ایک عظیم لیڈر کی داستان

22

میرے آج کے کالم کا عنوان آپ کے سامنے ہے، دنیا کے عظیم ترین لیڈر، عظیم ترین سیاست دان، عظیم ترین سفارتکار، عظیم ترین سپہ سالار اور عظیم ترین معلم پر لاکھوں کروڑوں سلام۔

پیارے پڑھنے والو!

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں کوئی بھی میڈیا ہو وہاں سے اسلامک ایشوز پر بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے۔ ان میں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو بغیر تحقیق کے سامنے لائی جاتی ہیں اور اسلامک پوسٹیں لگانے والے یہ نہیں سوچتے کہ وہ اپنی طرف سے پوسٹ تو لگا دیتے ہیں لیکن اس کا اثر بعض اوقات پڑھنے والے پر برا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں تاجر برادری لاہور کے روح رواں انجینئر محمد یوسف وسیم جوکہ لاہور چیمبر کے ای سی ممبر بھی ہیں اور وہ آئندہ دو تین ماہ کے اندر پاکستان میں ’’براق‘‘ برینڈ کے نام سے ایک جدید ٹریکٹر لانچ کرنے والے ہیں۔ محمد یوسف کے بارے میں اگر صرف یہ لکھ دیا جائے کہ اگر عاجزی، انکساری، محبت بھری گفتگو، ہر انداز میں پیار، ہر بات میں محبت سیکھنی ہو تو پھر وہ محمد یوسف سے ضرور ملے کہ وہ اپنی دنیا کا ایک ایسا انوکھا انسان ہے جو اسلامک ایشوز پر بڑی مضبوطی کے ساتھ نہ صرف بات کرتا ہے بلکہ اس کا پیغام ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو اسلامک ایشوز ہیں ان کو تحقیق کے بغیر پوسٹ نہ کیا جائے انہوں نے گزشتہ روز مجھے ایک پوسٹ بھیجی اور ان کی گزارش تھی کہ آپ اپنے کالم کے ذریعے اس پیغام کو جہاں تک پہنچا سکتے ہیں پہنچا دیں۔ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنے اختتام کی طرف رواں دواں ہے اور ہمیں بحیثیت قوم آج جن سنگین بحرانوں کا سامنا ہے اس کے لئے ہمیں ایک ایسی لیڈرشپ کی ضرورت ہے جو کم از کم اس ملک کو نبی پاکؐ کے افکار کے مطابق ایک بہترین منتظم کی ضرورت ہے جو نظامت سے کم از کم ملک کے حالات کو سنوار سکے۔

انجینئر محمد وسیم یوسف نے مجھے جو تحریر بھیجی وہ من و عن اس کالم کی زینت بنا رہا ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچ سکے۔ مضمون کا عنوان ہے ’’ایک عظیم لیڈر کی داستان‘‘ ملاحظہ فرمایئے۔

ہم نے چار شادیوں پر زور دیئے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ رسول پاکؐ نے اپنی جوانی کے 25 سال ایک ہی عورت کے ساتھ گزارے اور حضرت سودہؓ سے دوسری شادی حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد کی۔ ہم نے یہود نصاریٰ کی دشمنی کا راگ الاپے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ میثاق مدینہ کے وقت یہودیوں کے دس قبائل تھے اور وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتحادی تھے۔ فرانس نے گستاخی کی تو ہم نے اپنے ہی ملک میں آگ لگا دی لیکن یہ کبھی نہ بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنان اسلام کو معاشی طور پر کمزور کرکے اپنی دھاک بٹھائی۔

مشرکین مکہ تاجر تھے اور تجارت کی غرض سے شام جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شمال کی راستے پر واقع قبائل سے دوستیاں کیں اور مشرکین مکہ کی تجارت کا راستہ بند کروایا۔ جب وہ جنوب کے راستے یمن جانے لگے تو آپ نے وہاں کے باشندوں سے معاہدے کر کے اہل قریش کا راستہ روک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہی ملک کو آگ نہیں لگائی تھی بلکہ دشمن کو معاشی طور پر کمزور کرکے اس کی کمر توڑ دی۔ نوبت فاقوں تک پہنچی تو ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا کہا کہ ان کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچ سو اشرفیوں کے ساتھ بہترین کھجوریں دیتے ہوئے تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔ یعنی اہل قریش دشمن بن کر آئے تو آپ نے ان کی کمر توڑ دی لیکن وہی دشمن بطور انسان رحم کی بھیک مانگنے آئے تو آپ نے ان کی مدد کی۔

مجھ میں اتنی تاب نہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور نبی سمجھ سکتا لہٰذا میں نے آپ کو بطور انسان سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے جانا:
آپؐ ایک عظیم مدبر تھے، آپؐ نے اپنی تدبیر سے صلح حدیبیہ جیسے معاہدے کئے جو بظاہر مسلمانوں کو کمزور کرنے والے تھے، لیکن وہی معاہدے آپ کے لئے فتح مکہ کا باعث بنے۔ آپؐ نے دشمنوں کی جاسوسی کے لئے حضرت ابو ہریرہؓ کی ڈیوٹی لگائی تاکہ دشمنان کے ارادے جان سکیں۔

آپؐ ایک عظیم سفارتکار تھے۔ آپ نے اپنے دشمن کے دوستوں سے دوستیاں کی تاکہ ان کا اثر کم ہوسکے۔ مدینہ کے شمال میں خیبر اور جنوب میں مکہ تھا اور ان دونوں شہروں کے باشندے مسلم مخالف تھے۔ آپؓ نے کمال ذہانت سے صلح حدیبیہ میں اہل مکہ سے وعدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کی کسی جنگ میں دشمن کا ساتھ نہ دیں گے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپؐ نے خیبر اور اہل مکہ کے مشرکین کو جدا کر کے شکست دی۔
آپؐ ایک کمال سپہ سالار تھے۔ مدینہ شہر کے تینوں اطراف پہاڑ تھے اور واحد زمینی راستہ پر آپؐ نے خندق کھود کر مدینہ کو آنچ نہ آنے دی۔ آپؐ نے یہودیوں کے دس قبائل سے معاہدے کئے کہ وہ اپنے مختلف مذہب کے باوجود مسلمانوں کی جنگی مدد کریں گے اور جنگی اخراجات مل کر برداشت کریں گے۔

آپؐ ایک بہترین منتظم تھے، آپؐ نے اپنی بہترین نظامت سے ایک اسلامی ریاست کو بام عروج پر پہنچایا۔ آپؐ نے پولیس اور انصاف کا نظام متعارف کروایا اور مجرم کو گردن سے پکڑنے کی ذمہ داری حضرت علیؓ کے سپرد کی۔ آپؐ نے مختلف ریاستوں کے گورنر نامزد کئے اور ان سے خط و کتابت سے امور مملکت جانتے رہے۔

آپؐ ایک بہترین معلم تھے، آپؐ نے کچھ نہ ہونے کے باوجود صفہ کا قیام عمل میں لایا اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کا نظام واضع کیا۔ میں کیا، دنیا کا کوئی فلسفی، کوئی دانشور یا کوئی محقق دنیا کی عظیم ترین شخصیات کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے افضل پاتا ہے۔

لیکن… ہم نے اپنے نبیؐ کے مقام و مرتبہ کے ساتھ ناانصافی کی۔ ہم ساری زندگی چاند کو توڑنے اور واقعہ معراج جیسے معجزات بیان کرتے رہے، لیکن بطور بشر آپؐ کے کمالات کو کبھی بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بالکل ایسے جیسے امام حسینؓ کے واقعہ کربلا کے علاوہ کسی کو امام کی ذات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور نبی معجزات سے نہیں بلکہ بطور بشر تن تنہا، ایک ایسی ریاست کا قیام عمل میں لائے جسے دیکھ کر قیصر و قصریٰ اور فارس کے محلات بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ پھر وہ وقت آن پہنچا، جب دنیا کا عظیم ترین انسان میدان عرفات میں لاکھوں کے جھرمٹ میں یہ اعلان کر رہا تھا:

’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ (آج کے دن دین مکمل ہوگیا)۔ گویا وہ بشریٰ معراج پر پہنچ چکے تھے اور اس کے بعد یہ سلسلہ قیامت تک کے لئے بند کردیا گیا۔

دنیا کے عظیم ترین لیڈر، عظیم ترین سیاست دان، عظیم ترین سفارتکار، عظیم ترین سپہ سالار اور عظیم ترین معلم پر لاکھوں کروڑوں سلام۔

تبصرے بند ہیں.