگ سٹاف اپنی مرضی کا مقرر کرایا جاتاہے۔ پولنگ اسٹیشن اپنی پسندیدہ جگہوں پر منظور کرائے جاتے ہیں۔ عام انتخابات خواہ عدلیہ کی نگرانی میں ہوں یا انتظامیہ کی ہر انتخاب میں سرکاری ملازمین ہی پولنگ سٹاف بنائے جاتے ہیں۔ سکولوں کے اساتذہ یا دیگر اداروں کے ملازمین سب پارٹی بنے ہوتے ہیں اور یہ سب سیاست دانوں کے ایما پر پولنگ ایجنٹوں اور عملے کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ ان حالات میں منصفانہ انتخابات کا خواب تو کوئی احمق ہی دیکھ سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن بھی سیاست دانوں کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہا اور اس کے کندھے سیاست دان استعمال کرتے رہے۔ سیاست دان خرابیاں پیدا کرتے رہے اور بوجھ الیکشن کمیشن کے کاندھوں پر بڑھتا رہا۔ سیاست دانوں نے ٹی وی پروگراموں میں میرٹ، میرٹ کی بہت باتیں اختیار کر رکھی ہیں جس سے لگتا ہے کہ یہ میرٹ کے لوگ ہیں لیکن کیا ان کے تمام کام درست ہیں؟۔
ان مسائل و مشکلات کا حل ہمارے قوانین میں موجود ہے، مگی کمی ہے تو اس جرأت کی جو ان قوانین کو ہر خاص و عام پر لاگو کر دے۔ ہمارے پاس ایسا کوئی شخص نہیں جو پارٹی سربراہوں اور مقتدر حلقوں کو بتا سکے کہ وہ غلط فیصلے کر رہے ہیں۔ ان کے فیصلوں کی بدولت جمہوریت کمزور سے کمزور تر ہو رہی ہے۔ یہ طبقے الیکشن کمیشن کو بھی اتنا مضبوط نہیں بننے دیتے کہ وہ بے لاگ فیصلے کر سکے اس کا نتیجہ بڑا واضح ہے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کے پودے کو خود سیاست دان تناور درخت بننے سے روک دیتے ہیں۔ یہ ایک کمزور سا پودا بن چکا ہے جو چھوٹے چھوٹے طوفان کا مقابلہ بھی کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر الیکشن میں دھاندلی کا شور مچ جاتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.