اور اب ایٹم بم

165

عمران خان نہ تو ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور نواز شریف جیسے ”غدار“ وزیر اعظم ہیں نہ ہی سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کی طرح کسی سیاسی خاندان کے ”کاسہ لیس“۔ کپتان صاحب کا موازنہ محمد خان جونیجو اور ظفر علی جمالی سے بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جونیجو نے اختیارات کواستعمال کر کے اپنے باس جنرل ضیاالحق کو زچ کیا۔ جمالی کچھ نہ کرنے کے باوجود جنرل مشرف کے لیے ناپسندیدہ ٹھہرے۔ شوکت عزیز کے ساتھ تقابل بالکل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ مہمان اداکار ہونے کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بل پر وزیر خزانہ سے سیدھے وزیر اعظم بنے تھے۔ عمران خان خالصتاََ ایک پیج کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کی ہر بات کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیتے ہیں کہ کپتان نے اپنی جانب سے کیا کہا اور پوری ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا بات کی۔ مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ جرمنی جاپان کی سرحدیں ملتی یا پھر یہ فرمان کہ درخت رات کو آکسیجن دیتے ہیں تو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ ان کے اپنے مشاہدے یا مطالعے کی کمزوری ہے۔ دوسری جانب جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو نہیں چھوڑوں گا یا پھر یہ کہ بھارت میں مودی کی حکومت آئے گی تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا سمجھ آ جاتی ہے کہ یہ ایک پیج کی ریاستی پالیسی ہے۔ بعض اوقات کوئی ملی جلی بات منہ سے نکل جائے تو کوئی نہ کوئی اہلکار وضاحتی بیان جاری کرکے تصحیح کر دیتا ہے۔ جیسے وزیر اعظم نے ایک موقع پر اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیا تو وزیر اطلاعات نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب کی زبان پھسل گئی تھی۔ چند روز قبل ایک غیرملکی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے واضح الفاظ میں کہا کہ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ ایک ایسا غیر متوقع بیان ہے کہ جس پر معاملات کا ادراک رکھنے والے افراد بھی چکرا گئے۔ بہت سوں کا خیال تھا کہ کوئی وفاقی وزیر یا دفتر خارجہ کا ترجمان کہے گا کہ وزیر اعظم کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے۔ کئی ایک کو یقین تھا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے واضح کیا جائے گا کہ ریاستی پالیسی مختلف ہے۔ کمال حیرت ہے کہ ان سطور کے تحریر کیے جانے تک سب نے چپ سادھ رکھی ہے۔ اس حوالے سے واحد پیش رفت وزیر اعظم کا انٹرویو چلنے کے ایک دن بعد پی ٹی آئی کے ایم این اے علی نواز اعوان کی ایک ٹاک شو میں گفتگو ہے جسے ایک قومی اخبار نے صفحہ اوّل پر شائع بھی کیا۔ موصوف نے وزیر اعظم کے موقف کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی مسئلہ کشمیر حل ہو ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے پر کام شروع کر دینا چاہئے۔سوال تو یہ بھی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل آخر ہے کیا؟ کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومتی بندوبست اور پالیسیاں جنرل مشرف دور کا پھر سے آغاز ہیں۔ نائن الیون کے بعد سارا ملک نیٹو فورسز کے لیے کھول دینے کے بعد جنرل مشرف بڑے فخر سے بتایا کرتے تھے کہ ایسا کرکے انہوں نے نہ صرف ایٹمی اثاثے بچا لیے بلکہ کشمیر کاز کو بھی محفوظ کرلیا۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ دو ایٹمی طاقتوں کی مسلح افواج کی آمنے سامنے موجودگی کے دوران ہی بھارت نے ایل او سی پر آہنی باڑ نصب کرکے حد بندی کردی۔ ملکی حلقے تو اس اقدام پر ششدر رہ گئے مگر بین الاقوامی طور پر اسے 1947 سے جاری دیر ینہ مسئلے کے حل کی جانب اہم پیش رفت کے طور پر لیا گیا۔ جنرل مشرف تو اقتدار سے رخصت ہوگئے مگر ان کے دور میں لگائی گئی آہنی باڑ کو ہی حد قرار دے کر بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر نگل لیا۔ اس واقعے کے فوری بعد یہ الزامات لگنے شروع ہوگئے کہ یہ سب ملی بھگت سے ہوا ہے۔ جنرل مشرف دور کے ایک وزیر خارجہ پورے اعتماد سے بتاتے ہیں کہ یہ ایشو اب ختم ہوچکا۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق نے دو روز قبل ہی دعویٰ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا یہ“ حل“ عمران اور مودی  کی حکومتوں نے مل کر رضامندی سے نکالا۔ اب اگلے مرحلے پر کام جاری ہے۔ وہاں آبادی کا تناسب اور جغرافیائی تبدیلیاں کرکے مسئلہ کشمیر  کا نام و نشان تک مٹانے کے لیے کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ ہماری حکومت بھارت کے اس غاصبانہ اقدام کے بعد بظاہر نجانے کس کیفیت میں دعوے کرتی آرہی تھی کہ ہم نے عالمی سطح پر ردعمل دے کر کشمیر کاز کو بھرپور  طریقے سے زندہ کردیا ہے۔ وزیر اعظم
عمران خان نے اپنے ہی تازہ ترین انٹرویو میں اعتراف کرلیا کہ مغرب سمیت کوئی بات نہیں سن رہا اور یہ کہ عالمی برادری دوغلے پن کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ایسے میں یہ کہہ دینا کہ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں رہے گی، حیرت انگیز ہے۔ کیا انہیں کسی نے یقین دلایا ہے کہ کہ مسئلہ کشمیر کا حل اور ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ باہمی طور پر مشروط ہیں۔اگر ایسا ہے تو اس حوالے سے فرض کریں ایسا ہے بھی تو گارنٹی کون دے گا۔ اگر کسی نے کہہ دیا کہ یہ مسئلہ باقی ہی نہیں رہا تو پھر کیا ہوگا۔سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کیا بھارت بھی اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کردے گا۔ سادہ سا جواب ہے ہرگز نہیں۔ پہلی بات تو یہ کسی بھی بھارتی لیڈر نے آج تک یہ نہیں کہا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے باعث خود کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ  بھارت اور چین نہ صرف حریف ہیں بلکہ دونوں کے درمیان 1962 میں باقاعدہ جنگ اور کئی سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ جس طرح سے چین ایک بڑی معاشی طاقت ہے اسی طرح سے بھارت کے حوالے سے بھی بڑی معیشت بننے کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں۔ سو جس طرح سے چین خود کو فوجی لحاظ سے مضبوط بنائے گا، بھارت بھی یہی کوشش کرے گا کہ اسکا دفاع بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو۔ سو یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ بھارت ہتھیاروں میں کمی کرے گا یا دفاعی اخراجات گھٹائے گا۔خطے میں کیا بھارت ہی ہمارا واحد حریف ہے۔ جس طرح کے حالات چل رہے ہیں دوست کے دشمن بننے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ گو ایران کے ساتھ ہماری جنگ ہونے کا کوئی امکان نہیں مگر یہ بات کیسے نظر انداز کی جاسکتی ہے کہ ایران پر عالمی پابندیاں اس کے ایٹمی پروگرام ہی کی وجہ سے عائد ہیں۔ آنے والے وقت میں حالات تبدیل ہوگئے اور ایران بھی ایٹمی کلب میں شامل ہوگیا تو کیا ہوگا۔ ہمارے سرکاری حکام طویل عرصے سے نام لیے بغیر ایران پر مداخلت کرنے کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ابھی وقت ہی کتنا گزرا ہے کہ جب آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پاکستان کے دورے پر آئے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کرکے اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔ اسی طرح اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ افغانستان میں پاکستان دوست حکومت قائم ہوگی۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ اگر طالبان آگئے تب بھی ہمارے تعلقات اس حد تک برادرانہ ہونگے کہ مغربی سرحد وں کی کوئی فکر لاحق نہیں رہے گی۔ یہ تو ہے خطے کی صورتحال مگر اس سے باہر بھی ہمارے دشمن موجود ہیں۔ ویسے بھی جب کوئی ملک فوجی لحاظ سے جس مقام پر پہنچ جائے اس سے آگے تو جاسکتا ہے، پیچھے آنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ اب رہ گیا امریکہ کو کسی صورت اڈے نہ دینے کا اعلان تو جان لیں سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم عمران خان میں ایک بات مشترک ہے۔ آصف زرداری نے بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔ جبکہ عمران خان بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ جو یو ٹرن نہ لے وہ لیڈر ہی نہیں ہوتا۔۔وکی لیکس کے مطابق پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ریاست کی جانب سے امریکی حکام کو کہا گیا تھا آپ جتنے چاہے ڈرون حملے کریں، ہم ہر بار مذمتی بیان جاری کرکے اپنی دکان چمکا لیا کریں گے۔ جنرل مشرف کا دور تو اس حوالے سے تاریخ کا انمٹ باب بن چکا جب امریکہ کو اڈے دینے کے بعد بھی اعلیٰ ترین عسکری حکام کو بے خبر رکھا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے اپنی کتاب“ یہ خاموشی کہاں تک“ میں حقائق کھول کر بیان کیے ہیں۔ ویسے امریکہ کو اڈے دینے کا سلسلہ قیام پاکستان کے 13 سال بعد ہی  شروع ہوگیا تھا۔یکم مئی 1960 کو سویت وزیر اعظم خروشیف نے اعلان کیا کہ امریکہ کا ایک یو ٹو جاسوس طیارہ گرا کر پائلٹ  کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔یہ طیارہ  اہم تنصیبات کی تصویریں اْتار رہا تھا۔ اس جاسوس طیارے نے پشاور کے نزدیک بڈبیر کے فضائی اڈے سے اڑان بھری تھی۔یہ بین الاقوامی واقعہ عالمی تاریخ کے ساتھ ساتھ پاکستانی تاریخ کے تعلق سے بھی اس لیے بڑا اہم تھا کہ اس سے دنیا بھر کو معلوم ہو گیا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے جہاں سے روسی تنصیبات پر نظر رکھی جاتی ہے۔ بڈبیر کا فضائی اڈا 1959 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے خاموشی سے دس سال کے لیے امریکہ کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔ گویا“ پیار کا یہ سلسلہ بہت پرانا ہے“۔آج کے حالات میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ امریکہ اس حوالے سے کیا کہتا ہے۔ چند ہفتے قبل امریکی نائب وزیر خارجہ نے سینٹ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کا رویہ مثبت ہے۔ عمومی تصور اور ٹریک ریکارڈ یہی بتاتا ہے امریکی سینٹ کی کمیٹی میں یو ٹرن لینے یا غلط بیانی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ ہمارے دفتر خارجہ نے تردید تو اسرائیلی اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر کی بھی کی ہے کہ زلفی بخاری نے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا ہے۔ اب تو یہ بات کسی کے لیے راز نہیں کہ جنرل مشرف کے دور میں اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی کوششیں زیادہ گرمجوشی سے شروع ہوئی تھیں۔ اس وقت کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے ترکی جاکر اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کی تھی۔ اب بھی کئی حکومتی شخصیات ایسا ہی چاہتی ہیں۔ متحدہ عرب امارت کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے اور بحرین سمیت بعض عرب ممالک کے نرم گوشے نے ماحول بھی بڑی حد تک موافق کردیا ہے۔ دیکھنا پھر بھی یہی ہے کہ اگر ہم اسرائیل سے تعلقات قائم کر لیتے ہیں تو ہمیں کیا فائدہ ہوگا۔ خالصتاََایک پیج کی تین سالہ جدوجہد اور کئی عالمی مطالبات ماننے کے باوجود آج عالم یہ ہے کہ ہم ایف اے ٹی ایف سے نہیں نکل پا رہے۔ اب تو تاریخیں بھی بہت لمبی ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ خارجہ پالیسی کی گراوٹ  کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط اور تجاویز پر عملدرآمد کیلئے پاکستان نے 24 سے زائد ممالک کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام، منی لانڈرنگ اور سائبر ٹیرر ازم کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے باہمی سطح پر قانونی معاونت کی فراہمی کی درخواستیں کیں لیکن سب نے سرد رویے کا مظاہرہ کیا۔ مثبت خبریں پھیلانے کا فرمان ایک طرف رکھ کر حالات دیکھیں۔عام آدمی اور ملک کے لیے اقتصادی بہتری کے دور دور تک آثار نہیں۔ کشمیر ایشو کا حشر نشر کردیا گیا۔ اسرائیل سے پیار کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں۔ ایسے میں کوئی ایٹم بم کا ذکر کر ے تو گھبرانا تو بنتا ہے۔ ویسے بھی فی الحال اس کے سوا کیا ہی کیا جاسکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.