ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل

21

آج پاکستان کی سیاسی تاریخ کی عظیم شخصیت ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کا دن ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی سیاسی کو نیا رخ دیا، ان کی سیاسی جدوجہدسے پہلی دفعہ مزدور، کسان، طلباء کو اپنے حق کیلئے جدوجہد کرنے کا سبق ملا، وہ خود ایک جاگیر دار خاندان سے تعلق رکھتے تھے مگر جب انہوں نے کسانوں کو سیاسی جدوجہد کی سبق دیا تو پاکستان کی تاریخ میں ایک نئی جہد تھی۔ انکی تاریخی جدوجہد کو جاگیرداروں نے ہی تار تار کیا ملک کے جاگیر داروں نے اپنی عافیت کو بہتر سمجھا اور وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور اپنا کھیل شروع کردیا، بھٹو کی سیاسی جدوجہد میں گو کہ ”اسلامی سوشلزم“ کسی چڑیا کا نام نہیں ہے مگر انہوں نے ملک میں اسلامی سوشلزم لانے کا نعرہ لگایا سوشلزم کا نام سن کر پاکستان میں بائیں بازو کی تنظیموں اور افراد نے بھی پی پی پی میں شامل ہوکر ذوالفقار علی بھٹو کے قریب ہوگئے ایک طبقاتی لڑائی پیپلز پارٹی اندر شروع ہوگئی، جے اے رحیم، معراج محمد خان، نیشنل اسٹوڈینٹ فیڈریشن، وہ دیگر بائیں بازو کی طاقتیں بھٹو کے گرد جمع ہو گئیں مگر آہستہ آہستہ جماعت پر جاگیر دار حاوی ہوگئے مجھے یاد ہے بی بی شہید بے نظیر دور میں ایک وزیر جدہ تشریف لائے جب میں تقریب میں پہنچا تو دیکھا ہوٹل کے باہر پی پی پی کیلئے نظمیں لکھنے والا، پاکستان میں پی پی پی کیلئے صعوبتیں برداشت کرنے والا ایک مزدور ملا میں نے پوچھا ”اندر کیوں نہیں گئے“، اسکا جواب تھا کہ ”خان صاحب ہم نے اپنے گاؤں میں درختوں کے نیچے بیٹھ کر پی پی پی اور بھٹو سائیں کیلئے کام کیا ہمارے علاقے کا جاگیر دار ہمیں غنڈوں سے پٹواتا تھا اور درخت کے نیچے بھی اجلاس نہیں کرنے دیتا تھا مگر افسوس یہ ہے کہ آج پی پی پی اقتدار میں ہے اسکے وزراء کیلئے منعقدہ تقریب میں ہمیں ہی داخلے کی اجازت نہیں ہے، میں نے کارکن کے درد کو سمجھا اور اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ کمزور اور طاقتور طبقات کی لڑائی ہے جو جاری ہے جو جاگیر دار آپکو پی پی پی کیلئے درخت کے نیچے اجلاس کی اجازت نہیں دیتا اب وہ خود بھی پی پی پی میں شامل ہوچکا ہے اور وہ آپکے طبقے کا آج بھی اسی شدت سے مخالف ہے۔ جب ہم تاریخ ِ عالم پر نظر دوڑاتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ بعض ایسی شخصیتیں جنہیں وقت کی عدالتوں نے مجرم قرار دیا، وقت کے حکمرانوں، دانشوروں اور ان کے مصاحبین نے جنہیں تختہ دار پر ایک مجرم کی موت دی، انہیں تاریخ نے مجرم کے بجائے ہیرو قرار دیا، کیوں؟ اسلئے کہ ان انسانی عدالتوں کے فیصلوں کو تاریخ کی عدالت نے مسترد کر دیا تھا کیونکہ عوام نے، جو تاریخ کی عدالت کے منصف ہوتے ہیں ’وقت کی عدالتوں کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا تھا۔ دنیا میں عدالت کی نا انصافیوں کی فہرست بہت طویل ہے، تاریخ آج تک اس کے ماتم سے فارغ نہیں ہو سکی۔ بھٹو شہید کا عدالتی بیان تاریخ کا حصہ ہے انہوں نے کہا کہ جج صاحب! یہ تاریخ کا ایک دلچسپ اور عبرت انگیز باب ہے، جس کو مرتب کرنے میں ہم دونوں یکساں طور پر مصروف ہیں۔ ہمارے حصے میں مجرموں کا کٹہرا آیا، تمہارے حصے میں جج کی وہ کرسی۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس کا م کیلئے وہ کرسی بھی اتنی ہی ضروری ہے جس قدر یہ کٹہرا۔ آؤ اس یادگار افسانہ بننے والے کام کو جلد ختم کردیں۔ کسی کو شہید یا مجرم قرار دینے والوں کویہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر مجرم تختہ دار تک نہیں پہنچتا اور تختہ دار تک پہنچنے والا ہر کوئی مجرم نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ غاصب حکمرانوں کے ہاتھوں موت کی سزا پانیوالے آزادی کے متوالوں اور عوام کیلئے جدوجہد کرنے والوں سے تاریخ بھری پڑی ہے وہ مرے نہیں بلکہ شہید ہیں اور شہید کا رتبہ تو اسلام کے اندر زندہ کا ہوتا ہے تاریخ انہیں اسی نام سے یاد کرتی ہے۔ آ ج پاکستان میں ضمیر کے جاگنے کا چرچہ ہے کچھ روز پہلے ایک کمشنر کا ضمیر جاگا اور ایسا خطرناک جاگا کہ بقول اسکے اس نے خود کشی کی کوشش کی۔ آج ہمارے ملک میں قانونی فیصلہ دینے والے، سزا دینے والے، پھانسی دینے والے قانون کے رکھوالوں کے ضمیر بھی جاگ رہے ہیں، کاش ایسا ہوتا کہ ان نامی گرامی قانون کے رکھوالوں کے ضمیر اسی وقت جاگتے جب ان پر کوئی دباؤ ہوا، تو عوام بھی انہیں ہیرو بناتی ہے، بھٹو کو پھانسی کی متنازع سزا دینے والے جسٹس آصف کھوسہ کے سسر جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم کا ضمیر جاگا تھا ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر بھیج کر انکا ضمیر جاگا بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کے 25 سال بعد؟؟؟ کیا خوب ضمیر تھا ایک لیڈر کو موت کے حوالے کردیا اور پچیس سال بعد کہہ دیا ”ہم بھٹو کو بچا سکتے تھے مگر ہم پر دباؤ تھا“ اہم فیصلہ سازوں کے منہ سے جب دباؤ کا لفظ سنتے ہیں تو عجیب لگتا ہے۔ جو ضمیر واقعات، فیصلوں کے بعد جاگے وہ کیا ضمیر ہے؟؟؟ ضمیر بہادروں کا جاگتا ہے اگر کوئی مشکل ہے مگر بہادر وہ جو اسی وقت اس کا اظہار کردے اور معاملہ عوام کی عدالت میں لے آئے، عوامی عدالت کے فیصلے بڑے ظالم ہوتے ہیں۔ جہاں تک مسٹر بھٹو کے مقدمے میں قانونی سقم یا عدالتی ناانصافیوں کا تعلق ہے اس پر قانونی ماہرین نے بہت کچھ لکھا ہے اور جہاں تک مسٹر بھٹو کیخلاف فیصلہ دینے اور دلانے والے کرداروں کے عبرتناک انجام کا ذکر ہے اس پر بھی ہر ایک کی اپنی اپنی رائے ہے۔ لیکن اس سب سے قطع نظر ایک بات یقینی ہے کہ تمام تر یکطرفہ پروپیگنڈے کے باوجود عوام نے مسڑ بھٹو کو مجرم تسلیم نہیں کیا، حالانکہ کردار کشی کے طوفان میں ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب مسڑ بھٹو کی تصویر تو ایک طرف ان کا نام تک لینے کو جرم بنا دیا گیا اور ایسے مجرموں کو کوڑے، قیدوبند، بھاری جرمانوں اور پھانسی تک کی وحشیانہ سزائیں دی گئیں۔ مارشل لائی دانشوروں نے اپنے قلم کی ساری سیاہی غلاظت میں تبدیل کردی لیکن عوام نے اس گیارہ سالہ یکطرفہ پروپیگنڈے کا جواب نومبر 88ء کے الیکشن میں ”جیوے جیوے بھٹو جیوے“ اور زندہ باد بھٹو کے فلک شگاف نعروں کی گونج کے ساتھ دیا۔ آج ہمارے ملک کی سیاست، عوام، عدالتیں، میڈیا سب تقسیم در تقسیم ہیں، اسکی وجہ سیاست میں جھوٹ کا راج، یہ راج سیاست میں پہلے بھی تھا مگر آ ج کی طرح آنکھوں میں دھول جھوکنے والا نہ تھا اب بھلا بتایئے کہ دباؤ کی شکایات کرنے والے معزز جج صاحبان اسوقت کہاں تھے جب جسٹس صدیقی نے بہادری سے دباؤ پر آواز اٹھائی تھی، جب موجودہ چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کا معاملہ اٹھایا تو ان جج صاحبان کو اسکی خبر کیوں نہ ہوئی اسوقت کی حکومت جس نے ملک میں نفرت اور جھوٹ کی بہت گہرائی کے ساتھ بنیاد رکھ دی ہے اسکے سربراہ جیل سے اور پی ٹی آئی پر قابض وکلاء کا مجموعہ دباؤ کے شکار جج صاحبان کے معاملے زور شور سے اٹھا رہا ہے مگر اسوقت کے وزیر اعظم عمران خان نے جسٹس صدیقی کے معاملے پر جنرل (ر) فیض کی حمایت کی تھی جسٹس صدیقی کا ساتھ نہیں دیا تھا اسی طرح اس جماعت کے عارف علوی نے بطور صدر جسٹس فائز عیسیٰ کو فارغ کرنے کیلئے خط و کتابت کی تھی مگر باہمت فائز عیسیٰ نے عدالتی جنگ لڑی اور کامیاب ہوئے۔ دوغلی سیاست یہ ہے کہ جن جسٹس تصدق کو نگران وزیر اعظم کیلئے نامزد کرنا چاہتے تھے انکی سربراہی میں جوڈیشنل کمیشن منظور نہیں، میں نہ مانوں والا قصہ ہے جو سیاست نہیں کہلاتی۔ اب لگتا ہے عدلیہ کے معززین نے بھی تقسیم در تقسیم کی پالیسی اپنا لی ہے جو بہت ہی خطرناک ہے، عدالتی جدول میں نہ ہونے کے باوجود عمران خان اور انکی بیگم کا توشہ خانہ مقدمہ سنکر انہیں بری کردیا۔ کاش اس بات کا خیال کرلیں کہ ہمارے ملک کاعدالتی ریکارڈ عالمی طور پر 140ممالک میں ہمارا نمبر 136 ہے جو شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں۔

تبصرے بند ہیں.