جج صاحبان کا مکتوبِ گرامی!

33

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ معزز جج صاحبان کی اجتماعی فریاد کا محرّک کچھ بھی ہو، اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ کوئی دوسری رائے نہیں کہ مطلوب فیصلے لینے کے لیے ججوں کو ڈرانے، دھمکانے یا للّچانے کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دینے کا وقت آ گیا ہے۔

لیکن خط کا معاملہ اتنا بھی سادہ و معصوم نہیں۔ اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا خوف اور لالچ سے کُلّی طور پر آزاد ججوں نے ہمیشہ عدل کی پاسداری کی ہے؟ کیا کھلی فضائوں اور مصفی ٰہوائوں میں سانس لیتے ہوئے اُن کے فیصلے رغبت و عناد سے پاک رہے ہیں؟ کیا ہمیشہ کسی دہلیز کے لیے اُن کے جبینِ نیاز میں ہزاروں سجدے نہیں تڑپتے رہتے؟ آج اگر پاکستان کی عدلیہ عالمی درجہ بندی میں 142 ممالک میں 130 نمبر اور خطے کے چھ ممالک میں سے پانچویں نمبر پر ہے تو اس کا واحد سبب وہ نہیں جس کی طرف مکتوب نویس ججوں نے توجہ دلائی ہے۔ مکتوب نویسوں میں سے سب سے سینئر، جسٹس محسن اختر کیانی 2015 میں ہائی کورٹ کے جج بنے جب نوازشریف وزیراعظم تھے۔ باقی پانچوں 2020-21 میں ہائی کورٹ کے جج بنے جب پی ٹی آئی کا ’’عہدِ انصاف پَرور‘‘ عروج پر تھا۔ 2018 میں جب عدالت کے سب سے سینئر جج نے، جسے دو ماہ بعد چیف جسٹس بننا تھا، کلمہ حق بلند کیا اور دہائی دی کہ آئی ایس آئی کے ایک جرنیل نے اُس کے گھر آ کر ایک مطلوب فیصلے کے لیے دبائو ڈالا اور لالچ دیا تو اُسے آبرو باختہ انداز میں گھر بھیج دیا گیا۔ تب مکتوب نویسِ اعلیٰ جسٹس محسن اختر کیانی ہائی کورٹ کا حصہ تھے۔ وہ خاموش رہے۔ باقی پانچ مکتوب نویس بھی پچھلے تین چار برس سے، ایک ایجنسی کی مداخلت کی دہائی دینے والے سینئر رفیقِ کار کا حشر دیکھ رہے تھے۔ کسی نے کوئی خط نہ لکھا کہ ہم بھی اِسی تجربے سے گذر رہے ہیں۔ ہمیں بھی فریق بنائو۔ تب کسی نے اُس کا حال تک نہ پوچھا۔ اُسے پُرسا تک نہ دیا۔ اس کا مکمل سماجی مقاطعہ کیے رکھا۔ اُس نے بیٹی کی شادی پر سب کو بلایا۔ کوئی ایک بھی نہ آیا۔ کسی ایک نے بھی فون پر مبارک تک نہ دی۔ کسی کو خیال نہ آیا کہ وہ صرف اپنی نہیں، اُن کی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔ یہ سب سرِ ساحل بیٹھے اُسے بھنور میں غوطے کھاتے دیکھتے اور ٹھٹھہ اُڑاتے رہے۔ دو سال کی جس محنت نے، شوکت عزیز کو کولہو میں پیس کے رکھ دیا تھا، مکتوب نویسِ اعلیٰ اُس محنت کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہو گئے اور اُسے اپنی انصاف پروری کی سب سے بڑی ترجیح بنا لیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی، ہر اُس بینچ کا معتبر رُکن رہے جس نے نوازشریف کی ہر عرضداشت بے دردی سے مسترد کر دی۔

جج بشیر کے فیصلے کے خلاف نوازشریف، مریم اور صفدر کی اپیلیں 17 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگیں۔ ابھی شوکت عزیز صدیقی نے جنرل فیض حمید قصّے کا انکشاف نہیں کیا تھا لیکن اسے ’’نامطلوب‘‘ سمجھتے ہوئے بینچ سے باہر رکھا گیا حالانکہ وہ سب سے سینئر جج تھا۔ دو رُکنی بینچ کی سربراہی جسٹس محسن اختر کیانی کو سونپی گئی۔ 25 جولائی کو انتخابات تھے، اس لیے فوری سماعت کی استدعا کی گئی۔ یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اپیل (الیکشن کے بعد) جولائی کے آخری ہفتے میں سنیں گے۔ فیصلہ صادر ہو گیا کہ انتخابات سے پہلے نوازشریف اور مریم باہر آئیں گے نہ جنرل فیض حمید کی دو سال کی محنت پر کوئی آنچ آئے گی۔ دوسری استدعا یہ کی گئی کہ انتخابات کے پیش نظر، اپیل کے حتمی فیصلے تک، یہ سزائیں معطل کر دی جائیں۔ اِسی بینچ نے اسے بھی مسترد کر دیا۔ تیسری درخواست یہ گذاری گئی کہ باقی ماندہ مقدمات جج بشیر کے بجائے کوئی اور عدالت سنے۔ یہ بھی مسترد ہو گئی۔ اس سے قبل دسمبر 2017 میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف یہ اپیل بھی مسترد کر دی گئی کہ نیب کے تینوں ریفرنسز یکجا کر دئیے جائیں۔ جسٹس کیانی اُس دو رُکنی بینچ کا بھی حصہ تھے۔ فروری 2019 میں نوازشریف کی بگڑتی صحت کے پیش نظر طبی بنیادوں پر دائر ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ جسٹس کیانی اُس بینچ میں بھی شامل تھے۔ جون 2019 میں طبّی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دینے والے دو رُکنی بینچ کا ایک معزز رُکن جسٹس کیانی بھی تھے۔ 24 جون 2019 کو ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز کے خلاف اپیلیں مسترد کر دی گئیں۔ اب کے بھی جسٹس کیانی دو رُکنی بینچ کا حصہ تھے۔ اُس دن انہوں نے نوازشریف کے بارے میں جو ریمارکس دیے، وہ ایک الگ کالم مانگتے ہیں۔ ممکن ہے مکتوب نویسوں کی قیادت کرنے والے جسٹس محسن اختر نے یہ سب فیصلے میرٹ کی بنیاد پر کیے ہوں۔ ممکن ہے ’’دو سالہ محنت‘‘ کے تحفظ کے لیے شوکت عزیز کو نمونۂِ عبرت بنا دینے والا قبیلہ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں دریافت ہونے والے شاہ اللہ دتہ کے غاروں میں طویل اعتکاف میں بیٹھ گیا ہو جو آج پھر تازہ دم ہو کر باہر نکل آیا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے عمران خان پر اَبرِ نو بہار کی طرح برستے فیصلوں کی کہانی پھر سہی۔

جسٹس صاحبان کے مقدس مکتوب سے کئی اتفاقات بھی جڑے ہیں۔ ایک دِن قبل بشریٰ بیگم اڈیالہ جیل میں پیشی کے دوران، خلاف معمول، گرجیں برسیں۔ چیف آف آرمی سٹاف، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی سی کا نام لے لے کر کوسنے دئیے اور بغاوت کا سماں باندھا۔ کیا اُنہیں خبر تھی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اُفق سے کوئی چاند طلوع ہونے کو ہے؟ اُدھر سائفر کیس کی اپیل اِسی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چل رہی تھی۔ 190 ملین پائونڈ کا مقدمہ کنارے آ لگا تھا۔ 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں سنانے کا مرحلہ آن پہنچا تھا۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں بارے مقدمے کی سماعت شروع ہو چکی تھی۔ آئی ایم ایف سے معاملات طے پا رہے تھے۔ پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ اور عدالتوں پر شدید گولہ باری شروع کر رکھی تھی۔ یہ تھا وہ ماحول جس میں یکایک چھ معزز ججوں کا مکتوب نمودار ہوا اور پی ٹی آئی کے آتشیں پراپیگنڈے پر منوں تیل ڈال گیا۔ خط نمودار ہونے سے دو دِن پہلے ہی مخصوص پہچان رکھنے والے اکائونٹس سے ٹویٹس آنے لگے … ’’لاوہ پک چکا‘‘، ’’بڑا دھماکہ ہونے کو ہے‘‘، ’’پریشر ککر پھٹنے والا ہے۔‘‘ پھر مقدس مکتوب ’لیک‘ کر دیا گیا۔ حُسن اتفاق یہ کہ یہ امریکی میگزین ’’انٹرسیپٹ‘‘ (Intercept) سے وابستہ اُسی معروف صحافی تک جا پہنچا جس نے 5 جون 2023 کو عمران خان سے زمان پارک میں ’سائفر‘ کے موضوع پر انٹرویو کیا تھا۔ وزیراعظم ہائوس سے گم ہو جانے والے سائفر کا پورا متن بھی 9 اگست 2023 کو اِسی میگزین میں شائع ہوا تھا۔ ابھی ’’مکتوب مقدس‘‘ سپریم جوڈیشل کونسل تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ ’’انٹر سیپٹ‘‘ تک پہنچ گیا۔ امریکی سٹیٹ آفس کی معمول کی بریفنگ شروع ہی ہوئی تھی کہ مذکورہ صحافی نے چھ ججوں کے مکتوب پر سوال داغ دیا۔ پاکستان کے چہرے پر کالک تھونپنے والے فتنہ گروں کو وافر سامان میسّر آ گیا تھا۔ اسے بھی اتفاق ہی کہنا چاہیے کہ ’’ایجنسیوں‘‘ کے جبر کی دلیل کے طور پر صرف عمران خان کی مبیّنہ بیٹی ٹیریان کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جن دو ججوں نے اسے ناقابلِ سماعت ہونے کی رائے دی اُنہیں ہراساں کیا گیا۔

مکتوب نویسوں نے بے چارگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا … ’’ہر جج قاضی فائز عیسیٰ اور شوکت عزیز صدیقی کی طرح بہادر نہیں ہوتا۔‘‘ بجا … لیکن کسی جج کو اتنا بھی کمزور و نحیف نہیں ہونا چاہیے کہ کسی نامعلوم فون پر اُس کا فشارِ خوں خطرناک حد تک بڑھ جائے اور اُسے ہسپتال لے جانا پڑے۔ جس کو جان و دل اتنے ہی عزیز ہوں، اُسے اس گلی میں جانا ہی نہیں چاہیے۔ روزی کمانے کے اور وسیلے بھی ہیں۔

تبصرے بند ہیں.